*علماء و مصلحین امت اور ان کے فتنے*
*از قلم: محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ*
اپنی رائے پر جمود و اصرار
اپنی بات کو صحيح و صواب اور قطعی و یقینی سمجھنا، جبکہ دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائقِ التفات نہ سمجھنا، بس یہی یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل—یہ *اعجاب الرائے کا فتنہ ہے* اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں۔ کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی، نہ حق دیتی ہے کہ ممکن ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں، صرف تعبیر اور عنوان کا فرق ہو یا الا ہم فالا ہم کی تعیین کا اختلاف ہو۔