بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج ہندوستان کے حالات دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ یہاں سے مسلمانوں کا زوال شاید جلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے، کیونکہ ہندوستانی مسلمان اسی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں جو کبھی اسپین کے مسلمانوں نے اختیار کی تھی۔ یاد رہے کہ اسپین وہ سرزمین تھی جہاں عظیم علماء نے اپنے درس و تدریس سے لاتعداد حفاظ و علماء کو جنم دیا۔ وہاں کا جامعہ قرطبہ دنیا بھر کے مشہور مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ مگر جب اسپین میں مسلمانوں کا زوال آیا تو وہی سرزمین، جو کبھی اسلامی جمہوریہ کا عظیم مرکز سمجھی جاتی تھی، آج وہاں مساجد و مدارس کے کھنڈرات ہی نظر آتے ہیں۔ وہ سرزمین، جو اسلامی دنیا کا قلب مانا جاتا تھا، آج ایک اذان کے لیے ترس رہی ہے۔

کیا وجہ تھی کہ حالات اس قدر بدل گئے؟ غور کیجئے! کچھ ماہ قبل آر ایس ایس کا ایک وفد اسپین بھیجا گیا تاکہ یہ جانچا جائے کہ وہ ملک جو اسلامی دنیا کا گہوارہ تھا، آج وہاں ایک بھی مسلمان کیوں نہ رہا؟ اسپین کے لوگوں نے جو معلومات دیں، وہ آنکھیں کھول دینے والی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ہم نے مسلمانوں کے دلوں سے علماء کی عزت و تکریم نکال دی۔ جو علماء قوم کے رہنما تھے، قوم کو ان سے بدظن کر دیا۔ جب قوم نے علماء کی باتوں کو ماننے سے انکار کر دیا تو اسپین میں مسلمانوں کی آواز بلند کرنے والا کوئی نہ بچا۔ یوں وہاں مسلمانوں کا زوال ہوا۔

اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہندوستان میں ایسا نہیں ہو سکتا تو یاد رکھیں کہ اسپین میں تو مسلمانوں کی حکومت تھی، جبکہ ہندوستان میں ایسی کوئی حکومت نہیں۔ یہاں تو یہ کام اور بھی آسان ہے۔ آج آر ایس ایس کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ ہمارے کئی علماء بھی ان کے نشانے پر ہیں۔ حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

محمد ابرار رشید