*کیا تکفیر واقعی اہلِ سنت (بریلوی) کی پہچان ہے؟*

یہ تحریر کسی جذباتی نعرے، مسلکی جوش یا شخصی حملے کے لیے نہیں، بلکہ اصولی، قرآنی، حدیثی اور فقہی وضاحت کے لیے پیش کی جا رہی ہے مقصد دفاعِ حق ہے، نہ کہ کسی کی نیت پر حملہ، تاہم یہ بھی واضح رہے کہ جب پورے ایک مسلک پر تکفیر، منافقت اور دوہرے معیار کی تہمت عائد کی جائے تو خاموشی علمی دیانت نہیں رہتی بلکہ فکری کمزوری بن جاتی ہے، سب سے پہلے یہ بنیادی حقیقت طے کرنا ضروری ہے کہ اہلِ سنت والجماعت (بریلوی) خود کو امت کو جوڑنے والا مسلک سمجھتے ہیں، مگر یہ جوڑ حق کے گرد ہوتا ہے، نہ کہ عقائد کی سرحدیں مٹا کر، اسی نکتے کو نظر انداز کر کے ساری بحث کھڑی کی گئی ہے۔
سب سے پہلا اور بنیادی دعویٰ یہ کیا گیا کہ *عملی طور پر سب سے زیادہ تکفیر بریلوی علماء کی طرف سے ہوتی ہے* یہ جملہ بظاہر وزنی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک غیر مستند الزام ہے، کیونکہ نہ اس کے ساتھ کوئی احصائی ثبوت ہے، نہ اجتماعی فتاویٰ کی فہرست، نہ کسی مرکزی سنی ادارے کا متفقہ فیصلہ، سوال یہ ہے کہ وہ کہاں ہیں وہ فتاویٰ جن میں دیوبندی، اہلِ حدیث یا جماعتِ اسلامی کو بطورِ مسلک مطلق کافر کہا گیا ہو؟ اگر ایسا کچھ موجود نہیں تو پورے مسلک کو تکفیر کا سب سے بڑا منبع کہنا علمی انصاف نہیں بلکہ الزام ہے، اس کے برخلاف اہلِ سنت کے اصولی فتاویٰ میں ہمیشہ کفرِ قول اور کفرِ قائل میں فرق رکھا گیا ہے، یعنی کسی قول کو کفر کہنا اور کسی معین شخص کو کافر قرار دینا دو الگ چیزیں ہیں، اور یہی فرق بہت سے دوسرے حلقوں میں عملاً مفقود نظر آتا ہے۔
اس کے بعد قرآن کی آیاتِ وحدت پیش کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ ہر عقیدتی اختلاف امت کو توڑنے کے مترادف ہے، بلاشبہ قرآن کا حکم ہے *وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا* مگر یہ حکم ایمان کے بنیادی اصولوں پر اجتماع کا ہے، نہ کہ ہر فکری اور عقیدتی انحراف پر خاموشی اختیار کرنے کا، اگر یہ آیت ہر اختلاف کو ممنوع قرار دیتی تو خوارج سے قتال کیوں ہوا، جھوٹے مدعیانِ نبوت سے جہاد کیوں کیا گیا، اور باطل عقائد کے رد میں قرآن و سنت میں اتنی سخت تنبیہات کیوں آئیں؟ خود قرآن فرماتا ہے *وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ* یعنی حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو، اس سے واضح ہوتا ہے کہ حق پر اجتماع وحدت ہے، جبکہ باطل پر خاموشی فتنہ ہے۔
اسی طرح آیت *وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا* کو عقائد کی سرحد مٹانے کے لیے پیش کیا گیا، حالانکہ اس کا سیاق سیاسی اور عسکری نزاع ہے، جیسا کہ غزوات کے پس منظر میں واضح ہے، سیاقِ قرآن سے ہٹ کر آیات کو عمومی نعروں کے لیے استعمال کرنا خود ایک علمی غلطی ہے، کیونکہ قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے،میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ نہ کہا جائے کہ پھر ان آیات کا کیا ہوگا جن کی صراحت احادیث نبویہ ﷺ سے ملتی ہے، کیونکہ بات مذکورہ آیت کی ہے جس کا سیاق سباق خود اس چیز کا قائل ہے۔
نکاح اور معاشرت کے مسئلے میں سب سے بڑا فکری مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ چونکہ اہلِ سنت دوسرے مسالک کے ساتھ نکاح اور معاشرت رکھتے ہیں، اس لیے وہ انہیں دل سے مسلمان مانتے ہیں، اور زبان سے کافر کہتے ہیں،یہ استدلال غلط اور موضوع کی تنبیہ کی ہوئی بات کے منافی ہے،یہ استدلال اس لیے غلط ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک انسانوں کے تین واضح درجے ہیں *صحیح العقیدہ مسلمان، بدعت یا گمراہی میں مبتلا مسلمان (جو کافر نہیں)، اور صریح و قطعی کافر* اہلِ سنت کے فتاویٰ فقط تکفیر نہیں بلکہ تضلیل یا تبديع کے بھی ہیں، اس بنیادی فرق کو مٹا کر پورے مسلک پر تکفیر کا الزام لگانا علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں،اگر تکفیر کی بات بھی کی جائے تو داعی کو وہ عبارات پیش کرنا چاہیے تھیں، جس کی بنا پر علماء اہلسنت(بریلوی) نے تکفیر کا حکم عائد کیا ہے،ان کو پش پشت ڈال کر فقط اسکو عوام کی نظر کرنا یہ فکری غلطی ہے۔
