(21) مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
-----------------------
"عشقِ نبی ﷺ پر قدغن — کہاں کا انصاف؟"
_________________
بقلم: محمودالباری
_________________
عشقِ نبی ﷺ ایمان کا جزو ہے۔
قرآن کہتا ہے:
> قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِیْرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِأَمْرِهٖ (التوبہ: 24)
یعنی اگر تمہیں اپنی اولاد، خاندان اور مال و دولت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کا فیصلہ کا انتظار کرو۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
> "تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔" (بخاری و مسلم)
عشقِ نبی ﷺ کیا ہے؟
عشقِ نبی ﷺ صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ اطاعت، اتباع اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عشقِ رسول ﷺ مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے، ایمان کی اصل ہے، کائنات کی روشنی ہے اور بندے کے ایمان کا معیار یہی ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے سب سے بڑھ کر محبت کرے۔
اسی لیے ہر مسلمان، چاہے وہ کسی بھی زبان و خطے سے تعلق رکھتا ہو، پوری یقین اور غیرتِ ایمانی کے ساتھ کہتا ہے:
"I Love Muhammad ﷺ"
یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایمان کی گواہی ہے، یہ عشق کا ترانہ ہے، یہ وفاداری کا اعلان ہے، یہ ہماری زندگی کا مقصد ہے!
افسوس! آج اتر پردیش کی زمین پر اس مقدس صدا کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ "I Love Muhammad ﷺ" کہنے والے نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگائی جا رہی ہیں، معصوموں کو جیل کی کوٹھڑیوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
اے انصاف کے دعوے دارو! بتاؤ:
کیا محبتِ رسول ﷺ جرم ہے؟
کیا اپنے نبی ﷺ سے عشق کا اظہار دہشت گردی ہے؟
کیا یہ وہی آئین نہیں جو ہر مذہب کو آزادی دیتا ہے؟
پھر کیوں مسلمانوں کی زبان پر تالے لگائے جا رہے ہیں؟ کیوں اس محبت کو قید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو دل کی دھڑکن ہے؟
یہ دہرا رویہ نہیں بلکہ انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔
جب کوئی دوسرا طبقہ اپنے مذہبی جذبات کا اظہار کرتا ہے تو اسے آزادی، کلچر اور روایت کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک مسلمان اپنے ایمان کی بنیاد "I Love Muhammad ﷺ" کہتا ہے تو اسے جرم سمجھا جاتا ہے۔
یہ دہرا رویہ دراصل انصاف اور آئینی مساوات کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔
اظہارِ محبتِ رسول ﷺ ہر مسلمان کا حق ہے۔ کوئی مسلمان اگر کہتا ہے کہ "I Love Muhammad ﷺ" تو وہ اپنے ایمان کی اصل کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کوئی جرم نہیں بلکہ فخر ہے۔
بھارت کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق مذہب پر عمل کرنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق ہے۔
پھر سوال یہ ہے کہ "I Love Muhammad ﷺ" کہنا کس قانون کے خلاف ہے؟ کیا عقیدت کا اظہار فرقہ پرستی ہے؟
یاد رکھو! اگر دشمن تمہارے جسم کو قید کر دیں، تمہاری زبانیں بند کر دیں، تو بھی تمہارے دل، تمہارا لہو اور تمہارا ہر سانس یہی پکارے گا:
"I Love Muhammad ﷺ"
یہ عشق نہ جیل کی دیواروں سے رکتا ہے، نہ پولیس کی لاٹھیوں سے دب جاتا ہے، نہ ظلم و جبر کی آندھیاں اسے بجھا سکتی ہیں۔
ہمارے نبی ﷺ نے مکہ میں ظلم سہ کر بھی صبر کیا، حکمت اختیار کی اور اخلاق سے دشمنوں کو زیر کیا۔ آج یوپی کے حالات ہم سے یہی صبر و حکمت مانگتے ہیں:
اپنی آواز بلند کرو مگر امن کے ساتھ۔
اپنے حقوق کا دفاع کرو مگر قانون کے دائرے میں۔
اپنے کردار کو اتنا روشن کرو کہ دنیا دیکھے: مسلمان صرف کہنے والے نہیں بلکہ "I Love Muhammad ﷺ" کو جینے والے ہیں۔
عشقِ رسول ﷺ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ وہ تلوار ہے جو ظلم کو کاٹ دیتی ہے،
یہ وہ ڈھال ہے جو ایمان کو بچا لیتی ہے،
یہ وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔
اے مسلمانوں!
تمہاری زباں پر "I Love Muhammad ﷺ" بلند ہو،
تمہارے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی حرارت ہو،
تمہارے کردار میں سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی ہو،
تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں جھکا نہیں سکتی۔
اے اہلِ یوپی!
گرفتاریاں تمہیں کمزور نہیں کر سکتیں۔ یہ وقت کا ظلم ہے، گزر جائے گا۔ لیکن تمہارے سینوں میں جو عشقِ محمد ﷺ کی شمع جل رہی ہے، وہ بجھائی نہیں جا سکتی۔
اٹھو! اس نعرے کو اپنے عمل، اپنی تعلیم، اپنی اخلاقی طاقت اور اپنے اتحاد کے ذریعے زندہ کرو۔
دنیا دیکھ لے کہ مسلمان جب کہتا ہے "I Love Muhammad ﷺ"، تو یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ زندگی کا پیغام اور ایمان کا اعلان ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی محبت ہماری جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اس محبت پر پابندی لگانے والے یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان اپنی جان دے سکتا ہے مگر عشقِ رسول ﷺ کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ اگر ہم نے اس محبت کو کردار، اتحاد اور علم کے ساتھ جوڑ لیا تو یہی عشق ہمارے لیے ترقی کی کنجی، نجات کا ذریعہ اور عزت کا تاج بن جائے گا۔آمین یا رب العالمین
mahmoodulbari342@gmail.com