نئی تعلیمی پالیسی: خاموش حذف، بلند ہوتے سوال

تعلیم کسی قوم کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں دیتی، وہ اسے یادداشت عطا کرتی ہے۔ اور جب یادداشت بدل دی جائے تو قومیں چلتی پھرتی لاشوں میں بدل جایا کرتی ہیں۔

آج کا تعلیمی نصاب دیکھ کر یہی سوال بے اختیار زبان پر آتا ہے کہ
کیا یہ وہی سرزمین ہے جس نے آزادی کے لیے اپنا لہو نچھاور کیا تھا؟

وہ مجاہدین جنہوں نے
کالا پانی کی تاریک کوٹھڑیوں میں
اپنی جوانیاں دفن کیں،
جن کے جسم دہلی کی گلیوں میں
دار و رسن اور گولیوں سے چھلنی ہوئے،
جن کے جنازے تاریخ نے اٹھائے،
آج انہی کے تذکرے نصاب سے اس طرح غائب ہیں، جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔

اگر کہیں نام آ بھی جائے
تو محض تین چار سطروں میں،
یوں جیسے یہ قربانیاں نہیں
بلکہ ایک غیر ضروری حاشیہ ہوں۔

 *یہ کیسی تاریخ ہے*
*جس میں آزادی کی قیمت نہیں لکھی جاتی؟


تعلیم کا کام سوال پیدا کرنا تھا،
مگر آج نصاب سوالوں سے زیادہ
یقین مانگ رہا ہے، وہ یقین جو تحقیق سے نہیں بلکہ ایک خاص بیانیے کی مسلسل تکرار سے جنم لیتا ہے۔

نئی تعلیمی پالیسی مہارت اور جدیدیت کے خوش نما الفاظ کے پیچھے ایک خطرناک خاموشی چھپائے ہوئے ہے:
تاریخ کا حذف، تنوع کی نفی، اور تنقیدی سوچ کی تدفین۔

ہندوستان کی ترقی میں جن شخصیات نے علم، کردار اور ایثار سے قوم کی بنیاد مضبوط کی ان کے نام یا تو غائب کر دیے گئے یا اس طرح مختصر کر دیے گئے جیسے ان کا وجود محض ایک اتفاق تھا۔

زمین پر رہتے ہوئے اہلِ زمین کو
آسمان والوں کے برابر مقام تک پہنچانے والی ہستیاں، اساتذہ، علماء، مصلحین، مفکرین ان سب کا تعلیمی نصاب سے اخراج صرف ناانصافی نہیں، بلکہ تہذیبی بددیانتی ہے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے علم کو عبادت بنایا، کردار کو کامیابی کی شرط ٹھہرایا،
اور انسان کو اس کی شناخت سے پہلے
انسان ہونا سکھایا۔

آج اسکولوں کے نظام میں
ڈانس کلاسز، فیرویل پارٹیز اور نمائشی سرگرمیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے،
جبکہ: ڈسپلن، وقارِ استاد،
حیا اور اخلاق یہ سب نصاب سے نہیں
بلکہ ماحول سے خارج کیے جا رہے ہیں۔

یہ سوال اب صرف تعلیمی نہیں رہا،
یہ تہذیبی سوال بن چکا ہے:
 *کیا ہم درسگاہیں بنا رہے ہیں*
*یا تماشہ گاہیں؟

وہ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کی نرسریاں تھے، آج اظہار کی آزادی کے نام پر ضبطِ نفس سے خالی نسلیں تیار کر رہے ہیں۔

جب بچوں کو تاریخ کی سچائی نہیں دی جاتی، قربانیوں کا شعور نہیں ملتا،
اور اختلاف کی تربیت نہیں دی جاتی،
تو پھر ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے
جو آزادی کو مفت، تنوع کو خطرہ
اور تہذیب کو بوجھ سمجھتی ہے۔

آج اصل سوال یہ نہیں
کہ نصاب میں کیا شامل ہے،
اصل سوال یہ ہے یہ اس میں سے کیا نکال دیا گیا ہے۔


 *کیونکہ بعض اوقات حذف شدہ سچ لکھے ہوئے جھوٹ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔* 

تعلیم کا مقصد صرف نوکری کے قابل انسان پیدا کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسی نسل تیار کرنا تھا جو سوال بھی کرے، سمجھے بھی اور تاریخ کے بوجھ کو وقار کے ساتھ اٹھا سکے۔

اگر نصاب نے قوم کی یادداشت چھین لی
تو ترقی کی تمام عمارتیں
کھوکھلی بنیادوں پر کھڑی ہوں گی۔

اور یاد رکھیے یادداشت سے محروم قومیں زندہ رہ کر بھی اپنی موت کا اعلان خود لکھا کرتی ہیں۔