اسی تناظر میں نکاح کا اعتراض اٹھایا گیا کہ اگر واقعی دوسرے کافر ہیں تو نکاح کیوں؟ اس کا جواب فقہِ اسلامی کا ایک مسلم اصول ہے کہ جب تک کفر قطعی، صریح اور اجماعی نہ ہو، تکفیر نہیں کی جاتی، اسی بنا پر عام لوگوں(دیوبندی) یا دوسرے مسالک والے کو کافر نہیں کہا جاتا بلکہ انہیں عام مسلمان سمجھا جاتا ہے جب تک انہیں ان عقائد کا ادراک نہ ہو جس کی بنا پر کفر یا گمراہی کا فتوی دیا گیا ہے، یہ طرزِ عمل تقیہ یا منافقت نہیں بلکہ احتیاطِ شرع اور اصولِ فقہ کا تقاضا ہے۔
حدیثِ تکفیر کو بھی سیاق سے ہٹا کر پیش کیا گیا، حالانکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ *اگر کوئی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک پر لوٹتی ہے* بے جا، غلط اور ناحق تکفیر کے بارے میں ہے، نہ کہ دلائل کے بعد کسی قول یا عقیدے کو کفر قرار دینے کے بارے میں، اگر یہ حدیث ہر قسم کی تکفیر کو منع کر دیتی تو فقہائے امت، ائمہ اربعہ، امام غزالی، امام نووی اور دیگر اکابر کا کفر پر تفصیلی کلام خود سوالیہ نشان بن جاتا، درحقیقت یہ حدیث بے بنیاد تکفیر کی نفی کرتی ہے، علمی اور اصولی حکم کی نہیں۔
اسکو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ زید ایک ایسا انسان ہے جس کا کفر واضح ہے،تو کیا اب زید پر کفر کا حکم لگانا غلط ہوگا نہیں بلکہ اس پر حکم عائد کرنا اور اس سے کلمے اور اس کے کفری کلام سے رجوع کرایا جائے گا، نہ کہ یہ کہ کر چھوڑ دیا جائے گا کہ زید کل مسلمان تھا آج کفر کا فتوی لگا کر آپ خود کفر میں شامل ہو رہے ہیں۔
اہلِ سنت کے محتاط اور اصولی طرزِ عمل کو شیعہ کی طرح تقیہ کہہ دینا خود ایک فتنہ انگیز الزام ہے، یہ نہ علمی ہے، نہ اخلاقی، بلکہ اس میں ایک پورے مسلک کی نیت پر حملہ اور شیعہ طعن کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا گیا ہے، یہ انداز اصلاح یا مکالمے کا نہیں بلکہ تحقیر اور اشتعال کا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اختلاف موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر اختلاف کو چھپا دینا دین کی خدمت ہے؟ اگر نبی کریم ﷺ کی شان گھٹائی جائے، علمِ غیب(عطائی) رسول ﷺ کا انکار کیا جائے، یا اولیاء کی توہین کو توحید کا نام دیا جائے، تو کیا محض وحدت کے نام پر خاموشی اختیار کر لی جائے؟ اہلِ سنت اس کا جواب واضح طور پر نفی میں دیتے ہیں، کیونکہ یہ وحدت نہیں بلکہ تحریفِ دین ہے۔
اور رہا وہ دعوی کہ علماء اہلسنت(بریلوی) کی جانب سے اکثر کفر کا حکم کیا جاتا ہے،پوچھنا یہ ہے کیا علماء دیوبند بریلوی پر کفر کا فتوی نہیں لگاتے،یا علماء دیوبند شیعہ رافضی تفضیلی،اور دیگر مسالک والوں پر خاموش ہیں، کافر تو انہوں نے بھی کہا ہے،اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ سب پر عیاں ہے، میرا کہنا تو یہ کہ یہ سب مسلکی سیاست ہے، خود ایک غیر علمی بیانیہ ہے، علمی اختلاف کو نفسیاتی مرض کہنا اور عقیدے کی حفاظت کو اقتدار سے جوڑ دینا دراصل ایک سیاسی تعبیر ہے، علمی تجزیہ نہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت (بریلوی) نہ امت کو توڑنے والے ہیں، نہ ہر مخالف کو کافر کہنے والے، اور نہ ہی ان کی فقہ دوہرے معیار پر قائم ہے، وہ کفر وہاں کہتے ہیں جہاں واقعی کفر ہو، اور خاموشی وہاں اختیار کرتے ہیں جہاں مسئلہ اجتہادی ہو، یہی توازن اہلِ سنت کے منہج کی اصل پہچان ہے۔
میں ان تمام باتوں کو پس پشت ڈال کر خاموشی سے اپنے مضامین کو شائع کرنا چاہتا تھا، لیکن جب راستہ کھول دیا جائے،علماء اہل سنت کو نشانہ بناکر عمدہ انداز میں غلط تأثرات کا مرتکب بنایا جائے پھر میری غیرت بھی یہ گوارہ نہیں کرتی کہ خاموش رہا جائے،اور یقینا یہاں خاموش رہنا میری کمزوری ہے،کیونکہ یہی تأثرات مجھے بھی اپنی زد میں لے لیتے ہیں۔
اے اللہ ہمیں الزام کے بجائے انصاف، نعرے کے بجائے علم، اور نفرت کے بجائے بصیرت عطا فرما، اور ہمیں حق پر قائم رکھتے ہوئے امت کے لیے خیر کا ذریعہ بنا،ہمارے درمیان میں اتفاق اور اتحاد پیدا فرما،علماء اہل سنت کے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*