قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:
"جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ 'یہ جھوٹ ہے'، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔"
انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: "جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔" بادشاہ مسکرا کر بولا: "ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔"
دوسرا بولا: "بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔" بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: "موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔"
بادشاہ دراصل بہت عیار تھا، وہ ہر بڑے سے بڑے جھوٹ کو "ممکن ہے" کہہ کر رد کر دیتا تاکہ اسے انعام نہ دینا پڑے۔ آخر کار ایک غریب کسان دربار میں حاضر ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا خالی مٹکا تھا۔
بادشاہ نے پوچھا: "تم کیا سنانے آئے ہو؟"
کسان نے بڑی سنجیدگی سے کہا: "عالی جاہ! میں کوئی کہانی سنانے نہیں آیا، بلکہ اپنا قرض لینے آیا ہوں۔"
بادشاہ حیران ہوا: "کیسا قرض؟"
کسان بولا: "جہاں پناہ! شاید آپ بھول رہے ہیں، آپ کے مرحوم والد نے میرے مرحوم والد سے ایک ہزار سونے کے سکے ادھار لیے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ ان کا بیٹا (یعنی آپ) یہ رقم مجھے واپس کرے گا۔ میں وہی ایک ہزار سکے لینے آیا ہوں۔"
اب بادشاہ مشکل میں پڑ گیا۔ دربار بھرا ہوا تھا اور ساکھ کا سوال تھا۔
اگر بادشاہ کہتا کہ "یہ جھوٹ ہے"، تو کسان شرط جیت جاتا اور اسے انعام کے طور پر سونے کے سکے دینے پڑتے۔
اگر بادشاہ کہتا کہ "یہ سچ ہے"، تو اسے بطور قرض کسان کو ایک ہزار سونے کے سکے ادا کرنے پڑتے۔
بادشاہ کسان کی عقل مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا اور مسکراتے ہوئے بولا: "تم جیت گئے۔ تمہاری عقل مندی تمہارے جھوٹ سے زیادہ بڑی ہے۔" بادشاہ نے اسے انعام دے کر رخصت کیا۔