*قطر سے امت مسلمہ کے لیے سبق*


*✍🏻 محمد پالن پوری*


دوحہ کی رات میں گونجنے والے اسرائیلی دھماکے نے صرف قطر کی سرزمین کو نہیں ہلایا بلکہ پوری امت کے اجتماعی شعور پر دستک دی ہے۔ اسرائیل نے قطر کے قلب میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور یوں ایک عرب ملک کی خودمختاری کو کھلی چیلنج دے ڈالا۔ یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ اس امت کو ایک بار پھر یہ یاد دہانی تھی کہ جس دشمن کو قرآن نے سب سے شدید دشمن قرار دیا ہے اس پر بھروسہ کرنا اندھے کنویں میں گرنے کے مترادف ہے

﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾

قطر کا واقعہ کوئی پہلا سبق نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق کھولیں تو یہی منظر بار بار دہرایا گیا ہے۔

(افغانستان) جب سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی جا رہی تھی، مسلمان ممالک نے مغرب کے ساتھ مل کر عسکری گروہوں کو پروان چڑھایا۔ انہی کے ہاتھوں بعد میں وہی خطہ مسلسل آگ اور خون کا کھیل بنتا رہا اور اب بھی جل رہا ہے۔

(عراق) صدام حسین کے زوال میں مغربی طاقتوں کا ساتھ دینے والے عرب حکمران یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بغداد کے بعد ان کے لیے امن آئے گا۔ مگر عراق کی تباہی نے پورے خطے کو فرقہ واریت اور خانہ جنگی کی لپیٹ میں ڈال دیا۔

(لیبیا)معمر قذافی کو گرانے کے لیے بیرونی افواج کو دعوت دی گئی۔ آج لیبیا ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور اس کی زمین پر وہی طاقتیں قابض ہیں جو کل کے مددگار کہلاتی تھیں۔

(شام) مختلف گروہوں کو سہارا دینے کے نام پر ایک پوری قوم کو کھنڈر بنا دیا گیا اور آخرکار وہی عالمی طاقتیں فاتح کی حیثیت سے کھڑی ہوئیں۔

یہی فارمولہ بار بار ہمارے سامنے آیا کہ ہم نے دشمن کو اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہا، اپنے ایوانوں اور بندرگاہوں کو ان کے لیے کھولا اور پھر انہی کے ہاتھوں اپنی بربادی لکھی۔۔۔۔۔

 قطر کا حالیہ المیہ اس حقیقت کو پھر سے آشکار کرتا ہے۔ آج دوحہ میں اسرائیلی میزائل اترے ہیں، کل یہ آگ ریاض، ابوظہبی، منامہ یا قاہرہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ عرب دنیا نے اپنی پالیسیوں کو کس بنیاد پر تعمیر کیا ہے؟ کیا ہم قرآن کی روشنی میں فیصلے کر رہے ہیں یا وقتی سیاسی فائدے کے حساب سے؟ کیا ہم نے یہ بھلا دیا ہے کہ دشمن کبھی دوست نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنے ہی معاہدے کرے، کتنے ہی وعدے دے؟

قطر کے اس حادثے کو ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ مسلم حکمران اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ اگر ہم نے اپنی زمین کو امریکہ اور اسرائیل کے اڈوں کے لیے وقف رکھا، اگر ہم نے اپنی خودمختاری کو دوسروں کی گود میں ڈالے رکھا تو یاد رکھیں کہ کل ہماری مساجد، ہمارے بازار اور ہمارے محلات بھی انہی شعلوں میں جھلس جائیں گے۔

تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ سانپ پالنے والا کبھی محفوظ نہیں رہتا۔ افغانستان سے عراق تک، لیبیا سے شام تک اور اب قطر تک ہر واقعہ اسی قانون کی تصدیق ہے۔ امت مسلمہ کے لیے اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں کہ وہ دشمن کو پہچاننے کے باوجود اس کے ساتھ امیدیں وابستہ رکھے۔۔۔۔

آج دوحہ کا حادثہ پوری امت کے لیے ایک فیصلہ کن سوال ہے کہ کیا ہم اب بھی اپنی بقا دوسروں کے ہاتھوں گروی رکھیں گے؟ یا قرآن کی اس آیت کو اپنی سیاست و معیشت کی اساس بنائیں گے کہ

﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾۔

یہی وہ لمحہ ہے جب امت کو اپنی پالیسیوں کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہوگا۔ بصورت دیگر دوحہ کا المیہ کل ہماری دہلیز پر دستک دے گا۔