*بچوں کی تربیت*


مائیں جب بچوں کو نماز سکھانا چاہتی ہیں تو انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.


آج ہم سیکھتے ہیں ان کو کیسے handle کیا جائے؟

بچوں کو نماز کے آداب میں لباس کا ٹھیک ہونا ضرور سکھائیں.


بچوں کو بتائیں ایسے لباس میں نماز پڑھنی ہے جو پورا جسم cover کرے اور اگر ٹائٹ لباس ہے تو اوپر بڑی چادر لیں جو ٹائٹ حصوں کو ڈھانپ لے...


لڑکوں کی شرٹ بھی چھوٹی نہ ہو کہ کمر نظر آئے.


لڑکیوں کے بال نظر نہیں آنے چاہیے.


اب مسئلہ یہ ہے کہ مائیں خود عبایا پہنے ہوتی ہیں، پھر تو بچوں کے لباس دیکھنے کے لائق ہوں گے ہی، اور مائیں بڑے فخر سے کہتی ہیں یہی عمر ہے ان کی خواہشات کی کیوں فالتو میں اسکی زندگیوں کو برباد کر رہی ہو خدارا رحم کھاؤ ان بچوں پر.


*آٹھ سال تک بچے مکمل ماں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں انہیں جو پہنایا جاتا ہے وہ پہنتے ہیں، جب ہم خود انہیں double standard دیتے ہیں کہ بیٹا کلاس میں یہ ڈریس پہن لو،اور شادی پر یہ پہن جانا تو غلطی ہماری ہوتی ہے*


بچوں کو اچھا پہنائیں، لیکن ان کے اندر حیا کو بھی بچپن سے پروان چڑھائیں.

بچوں کو اذان کے آداب سکھائیں بلکہ خود رول ماڈل بنیں.


*جب اذان ہو رہی ہو بچے کو خاموش ہونے کا لیکچر دینے کی بجائے خود خاموش ہو جائیں، بچہ بات کرنا بھی چاہے تو آپ مت بولو تاکہ اسے پتہ ہو ماں اذان کے لیے خاموش ہے، یا پھر بعد میں سمجھاؤ بیٹا آذان کے وقت نہیں بولتے*


لڑکوں کو اذان سکھائیں اور اس کا اجر بتا کر ترغیب دیں،انہیں بتائیں بیٹا آذان کا ثواب اتنا ہے کہ اگر اسکے اجر کا پتہ چل جائے تو لوگوں کا ہجوم لگ جائے..


بچوں کو وقت پر نماز پڑھنا سکھائیں.


*بچوں کو احادیث کے ذریعے ترغیب دیں کہ سستی سے منافق نماز پڑھتے ہیں, اس سے بچوں کے اندر مضبوط قوت ارادی پروان چڑھتی ہے، ان کو ہر کام وقت پر کرنے کی عادت پڑے گی*


ماؤں کو بھی چاہیے اپنے اندر مضبوط قوت ارادی پروان چڑھائیں کہ جو سوچیں اس پر فوراً عمل کریں کوتاہی سے کام کرنا بچوں کے لیے رول ماڈل بنتا ہے جب آپ لاپرواہی کریں گی تو بچے بھی لا پرواہ ہو جائیں گے، اس پر خاص توجہ دیں، ایام مخصوص میں بھی مصلی چھوڑنے سے گریز کریں تاکہ بچے کے سامنے کوئی ایسا طریقہ نا آئے جو اسے نماز سے روکے،آپ فقط وضو کریں مصلی بچھائیں دعا کریں...


بچوں کو نماز کے لئے اذان سے پہلے تیار کریں کہ بیٹا اتنے منٹ رہ گئے اذان میں، آ جاؤ جلدی سے وضو کر لیں، آج ہم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیں گے...


ماں کو چاہیے جو بھی ہو، سکون والی نماز پڑھے، یہی عادت بچوں میں منتقل ہو گی اور جب بچے چھوٹے ہوں تو ان کو اپنے پاس میں بٹھائیں جب فارغ ہوں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں تو بچے کو بھی ہاتھ اٹھانے کو کہیں...


بچوں کو شوق دلائیں آیات اور احادیث کے ذریعے،

بچوں کو دعا دیں۔ بیٹا جیسے آپ اسکول میں سب سے آگے ہو، ایسے نماز بھی سب سے اچھی پڑھنے والے بنو...


بچوں کو مسجد کی فضیلت اور آداب بتائیں اور عمومی بول چال بھی اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے...



