دابکی زُنّاردار "عقیدت و محبت کی کھیر"

         شہرِ سہارنپور کے مشرقی جانب، آؤٹر پر واقع "دابکی  زُنّاردار" کے باشندوں کی جانب سے "دعوتِ کھیر" کا تذکرہ پہلی بار مظاہر علوم سہارنپور میں قیام کے دوران سنا، طلبۂ عزیز کی زبانوں پر اس دعوت کا بڑا چرچا تھا، وہ حضرات جا بجا اس کا تذکرہ کرتے اور اس ضیافت کا سبب گاؤں والوں کی فصلوں میں ہونے والی برکت بتلاتے، نیز اس روایت کو مظاہر علوم کے کسی صاحبِ نسبت عالمِ دین کے حکم کی تعمیل سے منسوب کرتے۔
       تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس دعوت کی اصل بنیاد گاؤں والوں کی اکابرینِ مظاہر کے ساتھ وہ والہانہ محبت اور اخلاص ہے جو عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہے، یہ مخلص لوگ گذشتہ 80/90 برسوں سے موسمِ سرما میں بطورِ شکرانہ "عصیرِ گنا" (گنے کے رس) کی کھیر پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا جامعہ کی جانب سے باقاعدہ اعلان چسپاں کیا گیا اور پھر ۳۰ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۰ جنوری ۲۰۲۶ء کو اس بستی کی زیارت کا موقع ملا، طلبہ نہایت خوش و خرم نظر آ رہے تھے اور اساتذۂ کرام بھی ان کی رہنمائی کے لیے جامعہ کی حدود سے باہر تشریف لے آئے، یکے بعد دیگرے بسوں کی روانگی کا سلسلہ شروع ہوا اور طلبہ سوئے مقتل (جائے دعوت) روانہ ہوئے۔
      گاؤں میں قدم رکھتے ہی دونوں جانب سے "السلام علیکم" کی صدائیں کانوں میں رس گھولنے لگیں۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، تمام چہروں پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔ جگہ جگہ "اہلاً وسہلاً مرحبا" کے اشتہارات آویزاں تھے اور راستے کے دونوں طرف بس اسٹینڈ سے جائے دعوت تک رہنمائی کے لیے چونے کی لکیریں اور تیر کے نشانات بنائے گئے تھے، مسجد کے قریب بچوں کا شور و غل، کھلونوں کی دکانیں اور جھولے لگے ہوئے تھے، جب کہ دوسری جانب بڑی بڑی دیگوں میں پکوان تیار ہو رہے تھے۔ یہاں کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ گاؤں والے اس دن اپنی شادی شدہ بیٹیوں کو خاص طور پر مدعو کرتے ہیں، جو نئے جوڑے زیبِ تن کرکے شریک ہوتی ہیں۔ یہ بات اس وقت سچ ثابت ہوئی جب چھوٹے بچوں سے سوال کیا، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "ہم تو اپنی نانی کے گھر آئے ہوئے ہیں"
      مسجد میں داخل ہوئے تو چھوٹے چھوٹے اطفال مائیک پر نعتیں اور نظمیں سنانے کے لیے بے قرار نظر آئے، سماں ایسا تھا گویا آج عید کا دن ہو، انتظامیہ نے نہایت پُرسکون ماحول فراہم کر رکھا تھا، مسجد کے صحن میں طلبہ کے لیے" کافی" کا انتظام تھا، جب کہ بالائی حصے میں دسترخوان بچھے تھے، متعدد مجالس میں طلبہ فارغ ہوتے رہے اور انتظامیہ کی سخاوت کا تو کیا کہنا، انہوں نے گویا سخاوت کا دریا بہا دیا۔ دیسی انداز میں لوٹوں کے اندر خالص دودھ اور بالٹیوں میں گنے کے رس کی کھیر دسترخوان کی زینت بنی ہوئی تھی، میزبان نہایت عاجزی کے ساتھ طلبہ سے ضرورت دریافت کرتے اور مہمان نوازی کا حق ادا کرتے، کتنے ہی طلبہ کو پانی کی جگہ دودھ سے پیاس بجھاتے دیکھا گیا، کیونکہ خالص دودھ اب شہروں میں "قصۂ پارینہ" بن چکا ہے۔
       کئی برسوں بعد بھینس کا خالص دودھ پینے کو ملا؛ ایسا والہانہ انتظام اب خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے، گاؤں والوں نے نہایت خوشگوار انداز میں طلبہ کی ضیافت فرمائی اور ایسا کیوں نہ ہو؟ آخر یہ انہی اصحابِ خیر کی اولاد ہیں جنہوں نے خلوصِ دل کے ساتھ اکابرینِ مظاہر کی دعوت کی بنیاد رکھی تھی اور آج ان کی نسلیں اس روایت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کے جان و مال میں برکتیں عطا فرمائے اور علماءِ مظاہر علوم سے ان کی وابستگی کو مزید استحکام بخشے۔ آمین۔

محمد توفیق قاسمی شریکِ تکمیلِ افتاء 
جامعہ مظاہر علوم( قدیم )سہارنپور 
١/شعبان المعظم ١٤٤٧ھ
 ٢١/جنوری ٢٠٢٦ء بہ روز بدھ