*قناعت گم ہو جائے تو غربت جنم لیتی ہے*

اسلام انسان کو صرف جمع کرنے والا نہیں بلکہ سمجھنے والا بناتا ہے، شریعتِ مطہرہ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اصل دولت مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی قناعت، شکرگزاری اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا ہے، قرآنِ کریم میں بارہا ناشکری کے انجام سے ڈرایا گیا اور شکر پر نعمتوں کے بڑھنے کی بشارت دی گئی ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ غنا دل کا غنا ہے، اور فقر صرف ہاتھ کا خالی ہونا نہیں بلکہ دل کا خالی ہو جانا ہے،ہماری پچھلی نسلیں، ہمارے اکابر اور بزرگ اس حقیقت کو صرف جانتے ہی نہیں تھے بلکہ جیتے تھے، ان کی زندگیاں قلتِ وسائل کے باوجود صبر، قناعت اور شکر کا عملی نمونہ تھیں، آج کے دور میں سہولتیں بڑھ گئیں، مگر دلوں سے سکون رخصت ہو گیا، کیونکہ ہم نے ضرورت اور خواہش کے فرق کو بھلا دیا، زیرِ نظر مضمون اسی بھولی ہوئی حقیقت کو ایک عام مگر گہرے مکالمے کے ذریعے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
*ایک مرتبہ کسی نے ایک بوڑھے شخص سے پوچھا*آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟
بزرگ نے بڑے ٹھہراؤ سے جواب دیا،میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنی لوگوں نے شور مچا رکھا ہے، آج ہم جس کو غربت کہتے ہیں وہ دراصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے،پھر وہ گویا ہوئے اور پرانے دن یاد کر کے کہا،ہم نے غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب اسکول میں تختی پر پوتنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، تو مٹی لگا کر لکھا کرتے تھے، قلم نہیں ہوتا تھا، خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، کنکر استعمال کرتے تھے، اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے، اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تو اسکول کلر کے ہی لے لیتے تھے،تاکہ شادی کا بھی کام ہو جائے اور اسکول کی ڈریس بھی،کپڑے پھٹ جاتے تو بار بار سی کر پہنتے تھے، جوتا پھٹ جاتا تو بار بار سلائی کرواتے تھے،جوتا بھی پلاسٹک یا باٹا کا ہوتا تھا جو پہننے میں سخت اور پاؤں کو زخمی کر دیتا تھا۔
گھر میں اگر مہمان آ جاتا تو کسی پڑوسی سے گھی، کسی سے نمک، کسی سے مرچ مانگ کر لاتے تھے،آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں مہینوں کا سامان موجود ہے، مہمان تو کیا، پوری بارات کا انتظام نکل آتا ہے،آج اسکول کے بچوں کے پاس دو تین یونیفارم ہیں، شادی میں جانا ہو تو مہندی، بارات اور ولیمے کے الگ الگ کپڑے اور جوتے ہوتے ہیں، آج کا وہ نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ہے، اس کی جیب میں تیس ہزار کا موبائل، ہزاروں کے کپڑے اور اچھی چپل ہوتی ہے۔
غربت تو وہ تھی جب گھر میں بتی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا، پوری رات بغیر بستر کے گزار دیتے تھے، کبھی امی ایک چادر کا ٹکڑا دے کر کہتی تھیں،بیٹا یہ اوڑھ لو ہم پوچھتے تھےآپ کیسے سوئیں گی؟ تو کہتی تھیں میں آگ کے پاس بیٹھ جاؤں گی، مجھے سردی نہیں لگے گی،اور اس قدر سخت ٹھنڈ کے اس وقت اس کا تصور کرتے ہوئے بھی لرز سی محسوس ہوتی ہے،بیٹا اس وقت غربت نہیں بلکہ خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے۔
آپکو معلوم ہی کیا ہے بیٹا سنو حد تو اس وقت ہو جاتی تھی جب روٹی تو پک جاتی تھی مگر سبزی نہیں ہوتی تھی، ایک پیاز ہوتی، امی سب بھائی بہنوں میں بانٹ دیتیں اور خود بغیر نمک کی روٹی چولہے کے پاس بیٹھ کر کھا لیتیں، اور ہر لقمے پر الحمدللہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہتی رہتیں۔
بزرگ نے آہ بھری اور کہا بیٹا حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ہے،اگر کوئی عید پر یا شادی میں تین جوڑے نہ سلا سکے تو خود کو غریب سمجھ لیتا ہے، ہم ناشکرے ہو گئے ہیں، اسی لیے برکتیں اٹھ گئی ہیں،یاد رکھنا، جب انسان خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو زندگی اس پر بوجھ بن جاتی ہے،سادگی چھوڑ کر پریشانیوں کا طوق خود اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے، میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ خواہشات پوری کرنے والے بادشاہ بھی آخرکار گداگر بن جاتے ہیں،ہمارے وقت میں خوشحالی کم تھی *مگر دل امیر تھے، حسد، کینہ اور بغض کو لوگ جانتے تک نہیں تھے۔*
آخری بات بزرگ نے کہا بیٹا آخری بات سنو میں تو اپنا ستر سالہ تجربہ بتا رہا ہوں، جس سکون و راحت و مسرت کے ساتھ غریب کھاتا ہے جس شان و شوکت سے غریب سوتا ہے، جتنی طاقت اللہ نے ایک مزدور کو عطا کی ہے، بیٹا اس کا پاسن بھی امیروں کے پاس نہیں، وہی گھر بس سکون سے ہیں جن میں علم دین موجود ہے، ورنہ دنیا دار لوگ آج مالدار اور اہل ثروت ہو کر بھی ہمیشہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں، اور ان کا سکون ان کا وقار ان کی عزتیں چند غریب گھروں کی دیوار سے ہو کر گزرتی ہے،اور اکثر مالدار ناجائز کھاتے ہیں اور غریب بہت صاف ستھری روزی کھاتا ہے،اس میں کوئی شک نہیں بیٹا اس وقت دولت کی قدر ہے دولت ہونا چاہیے لیکن ایسی دولت سے ہمیشہ محفوظ رہنا،جو دولت تمہارا سکون تمہارا وقار تمہاری عزت کو مجروح بنا دے۔
ان تمام باتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصل غربت مال کی کمی نہیں بلکہ دل کی بے چینی اور خواہشات کی زیادتی ہے، پچھلی نسلوں نے کم میں جینا سیکھا تھا، اسی لیے ان کے گھروں میں سکون، دلوں میں شکر اور زندگی میں برکت تھی، آج سہولتوں کے باوجود ہم مطمئن نہیں، کیونکہ ہم نے قناعت کو چھوڑ دیا اور خواہشات کو معیارِ زندگی بنا لیا،اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ناشکری نعمتوں کو چھین لیتی ہے اور شکر تھوڑی چیز میں بھی بہت کچھ دکھا دیتا ہے، جب انسان اپنی ضرورت کو خواہش اور خواہش کو حق سمجھنے لگے تو وہ نعمتوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو محروم محسوس کرتا ہے،یہ تمام باتیں اس چیز پر شاہد ہیں کہ اگر ہم نے سادگی، شکر اور قناعت کو دوبارہ اپنا لیا تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ سکون اور برکت کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
اللہ کریم ہمیں جائز روزگار عطا فرمائے حسد کینہ بغض غیبت جیسی بیماریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ہمارے اندر قناعت جذبہ عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                    *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*