*رہنمائی اور بڑوں کے مشوروں کی قدر*

زندگی کی راہوں میں انسان کو ہمیشہ دو چیزوں کی ضرورت رہتی ہے: علم اور رہنمائی۔ علم راستہ دکھاتا ہے، اور رہنمائی بتاتی ہے کہ اس راستے پر کس طرح چلنا ہے۔ یہی رہنمائی دراصل وہ سرمایہ ہے جو انسان کو تجربے، بصیرت، اور خیرخواہی کے امتزاج سے حاصل ہوتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں ایسے مواقع سے گزرتا ہے جہاں فیصلے آسان نہیں ہوتے۔ بسا اوقات راستے بظاہر حسین اور دلکش دکھائی دیتے ہیں مگر انجام خطرناک ہوتا ہے، اور کبھی کوئی راستہ ابتدا میں سخت محسوس ہوتا ہے مگر وہی انسان کو منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے مواقع پر اگر ہم اپنے بڑوں، اساتذہ اور مشفق رفقا سے مشورہ کریں، تو یہ مشورہ دراصل اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ثابت ہوتا ہے۔

بڑوں کے مشوروں میں جو خیر اور برکت ہے، وہ کسی کتاب یا محض عقل سے حاصل نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ مشورے تجربے، اخلاص اور دور اندیشی کے نچوڑ ہوتے ہیں۔ ان میں صرف بات نہیں، بلکہ نیت کی پاکیزگی اور محبت کی گرمی شامل ہوتی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ آج کے دور میں اکثر نوجوان اور نو فارغ اہلِ علم اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے تعلیم مکمل کر لی، لہٰذا اب وہ خود کفیل ہیں، کسی کے مشورے کے محتاج نہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
علم کا کمال، انکسار میں ہے؛ اور انکسار کی علامت یہی ہے کہ آدمی اپنی فہم کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رہنمائی کو بھی قبول کرے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ”
(آل عمران: 159)
یعنی: “اور ان سے معاملات میں مشورہ کیا کرو۔”
یہ آیت اس اصول کی بنیاد رکھتی ہے کہ مشورہ محض ایک سماجی ضرورت نہیں، بلکہ یہ نبوی سنت ہے، اور قیادت و بصیرت کا حصہ ہے۔

نبی کریم ﷺ باوجود اس کے کہ آپ پر وحی نازل ہوتی تھی، صحابۂ کرامؓ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے — کبھی اُحد کے موقع پر، کبھی بدر کے موقع پر، اور کبھی دیگر اہم معاملات میں۔ اس سے امت کو یہ سبق ملا کہ مشورہ کرنا، اہلِ فہم و تقویٰ سے رائے لینا، کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اہلِ علم اگر اپنے بڑوں کے تجربے اور مشورے سے فائدہ اٹھائیں تو وہ صرف اپنی ذات کو سنوارتے نہیں، بلکہ امت کی اصلاح اور رہنمائی کے اہل بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو علم غرور میں بدل جائے، وہ علم نہیں، بلکہ زحمت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فہم و بصیرت انہی کو عطا فرماتا ہے جن کے دل میں خیر کی طلب اور اصلاح کی چاہ باقی ہو۔ جو دل بے نیاز اور خود پسند بن جاتے ہیں، وہ علم کے باوجود اندھیرے میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

لہٰذا، ہمیں اپنے بڑوں، اساتذہ اور اہلِ خیر کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ ان کے تجربات دراصل ہماری آئندہ زندگی کے رہنما ہیں۔ اگر کسی موقع پر ان کی بات سخت یا ناقابلِ فہم محسوس ہو، تو جلد بازی سے گریز کر کے وقت اور دعا کے ساتھ غور کرنا چاہیے، کیونکہ اکثر نصیحتیں اپنی حقیقت وقت کے ساتھ آشکار ہوتی ہیں۔

آخر میں ہم دعا کرتے ہیں:

> اَللّٰهُمَّ عَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا وَانْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا وَزِدْنَا عِلْمًا وَبَصِيرَةً۔

اے اللہ! ہمیں نافع علم عطا فرما، ہمیں اپنے بڑوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے والا بنا، اور ہمیں ایسی سمجھ عطا فرما جو دنیا و آخرت دونوں کے لیے مفید ہو۔

آمین یا رب العالمین۔

*✒️محمد اظہر*