تم ہوش مجھکو دلاؤں نہ یاروں
 میں صدا عشق الٰہی میں ڈوبا رہوں ۔

عشق الہی وہ نعمت ہے کہ جس کو یہ عطا ہوئی اسکو کل کائنات عطا ہوئی ۔ یہ وہ عشق ہے جس کا کوئی خسارہ نہیں یہ وہ مرض ہے جس کا ہونا ہی شفاء ہے۔ لکھو تو سیاہی کم پڑھوں تو بینائی کم۔

آج کی نوجوان قوم کو اگر ہم اللہ سے محبت ر
سکھا دے تو وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہے۔ لیکن یہ وہ نعمت ہے کہ جیسے اللہ ہی چاہے تو عطا کرے۔ اور کیا خوب ہے رب کی محبت کے وہ ہر بندے سے کرتا ہے مگر کسی سے کم نہیں کرتا ہر بندے سے اتنی ہی کرتا ہے ۔ کتنا اعظیم ہے ہمارے رب کے کہم گنہگاروں کو بھی اپنا بندہ کہتا ہے ۔ اپنا بندہ کہتا ہے۔ اور ہمارے محبت کا سب سے رب کی بہترین  توحفہ  قرآن ہے۔ ہم جتنا قرآن کو پادھیگے گے اتنا اس محبت میں صدق ہونگا ۔ اپنی اولاد کو دنیا ن سیکھاؤ ان کو اللہ سے محبت سیکھاؤں تاکہ ہماری نسلوں خالید بن والید پیدا ہوں ۔ ربیعابسری۔ پیدا ہوں۔ دنیا کی محبت دین کی ہے رقبتی ہے ۔ اور اللہ کی محبت دونوں جہاں کی کامیابی ہے ۔