تنقید یا تحقیر؟ قلم کار کی محنت اور قاری کی ذمہ داری
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (77)
کوئی بھی مقالہ یا مضمون محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے جدوجہد، مطالعہ، فکر اور انتھک محنت چھپی ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب تحریر علمی ہو، دلائل کے ساتھ ہو، اور کسی حساس موضوع پر ہو تو محنت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہم جیسے ناتواں قلم کاروں کو تو بعض اوقات ایک ہی مضمون کو وجود میں لانے کے لیے کئی کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں فطری طور پر امید ہوتی ہے کہ جب یہ تحریر منظرِ عام پر آئے گی تو:کچھ حوصلہ افزائی ہوگی،کچھ مثبت تبصرہ ہوگا،یا کم از کم اسپیغام پر علمی گفتگو ہوگی جو مضمون میں اجاگر کیا گیا ہے۔مگر افسوس! اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
آج ہی میں نے ایک ایسا مضمون شائع کیا جو نہایت حساس اور علمی گفتگو پر مشتمل تھا، اور جس میں امت کے بیمار حالات کی نبض پر ایک تجرباتی مگر مخلص انجکشن لگایا گیا تھا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا؟
کتنے لوگوں نے پورا مضمون پڑھا؟
کتنوں نے اصل موضوع پر بات کی؟
بلکہ بر عکس ردِعمل یہ تھا کہ کسی ایک جملے کو پکڑ کر الزامی تبصرہ کر دیا گیا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ. کوئی جملہ یا لفظ کسی ایک انسان کی جاگیر نہیں ہوتا.
اللہ تعالیٰ جس پر چاہے فہم و انشراح عطا کر دیتا ہے، علم کسی عام شخصوں میں ذاتی شخص کی میراث نہیں۔
ہاں، یہ بات درست ہے کہ کسی کتاب یا کسی مصنف کا مکمل عبارتی متن اس کی خاص ملکیت ہوتا ہے، مگر کسی کے خیال یا اسلوب سے متاثر ہو کر اپنی زبان میں کوئی بات کہنا سرقہ نہیں، بلکہ علمی استفادہ ہے۔
ضمناً تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض ہے کہ مظاہرِ علوم سہارنپور سے عالمیت مکمل کرنے کے بعد، بحمداللہ عربی مدرس، امام و خطیب کی حیثیت سے، حالات کے نشیب و فراز اور دیگر مجبوریوں کے باوجود، میری زندگی اب تک مدارس سے وابستہ رہ کر گزرتی آ رہی ہے۔
عمومی طور پر ایسی باتوں کے اظہار سے گریز کرتا ہوں، تاہم بعض اوقات مجبوری کے تحت مناسب حد تک وضاحت ضروری ہو جاتی ہے۔
الغرض : میرے مضمون ( کیا تکفیر ہی دین کی خدمت ہے؟ (علمائے بریلوی سے سوال )
میں یہ جملہ لکھا گیا تھا:
. یہ زبان کی لغزش نہیں، ایمان کا جوا ہے۔
چونکہ یہ جملہ وزنی اور اثر رکھتا ہے، اس لیے بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ کہیں سے لیا گیا ہوگا، یعنی مسروقہ ہے۔
حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔یہ جملہ:کسی کتاب کا اقتباس نہیں،
کسی معروف مصنف کا قول نہیں،
بلکہ ایک فکری تعبیر ہے جو حدیث کے مفہوم سے اخذ ہو کر وجود میں آئی۔
یہ اعتراض دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ جملہ اثر کر گیا، اور اثر کرنے والی بات اکثر لوگوں کو اپنی نہیں لگتی۔
علم میں اصل چیز یہ نہیں کہ بات پہلی بار کس نے کہی، بلکہ یہ ہے کہ: بات درست ہے یا نہیں؟
مفید ہے یا نہیں؟امت کے لیے خیر رکھتی ہے یا نہیں؟۔یہ کہنا کہ یہ خیال فلاں کا تھا. اس لیئے تم نہیں کہ سکتے. علم نہیں بلکہ ذہنی تنگی ہے. آدمی جہاں سے بھی درست، معتبر اور مضبوط علمی استفادہ حاصل کرے، وہ قابلِ قبول ہے۔
محض یہ کہہ دینا کہ یہ بات کسی ایپ سے لی گئی ہے، اس لیے اسے بیان نہیں کیا جا سکتا—یہ طرزِ فکر خود علمی اصولوں کے خلاف ہے۔
البتہ یہ بات بجا ہے کہ کسی ایک ذریعے پر کلی اعتماد کر لینا، اور اسے ہی علم کا واحد مآخذ سمجھ لینا، علمی دیانت کے منافی اور علم کے ساتھ زیادتی ہے۔
مگر کسی تحریر یا خیال کو بغیر تحقیق، محض شبہے کی بنیاد پر ان ایپس کی طرف منسوب کر کے رد کر دینا - یہ علم نہیں ۔
تحقیق نہیں، بلکہ محض مفروضہ اور بدگمانی ہے، جو علمی مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔
لہٰذا ایسے لغو، سطحی اور بے کار تبصروں کے بجائے بہتر یہ ہے کہ؛
قلم کار کی حوصلہ افزائی کی جائے،
اگر اختلاف ہو تو علمی تنقید کی جائے،
اور اگر کوئی کمزوری ہو تو مہذب اصلاح کی جائے۔کسی کی نیت پر حملہ کرنا،کسی ایک جملے کو پکڑ کر پوری تحریر کو رد کر دینا،یہ نہ علم ہے، نہ دیانت، نہ اخلاق۔
آخرکار یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ:
محنت کا صلہ دینے والا کوئی انسان نہیں، بلکہ اللہ کی ذات ہے۔
اور وہ نیت کے مطابق اجر دیتا ہے،
چاہے دنیا تعریف کرے یا الزام لگائے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com