(22)مضمون
_________________
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بقلم محمودالباری
_________________
مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری – ملت کی غیرت اور اتحاد کا امتحان
_________________
گزشتہ جمعہ کا واقعہ ہندوستانی جمہوریت اور انصاف کے لیے ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاملہ یہ تھا کہ "I Love Muhammad ﷺ" کے پوسٹر پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، نوجوانوں کی گرفتاریاں کی جا رہی تھیں اور ان کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا تھا۔ انہی ناانصافیوں کے خلاف مولانا توقیر رضا خان نے فیصلہ کیا کہ وہ پرامن طریقے سے ایک ویگیاپن (میمورنڈم) ضلع انتظامیہ کو پیش کریں گے تاکہ مسلمانوں کا مؤقف حکومت تک پہنچ سکے۔
لیکن افسوس! نمازِ جمعہ کے بعد جب عوام کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی تو انتظامیہ نے حالات کو سمجھنے کے بجائے طاقت کا مظاہرہ کیا اور مولانا کو اچانک گرفتار کر لیا۔ درجنوں بے قصور نوجوانوں کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ رویہ سراسر زیادتی، ظلم اور آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بات سب پر واضح ہے کہ مولانا نے کسی بھی قسم کے تشدد یا ہنگامہ آرائی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ان کا مقصد صرف آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرانا تھا۔ لیکن جب ایک پرامن احتجاج کو بھی برداشت نہ کیا جائے اور قائدین و نوجوانوں کو بلاوجہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے، تو یہ کھلا ہوا جمہوری اور دستوری حقوق کی پامالی ہے۔
قرآن کریم کہتا ہے:
> "اور ظلم کرنے والوں کی طرف ہرگز نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ پکڑ لے گی" (ہود: 113)
یعنی ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ آج اگر ہم ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے تو کل یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچے گی۔ مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری محض ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری ملت کے وجود اور وقار کا سوال ہے۔
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج، اجتماع اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے۔ جب ملک کے اندر "I Love Muhammad ﷺ" جیسے مقدس جملے پر بھی مسلمان گرفتار کیے جائیں، اور ان کے قائد کو محض ایک ویگیاپن دینے کے جرم میں قید کر لیا جائے، تو سوال یہ اٹھتا ہے:
کیا مسلمان اس ملک کے شہری نہیں؟
کیا ہمیں اپنے نبی ﷺ سے محبت کے اظہار کا بھی حق نہیں؟
کیا پرامن رہنماؤں کو بھی جیل میں ڈال دینا ہی انصاف ہے؟
یہ رویہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار پر بدنما داغ ہے۔
آج اگر ہم اس ظلم پر خاموش رہے تو یاد رکھئے کہ کل یہ ظلم ہم سب کے گھروں تک آئے گا۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ایمان کا تقاضا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "جو شخص کسی ظالم کو دیکھے اور ہاتھ سے نہ روکے، زبان سے نہ روکے اور دل سے بھی برا نہ جانے، تو ایمان کا کوئی حصہ اس کے پاس باقی نہیں رہا۔"
ہماری خاموشی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ملت کے اتحاد کو توڑنے والے جانتے ہیں کہ مسلمان بکھرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ پر خاموش رہتے ہیں۔ اسی کمزوری کو استعمال کر کے ہمارے قائدین اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ وقت صرف جذبات کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ ملت پر یہ لازم ہے کہ:
1. قائدین کے ساتھ ہم کھڑے ہوں – مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں، یہ ملت کی عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے۔
2 – پورے ملک میں دستور کے مطابق پرامن احتجاجات منظم کیے جائیں تاکہ دنیا کو دکھایا جائے کہ مسلمان بیدار ہیں۔
3 – عدالتوں میں مضبوط وکیل اور قانونی ماہرین کے ذریعے کیس کو لڑا جائے۔
4 .سچائی کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے.
5. اختلافات اور فرقہ واریت کو پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر آئیں، کیونکہ دشمن کی سب سے بڑی طاقت ہماری تقسیم ہے۔
6. نوجوانوں اور عوام کو شعور دلایا جائے کہ یہ گرفتاری صرف مولانا کی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعی آواز کو دبانے کی کوشش ہے
مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری اور نوجوانوں کی قید دراصل ملت کی غیرت اور ایمان کا امتحان ہے۔ اگر ہم آج متحد نہ ہوئے، اگر ہم نے آج آواز بلند نہ کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
قرآن کا حکم ہے:
> "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ نہ ڈالو" (آلِ عمران: 103)
لہٰذا ملت کے ہر فرد پر یہ فرض ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف کھڑا ہو۔ پرامن جدوجہد کرے، اتحاد قائم رکھے اور انصاف کے لیے آواز بلند کرے۔ مولانا توقیر رضا خان کی فوری رہائی نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کا تقاضا ہے۔
Mahmoodulbari342@gmail.com