ہمارے جلسوں کا مقصد اصلاح ہے یا شہرت؟
دینی مجالس اور اصلاحی اجتماعات امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک اہم اور مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔ انہی اجتماعات کے ذریعے دلوں میں ایمان کی حرارت تازہ ہوئی، غفلت میں ڈوبے اذہان بیدار ہوئے اور افراد کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کی ترغیب ملی۔ منبر و محراب اور وعظ و نصیحت کا اصل مقصد یہی رہا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لے، اپنی نیتوں کو درست کرے اور اپنی زندگی کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ لیکن آج ایک ایسا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ یہ کہ کیا ہمارے موجودہ دینی جلسے واقعی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں یا رفتہ رفتہ وہ شہرت، نمائش اور مجمع آرائی کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سوال کسی خاص فرد، جماعت یا ادارے پر الزام نہیں بلکہ ایک اجتماعی خود احتسابی کی دعوت ہے، کیونکہ دین کا کام جب تک اخلاص کے ساتھ نہ ہو، وہ دلوں پر اثر نہیں چھوڑتا۔
دین کی بنیاد اخلاص پر ہے، نیت درست ہو تو معمولی سا عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے اور اگر نیت میں کھوٹ آ جائے تو بڑے بڑے اجتماعات بھی وزن کھو دیتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض دینی مجالس میں اللہ کی رضا کے بجائے شہرت، واہ واہ اور ظاہری کامیابی کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اسٹیج کی چمک دمک، کیمروں کی موجودگی، مجمع کی تعداد کا چرچا اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ کی فکر یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم مقصد سے تو دور نہیں ہو رہے۔ دین خاموشی، سادگی اور خلوص کے ساتھ دلوں میں اترتا ہے، شور، نمائش اور خودنمائی کے ساتھ نہیں۔
اسی طرح علماء دین کا مقام یقیناً بلند ہے اور ان کی عزت و توقیر امت کی ذمہ داری ہے، مگر عزت اور نمائش کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بعض مجالس میں علماء و مقررین کا استقبال اس انداز میں کیا جاتا ہے کہ گویا کسی سیاسی لیڈر کی آمد ہو، نعرے لگائے جاتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں اور غیر ضروری پروٹوکول دیا جاتا ہے، حالانکہ دینی وقار کا تقاضا سادگی، ادب اور اعتدال ہے۔ علماء کی حقیقی عزت ان کی بات سننے، اس پر عمل کرنے اور ان کے علم سے فائدہ اٹھانے میں ہے، نہ کہ ظاہری شور و ہنگامے میں۔
دینی جلسوں میں نعرہ بازی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک قابلِ غور مسئلہ ہے۔ جذبات ابھارنا اپنی جگہ درست ہے، مگر جب نعرے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ اصل نصیحت اور پیغام پس منظر میں چلا جائے تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ لوگ وقتی جوش کے ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں، مگر عملی تبدیلی کے بغیر۔ حالانکہ دینی اجتماع کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سامع اپنے اندر کوئی ذمہ داری محسوس کرے، کوئی فیصلہ کرے اور اپنی زندگی میں بہتری کی طرف قدم بڑھائے۔
ایک اور کمزوری جو اکثر مجالس میں نظر آتی ہے وہ موضوع اور مقصد کی غیر وضاحت ہے۔ نہ منتظمین کے ذہن میں واضح سمت ہوتی ہے اور نہ مقررین کو کسی خاص موضوع کی پابندی دی جاتی ہے، نتیجتاً ہر مقرر اپنی پسند کی بات کرتا ہے اور مجمع کسی واضح پیغام کے بغیر منتشر ہو جاتا ہے۔ اگر دینی اجتماع واقعی اصلاح کیلئے ہو تو اس کا مقصد واضح ہونا چاہیے، گفتگو مربوط ہونی چاہیے اور سامع کو یہ سمجھ آ جانا چاہیے کہ اسے اپنی زندگی کے کس پہلو میں تبدیلی لانی ہے۔
وقت کی پابندی بھی دین کا ایک اہم اصول ہے، مگر افسوس کہ دینی اجتماعات میں اسے سب سے زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو مختصر پروگرام کا کہہ کر گھنٹوں بٹھا لیا جاتا ہے، نہ آغاز وقت پر ہوتا ہے نہ اختتام کا کوئی اندازہ۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف لوگوں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں بلکہ آہستہ آہستہ دینی مجالس سے دل اُچاٹ ہونے لگتا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
اسی طرح بعض جلسوں میں قصے، لطائف اور ظرافت اس قدر غالب آ جاتی ہے کہ سنجیدہ دینی گفتگو پیچھے رہ جاتی ہے۔ وعظ میں نرمی اور حکمت ضرور ہونی چاہیے، مگر جب پوری تقریر محض تفریح بن جائے تو اصلاح کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ دین ہمیں سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے، صرف ہنسنے کی نہیں۔
چندہ جمع کرنے کے طریقے اور اخراجات کا عدم توازن بھی قابلِ توجہ ہے۔ بچوں کے ہاتھوں میں رسیدیں اور تھیلے دے کر مجمع میں گھمانا، بار بار توجہ دلانا اور دوسری طرف مقررین پر بے دریغ خرچ کرنا جبکہ دین کی خدمت میں مصروف مقامی ائمہ اور اساتذہ کو معمولی مشاہرہ دینا، یہ سب ہمارے اجتماعی رویوں پر سوالیہ نشان ہیں۔ دینی کام میں وسائل کا استعمال توازن، حکمت اور دیانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
یہ تمام باتیں کسی کو نیچا دکھانے یا تنقید برائے تنقید کیلئے نہیں کہی جا رہیں بلکہ اس نیت سے لکھی گئی ہیں کہ ہم اپنے دینی ماحول کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مجالس واقعی اثر رکھیں تو ہمیں نیتوں کی اصلاح، سادگی، واضح مقصد، وقت کی پابندی اور عملی پیغام کو ترجیح دینا ہوگی۔ کم مگر بامقصد اجتماعات ہوں، شور کے بجائے شعور ہو اور جذبات کے ساتھ فکر اور عمل کی دعوت ہو۔ ممکن ہے اس تحریر سے بہت سے لوگ اختلاف کریں، مگر اگر یہ اختلاف ہمیں خود احتسابی پر مجبور کر دے تو یہی اس تحریر کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، بصیرت اور صحیح سمت میں دینی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے جلسوں کو واقعی اصلاح کا ذریعہ بنا دے، نہ کہ صرف شہرت کا۔ آمین یا رب العالمین۔