اے انسان اپنی قدر پہچان۔
اللہ رب العزت نے ہمیں ایک مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے یعنی ہم ایک با معنی مخلوق ہیں۔خدا نے ہمیں بے معنی تو پیدا کیا نہیں ہے اور بے معنی ہو بھی کیسے جبکہ ہم ایک ایسی ذات کی تخلیق ہیں جسکے کن کا سارا جہاں محتاج ہے ،جسکے فیصلوں کے آگے ہر عقل حیران ہے جسکی قدرت لامتناہی جسکی عظمت عقل سے ما وراء ہے۔
قارئین عظام۔یاد رہے کہ یہ دنیا کی چکا چوندھ مٹ جانےوالی ہے مگر ہمارا عمل باقی رہنے والا ہے جس پر ہماری ابدی زندگی منحصر ہے۔عمل کا تعلق ظاہر بدن سے ہے اور دل سے تعلق ہے ایمان کا اور یہ بات مسلم ہے کہ بندے کا دل جھٹک صحت مند رہے بندے کے ظاہری اعضاء اگرچہ بیمار ہوں مگر انمیں بھی جلد شفایابی نصیب ہو جاتی ہے لیکن اگر خدانخواستہ دل ہی بیمار ہو تو پھر بندے کا زندہ رہنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہوتا ہے تاآنکہ اس مرض کو دور کیا جائے۔
لہذا ۔۔ہم مسلمان خواہ مرد ہوں یا خواتین ہم اپنے ایمان کی اصلاح کریں
اولا۔۔۔عقیدہ درست کریں
چونکہ اگر ایک عقیدہ میں بھی خرابی آئ تو آخرت میں سارے نماز روزہ حج زکوٰۃ اکارت جائیں گی نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گے ۔بہت ضروری بے حد اہم ہے کہ ہم اہل حق کے ساتھ جڑے رہیں اور اپنے عقائد کی درستگی کی فکر کریں۔
تاکہ جب ہم دربار ایزدی میں حاضر ہوں تو جنت ہمارا مقدر ہو ۔
اللہ ہمیں صحیح عقائد مقبول عمل کی توفیق مرحمت فرمائے آمین