ان کو سات سال سے پہلے مسجد بھیجیں،

آداب سکھائیں:

پہلے دایاں پاؤں مسجد میں رکھتے ہیں،

دعا پڑھتے ہیں،

جوتے سائیڈ پہ اتارتے ہیں،

شور نہیں کرتے، کیونکہ وہ اللہ کا معزز گھر ہے جو عبادت کے لیے ہے.

بچوں کو جمعہ کے آداب سکھائیں.

غسل کرنا,

مسواک کرنا,

خوشبو لگانا,

کوئی بھی سورت اسکو یاد کرائیں اور پڑھنے کو کہیں، کچھ مخصوص سورتیں بھی ہیں جو جمعہ کے لیے خاص ہیں مثلا سورۃ الکہف پڑھنا وغیرہ وغیرہ...


*میرا نظریہ فکر*

عموما تین سال کا بچہ اچھے سے بولنا سیکھ جاتا ہے تین سے سات سال تک پرورش مائیں اگر صحیح سے کریں تو بحمدہ تعالی وہ بچے مدرسہ جانے سے پہلے ہی بہت سی ضروریات دین کو سمجھ سکتے ہیں،

اولا اسکو کلمہ یاد کرائیں اور بتائیں خدا وحدہ لا شریک کے بارے میں،

انداز یہ ہو: جس چیز کو بچہ پسند کرے اس سے کہیں بیٹا اسکو اللہ نے بنایا ہے،کبھی آسمان کو بتائیں بیٹا دیکھو کتنا بڑا آسمان ہے اسکو اللہ نے بنایا ہے،کبھی زمین کو دکھائیں اور کہیں اسکو اللہ نے بنایا ہے،اسی طرح اسکی رگ میں خدا کا تصور کردیں،انشاءاللہ العزیز آپکے والدہ ہونے کا حق ادا ہو جائے گا...


آپکو یاد کرانا ہے، خدا کی پہچان، انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان، فرشتوں پر ایمان،آسمانی کتب پر ایمان، روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ کا طریقہ، وضوء کا طریقہ، غسل کا طریقہ، ایک سال میں تین سو پیسٹھ یا چھیاسٹھ دن ہوتے ہیں آپنے صرف دوسو دن بچے کو سمجھایا تو ایک سال میں یہ سب مکمل ہو جائے گا اس لیے کہ بچوں کا ذہن بہت تیز ہوتا ہے بر مقابل بڑوں کے کیوں کہ وہ کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں،تو یقینا وہ بچے ایک عظیم بچے ہو جائیں گے، پھر وہ دن دور نہیں کے ہماری یہ عظیم قوم پھر بلندی کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئے گی،


ایک واقعہ،

جب نپولین آیا تھا اور کئی مرتبہ وہ ناکام ہوا تھا، تو اس نے اپنے وزیروں سے کہا،ان کے پاس کونسی ایسی چیز ہے جب یہ میدان میں آتے ہیں تو پیچھے کو ٹلنے کا نام نہیں لیتے؟ کونسی ایسی چیز ہے جو ان لوگوں کو اتنا مضبوط کرتی ہے،کونسا حوصلہ ہے جو انہیں کمزور نہیں ہونے دیتا ؟

تو اسکے وزیر بھی بڑے عقلمند و چلاک تھے انہوں نے جواب دیا جسکی وجہ سے یہ مسلمان اتنے مضبوط ہوتے ہیں ان کو مضبوط بنانے والی انکی مائیں ہیں، نپولین حیرت میں پڑ گیا اور سوچنے پر مجبور ہو گیا جن کی ماؤں کا یہ عالم ہو ان سے تربیت یافتہ کے سامنے ہم ٹکنے کی طاقت نہیں رکھتے تو انکے باپوں(والدوں) کیا عالم ہوگا......


کسی شاعر بڑا خوب کہا تھا:


عورت کبھی حوا کبھی مریم کبھی زہراء

عورت نے ہر دور میں قوموں کو سنوارا.


بچوں کے سامنے زیادہ سے کلمہ و درود پاک پڑھیں

اللہ ہمیں اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق دے آمیـــــــــــــــــن.


ماؤں کے لیے ایک قابل غور بات:

مدینہ منورہ میں کوئی بچوں کی تربیت کا خاص مدرسہ نہیں تھا,اور حالت یہ کے اس وقت کے باپ بھی گھر سے باہر تھے، اس وقت بھی بچوں کی تربیت کرنے والی اکیلی ماں تھی، اور پھر انکے بچے بھی زمانے نے دیکھے، اور مائیں ابھی بھی ہیں اور بچے بھی زمانہ دیکھ رہا ہے کوئی تعارف کا محتاج نہیں...



ذرا سوچیے ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں.


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️