مطالعہ ؛ طلع سے مشتق ہے ۔
لُغَتًا : روشن ہونا اور طلوع ہونا۔
اِصْطِلَاحًا: اپنے قلب و ذہن کو علم کی روشنی
سے روشن کرنا۔
مطالعہ کی اھمیت تعلیم یافتہ افراد سے پوشیدہ نہیں ہے۔جس طرح انسانی جسم کے نشو نما کے لئے خوراک ضروری ہے ، اسی طرح قلب و ذہن کے روحانی خوراک کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ورنہ جس طرح چیزوں کو استعمال کیے بغیر زنگ لگ جاتا ہے ،اسی طرح انسانی قلب و دماغ کو زنگ لگ جاتا ہے ۔اور وہ زندگی کی حقیقت اور مقصد حیات سمجھنے سے بالکل قاصر رہتا ہے۔اس لیے ہر پڑھے لکھے انسان کو زندگی کی آخری سانس تک حتی المقدور مطالعہ کرتے رہنا چاہیئے ۔