خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کیا رب العزت نے بنی نوع انسان کے علاوہ کسی کو بھی اس دولت سے نہیں نوازا، عقل و شعور کی صلاحیت میں مزید نکھار اس وقت آیا جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کی دولت عطا کی علم انسان کو جینے کا سلیقہ اور زندگی کا مقصد عطا کرتا ہے انسانی زندگی کو بہترین سمت اور راہ راست پر لانے کا ذریعہ ہے۔ 
علم تک رسائی اور اس کے حصول کے لیے سب سے معتبر ذریعہ کتاب یے، کتابیں دراصل انسانی زندگی کے لیے فکر تجربہ اور مشاہدہ کا وہ خزانہ ہے جسے نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہا ہے 
کتابیں انسانی زندگی کو حقائق سے روشناس کراتی ہیں کتب بینی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسانی مزاج بے انتہا متاثر ہوتا ہے اور بہترین تغیرات پیدا ہوتے ہیں،انسان سیرت،ادب، تاریخ پر مبنی کتب کا مطالعہ کرے تو اس کے اثرات میں دیانت اور عدل پیدا ہوتا ہے، اگر ناول یا سخن طرازوں کی تصنیفات پڑھیں جائیں تو شخصیت میں لچک پیدا ہوتی ہے، مذہبی کتب کے مطالعے سے انسان کے اندر صبر وشکر کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور روح پر سکون ہوتی ہے ، اسی طرح اگر سفر نامے پڑھیں جائیں تو شوق سیروسیاحت پروان چڑھتا ہے۔۔ 
یوں سمجھ لیجئیے! کتابیں ایک عام انسان کے لیے بہترین رہنما اور مشیر ہوتی ہیں، کتابیں صحیح اور غلط کے مابین فرق کرنےوالی ہوتی ہیں۔ 
 دنیا تمام تر بڑی قوموں کی ترقی کے پیچھے کتب بینی کا ایک اہم کردار رہا ہے، جن معاشروں نے کتب بینی کو اپنایا انہوں نے تعلیم و تہذیب میں بہت اعلی کردار ادا کیا،اور جنہوں نے کتب بینی سے دوری اختیار کی وہ فکری جمود و زوال کا شکار ہوۓ، معلوم ہوا کتابیں فرد نہیں قوموں کی تقدیر ہوا کرتیں ہیں۔ 
عصر جدید نے ڈیجیٹل ذرائع سے معلومات کی رسائی کو بہت آسان کردیا ہے مگر کتاب اور کتب بینی کی اہمیت اب بھی باقی ہے، کتاب اور کتب بینی انسان کو یکسوئی غور و فکر اور گہرے فہم عادت ڈالتی ہیں 
لہذا کتب بینی انسان کے لیے تنہائی کی مخلص دوست ہے