کیا تکفیر ہی دین کی خدمت ہے؟
(سوال اپنی جگہ کیوں قائم ہے؟)
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (78)
وضاحت پیشِ خدمت ہے - - یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ زیرِ بحث مضمون نہ کسی مسلک کو نیچا دکھانے کے لیے ہے، نہ اہلِ سنت والجماعت (بریلوی) کی نیت پر حملہ، بلکہ یہ ایک عملی تضاد کی نشان دہی ہے جو زمین پر روزانہ دیکھی جا سکتی ہے۔
جوابیہ مضمون نے اسے ؛؛ پورے مسلک پر الزام ؛؛ قرار دیا، حالانکہ سوالیہ مضمون میں بار بار عملی رویّے (Practical Pattern) کی بات کی گئی ہے، نہ کہ کسی مرکزی ادارے کے تحریری فتوے کی۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے:
فتویٰ کی کتابیں ایک چیز ہیں،
اور عوام میں رائج مسلکی بیانیہ دوسری چیز۔
پہلا بنیادی سوال:
کیا ؛؛ سب سے زیادہ تکفیر ؛؛ کادعویٰ واقعی بے بنیاد ہے؟جوابیہ مضمون میں کہا گیا کہ. کوئی احصائی ثبوت، کوئی مرکزی فتویٰ پیش نہیں کیا گیا؛؛ 
یہ اعتراض اصولی طور پر کمزور ہے، کیونکہ:سوالیہ مضمون فقہی مقدمہ نہیں بلکہ سماجی و فکری تجزیہ ہے جو عام ذہنوں میں روزبروز بڑھتا جارہا ہے یہاں ؛؛ تکفیر ؛؛ سے مراد:منبر سے دیوبندی کو ؛؛ وہابی ؛؛ کہنا اہلِ حدیث کو ؛؛ گمراہ ؛ ؛ نہیں بلکہ ؛؛ کافر ؛؛ کہنا جماعتِ اسلامی کو ؛؛ منکرِ رسالت کے ہمنوا ؛ ؛ کہنا یہ سب وہ القابات ہیں جو تحریری فتووں سے زیادہ مؤثر ہوتےہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ:. یہ سب افراد کرتے ہیں، مسلک نہیں ؛؛ تو پھر سوال یہی ہے:ان افراد کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی؟ان کے بیانات پر براءت کیوں نہیں آتی؟خاموشی خود ایک موقف بن جاتی ہے۔
قرآن کی آیات اور ؛؛ سیاق ؛ ؛کا اعتراض جوابیہ مضمون نے کہا کہ:
؛ وَاعْتَصِمُوا… اور وَلَا تَنَازَعُوا… کوغلط سیاق میں لیا گیا؛ یہ اعتراض خود جزوی درست اور کلی غلط ہے۔درست اس معنی میں کہ:
آیات کا فوری سیاق عسکری یا اجتماعی ہے غلط اس معنی میں کہ:
قرآن کی آیات اصولی قاعدے بھی دیتی ہیں امت کے مفسرین نے کبھی یہ نہیں کہا کہ:؛ یہ آیات صرف جنگ تک محدود ہیں؛ اگر ایسا ہوتا تو:
فرقہ واریت مسلکی تصادم
ایک دوسرے کی تکفیر سب قرآن کے دائرۂ نصیحت سے باہر ہو جاتے۔
حالانکہ قرآن نے صاف کہا:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ
(الحجرات: 10)
یہ آیت کسی خاص سیاق کی قید میں نہیں۔
نکاح کا سوال: اصل تضاد کہاں ہے؟
یہ وہ نکتہ ہے جسے جوابیہ مضمون حل نہیں کر سکا۔
جواب دیا گیا کہ:
جب تک کفر قطعی نہ ہو، تکفیر نہیں کی جاتی؛ 
یہ بات فقہی کتابوں میں درست ہے،
لیکن سوالیہ مضمون کتابوں کی نہیں، میدانِ عمل کی بات کر رہا ہے۔
اگر:
عوامی بیانات میں
تقاریر میں
سوشل میڈیا پر
مناظرانہ ادب میں
دیوبندی، اہلِ حدیث، جماعتِ اسلامی کو:
؛؛ کافر، گستاخ، منکرِ رسالت ؛؛ کہا جاتا ہے
تو پھر:
یا تو:
یہ الفاظ واپس لیے جائیں
یا پھر:
نکاح، معاشرت، مسجد، سلام
سب پر فقہی نتائج لاگو کیے جائیں۔
دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔اور یہی وجہ ہے کہ کہا گیا:
یہ زبان کی لغزش نہیں، ایمان کا جوا ہے
حدیثِ تکفیر اور ؛؛ غلط استعمال ؛؛ کا الزام
جوابیہ مضمون نے کہا:
؛؛ یہ حدیث بے جا تکفیر کے لیے ہے ؛؛
یہ بات مان لی گئی۔
مگر سوال یہ ہے:
فی الواقع آج جو تکفیر ہو رہی ہے،
کیا وہ بے جا نہیں؟
کیا ہر عام دیوبندی عالمِ کفر کی تفصیلات جانتا ہے؟
کیا ہر اہلِ حدیث نوجوان ؛؛ منکرِ شانِ رسالت ؛؛ ہے؟
کیا جماعتِ اسلامی کا ہر رکن ؛؛ تحریفِ دین ؛؛ کا قائل ہے؟
اگر نہیں - 
تو پھر یہ تکفیر بے جا ہی ہوئی۔
؛؛ تقیہ ؛؛ کا لفظ: اصل اعتراض کیا تھا؟
سوالیہ مضمون میں ؛؛تقیہ ؛؛ کو:
عقیدے کے طور پر نہیں
بلکہ عملی تضاد کی مثال کے طور پر استعمال کیا گیا
مراد یہ تھی کہ:زبان پر کچھ، عمل میں کچھ یہ طرزِ عمل دینی نہیں، سیاسی یا سماجی مصلحت ہے۔
اگر یہ بات سخت لگی، تو اس کا جواب دلائل سے دیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ نیت پر حملہ قرار دے کر۔
اصل سوال بدستور قائم ہے
جوابیہ مضمون طویل، علمی اور مدلل ہونے کے باوجود اس بنیادی سوال کو ختم نہیں کر سکا:
اگر دوسرے مسالک واقعی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں
تو ان کے ساتھ:
نکاح کیوں؟
امامت کیوں؟
سلام کیوں؟
معاشرت کیوں؟
اور اگر یہ سب جائز ہے، تو پھر:
؛؛ کافر ؛؛ کہنے کی زبان کیوں نہیں رُکتی؟
یہ تحریر کسی مسلک کے خلاف نہیں، بلکہ ایک امت کے حق میں سوال ہے۔
یہ مطالبہ نہیں کہ:
اختلاف ختم ہو جائے
بلکہ یہ سوال ہے کہ:
اختلاف کو تکفیر کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اور یہی وجہ ہے کہ سوالیہ مضمون اپنی جگہ قائم ہے، کیونکہ:
جواب جذبات کا تھا،
سوال عمل کا ہے۔
اور عمل کا تضاد ابھی تک حل نہیں ہوا۔
بقلم: ایک دردمند، محمودالباری. 
جو امت کو توڑنا نہیں
جوڑنا چاہتا ہے۔
mahmoodulbari342@gmail.com