*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم* 
 *السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ* 

 *سوال:*
 *شعبان کا روزہ ١٤ تاریخ کو رکھنا ہے؟* 

 *جواب:* 
شب برات کے نام سے جو ١٥ شعبان کو روزہ رکھا جاتا ہے وہ روزہ نہ تو فرض ہے، نا تو واجب۔ صرف مستحب ہے۔ اور صرف ایک ہی حدیث ایسی ہے جس میں نصف شعبان یعنی ١٥ شعبان کو روزہ رکھنے کا حکم ملتا ہے، لیکن وہ حدیث ضعیف ہے۔ لیکن چونکہ نصف شعبان (١٥ شعبان) کے کئ فضائل روایت سے ثابت ہے، اسلیے روزہ رکھ لینا مستحب ہے ۔ اور یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ ہے۔ 
کچھ لوگ ١٤ شعبان کا روزہ شب برات کے اہتمام میں رکھتے ہیں، اور ١٤ اور ١٥ دو روز روزہ رکھتے ہیں ۔ اب اگر کوئی ایسا روزہ رکھے اسکو فرض سمجھتے ہوۓ تو یہ زیادتی ہے ، جو کہ صحیح نہیں ۔ 
البتہ شعبان کے پورے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت بار بار حدیث میں آئی ہے، اس اعتبار سے اپنی استطاعت کے مطابق روزہ رکھ لیں ثواب ہوگا۔
بہرحال صرف ١٥ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے ، اسکے ساتھ مزید روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر طاقت ہو تو سنت پر عمل کرنے کی نیت سے 13، 14 اور 15 شعبان کو روزہ رکھ لینا چاہیے؛ کیوں کہ ہر اسلامی (قمری) مہینے کی ان تین تاریخوں میں روزہ رکھنا سنت (مستحب) ہے ۔
واللّٰہ اعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