نفرت کے دھوئیں میں لپٹا ہوا میرا پیارا وطن۔
✍🏻خامہ کش؛ محمد عادل ارریاوی
_________________________________
وطن سے محبت فطری تقاضا ہے لیکن جب یہی وطن نفرت کے اندھیرے میں گھِر جائے تو دل دکھتا ہے۔ میرا پیارا وطن جو کبھی محبت امن اور بھائی چارے کا مرکز تھا آج نفرت کے دھوئیں میں لپٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے
یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی پھولوں کی مہک ہوا میں رچی بسی ہوتی تھی جہاں فجر کی اذانوں کے ساتھ پرندوں کی چہچہاہٹ گونجتی تھی جہاں بچے گلیوں میں بے فکری سے کھیلتے تھے اور بزرگ شاموں کو چائے کے کپ کے ساتھ گزرے وقتوں کی محبت بھری داستانیں سناتے تھے۔
لیکن آج میرے وطن کی فضائیں زہر آلود ہو چکی ہیں نہ وہ مہک رہی نہ وہ چہک رہی آج ہر سو ایک دھواں چھایا ہوا ہے نفرت کا تعصب کا دشمنی کا یہ دھواں صرف فضا کو گدلا نہیں کرتا یہ دلوں کو بھی سیاہ کر دیتا ہے مختلف قوموں مذاہب اور نسلوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت اور تعصب ملک کی بنیادیں کمزور کر رہا ہے لوگ ایک دوسرے سے بیزار اور دور ہو گئے ہیں جس سے سماجی امن و امان خراب ہو رہا ہے۔
سیاست دان اور کچھ عناصر اپنے مفاد کے لیے عوام کو نفرت پر اکسا کر اپنے اقتدار کو طول دیتے ہیں اس سے عوام میں تقسیم پیدا ہوتی ہے اور ترقی رک جاتی ہے۔
بیروزگاری غربت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل بھی عوام میں مایوسی اور غصہ پیدا کرتے ہیں جو بالآخر نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے
سوشل میڈیا نفرت پھیلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن گیا ہے جہاں افواہیں غلط معلومات اور اشتعال انگیز مواد تیزی سے پھیلتا ہے اور معاشرے کو تقسیم کرتا ہے
زبان مسلک قومیت اور سیاست کے نام پر ہم نے ایک دوسرے کو صرف دوسرا سمجھنا سیکھا ہے اپنا بنانا بھول گئے ہیں۔ ہر گلی ہر کوچہ ہر اسٹیج پر نفرت کا زہر اُگلا جا رہا ہے۔
اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم سب اس دھوئیں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں اب اس کی بُو بھی محسوس نہیں ہوتی۔
کبھی سوچا ہے کہ یہ نفرت کس نے پھیلائی؟ کیا یہ ہمارے اندر ہمیشہ سے تھی؟ یا کسی نے بڑی مہارت سے ہمارے دلوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں؟
ہمیں سوچنا ہوگا جاگنا ہوگا ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نفرت ایک آگ ہے جو پہلے دوسروں کو جلاتی ہے پھر خود ہمیں راکھ کر دیتی ہے یاد رکھیے وطن کی خوبصورتی صرف پہاڑوں دریاؤں یا میدانوں میں نہیں ہوتی اس کی اصل خوبصورتی اس کے لوگوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔
اگر دل سیاہ ہو جائیں تو سب کچھ بے رنگ ہو جاتا ہے کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا پیارا وطن صرف تاریخ کی کتابوں میں پرامن کہلائے؟
یا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسا ہندوستان دیکھیں جہاں محبت کا سورج پھر سے طلوع ہو؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس دھوئیں کو چھانٹیں نفرتوں کو دفن کریں اور اپنے وطن کو پھر سے وہ محبتوں والا وطن بنائیں جہاں ایک دوسرے کی زبان مذہب یا مسلک نہیں انسانیت کی بنیاد پر محبت کی جائے۔
نفرت کے دھوئیں سے نکلنے کی راہیں۔
نفرت کا خاتمہ علم اور شعور سے ممکن ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہم اپنے اندر برداشت رواداری اور اخوت پیدا کر سکتے ہیں اور دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں
معاشرے میں محبت ہمدردی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ہم سب کو مل کر ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا خواہ وہ کسی بھی مذہب نسل یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔
ہر شہری کو نفرت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا ہمیں اپنے اردگرد نفرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور امن کا پیغام دینا ہوگا۔
ملک کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں لسانی مذہبی اور علاقائی تفریق کو ختم کرکے ایک مضبوط قوم کی تشکیل کرنی ہوگی جو نفرت کے اندھیرے کو ختم کر سکے۔
آج کی دنیا میں نفرت تعصب اور شدت پسندی ہر طرف پائی جاتی ہے چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم لبرل قدامت پسند یا کوئی بھی نظریہ رکھنے والے لوگ۔
نفرت ایک انسانی بیماری ہے جو کسی بھی دل میں جنم لے سکتی ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے ہو۔
کون نفرت پھیلا رہا ہے؟
دنیا میں بہت سی طاقتیں میڈیا سیاستدان انتہا پسند گروہ نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چاہے غیر مسلم ہوں یا مسلمان اگر وہ نفرت پھیلا رہے ہیں تو وہ قابلِ مذمت ہیں۔
ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہم انفرادی عمل اور اجتماعی شناخت میں فرق کریں۔
اگر ایک غیر مسلم نفرت انگیز بات کرے تو ہم اُس فرد کو برا کہیں پورے مذہب کو نہیں۔
اسی طرح اگر ایک مسلمان شدت پسند ہو تو اُس کا عمل اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت کے جواب میں نفرت نہ دیں
بلکہ علم حکمت محبت اور انسانیت کے ہتھیاروں سے اس کا مقابلہ کریں۔
کیونکہ اگر ہم بھی نفرت کرنے لگے
تو پھر فرق کیا رہ جائے گا اُن میں اور ہم میں؟
اللہ ربّ العزت ہم سب کو امن و امان اور بھائی چارگی کے ساتھ اس ملک رہنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین یارب ۔