انسانی معاشرے میں مختلف قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بناتے ہیں، جبکہ کچھ افراد خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کی عادت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ذات، علم، دولت یا طاقت پر اس قدر فخر کرتے ہیں کہ دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا بظاہر اعتماد کی علامت لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک منفی سوچ اور اخلاقی کمزوری ہے۔
خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والا انسان عموماً غرور اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور دوسروں کی خوبیوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ ایسے افراد تنقید برداشت نہیں کر پاتے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام ڈال دیتے ہیں۔ نتیجتاً لوگ ان سے دور رہنے لگتے ہیں اور وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف سماجی تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ انسان کی ذاتی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ جو شخص خود کو کامل سمجھنے لگے، وہ سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ علم اور ترقی کا راستہ ہمیشہ عاجزی سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے غرور اختیار کیا، وہ آخرکار زوال کا شکار ہوئے۔
دینِ اسلام میں بھی تکبر کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں عاجزی، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ یہ تعلیم ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت عاجزی میں ہے، نہ کہ خود پسندی میں۔ لہذا خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کے بجائے انسان کو اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے، اور ہمیں دوسروں سے سیکھنے کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
  عاجزی انسان کو بلندی عطا کرتی ہے، جبکہ غرور اسے پستی کی طرف لے جاتا ہے۔

🪶از:ح عائش✰