!نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم. اما بعد
.اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
. بسم اللہ الرحمن الرحیم
یاايهاالناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما فى الصدور وهدى ورحمة للمؤمنين (سورة يونس ٥٧) 



قرآن کریم اللہ رب العزت کا وہ آخری اور کامل ترین پیغام ہے جو انسانیت کی رہنمائی اصلاح و فلاح کے لیے نازل کیا گیا ہے،یہ کتاب نہ صرف عبادات کا نظام پیش کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اخلاق معاشرت ، معیشت، قانون، سیاست، نفسیات، خاندان تعلیم، تجارت، عدل اور بین الاقوامین تعلقات تک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے قرآن ایسی آفاقی کتاب ہے جو صدیوں بعد بھی انسانیت کے لیے اسی طرح قابل عمل اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے جیسے ابتدائی نزول کے دور میں تھی ، اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انسان کے ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کا احاطہ کرتی ہے اور اسے مقصد حیات فکری استحکام ، کردار کی پختگی اور روحانی بالیدگی عطا کرتی ہے۔ 

دنیا کی کوئی بھی کتاب قرآن کی طرح انسانی زندگی کے جملہ مسائل پیش نہیں کرتی قرآن کا مطالعہ انسان کو سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے ، حقیقت تک پہنچنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف راغب کرتا ہے ، اسی لیے قرآن کو ہدایت ، نور ، شفا، رحمت اور ذکر جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ قرآن سکون قلب اور روحانی شفا کا سرچشمہ ہے انسان اپنے اندر کئی طرح کی بے چینیوں، خوفوں اور فکری انتشار میں مبتلا رہتا ہے یہ بے چینی خواہ ماضی کی محرومیاں ہوں مستقبل کے خوف ہوں یا حال کے مسائل ہر صورت قرآن انسان کے دل میں سکون اتارتا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے  " إلا بذكر الله تطمئن القلوب "(سورة الرعد:۲۸ )یہ آیت انسانی نفسیات کی سب سے گہری حقیقت بیان کرتی ہے حقیقی سکون نہ مال سے،نہ شہرت سے اور نہ دنیاوی آسائشوں سے ملتا ہے بلکہ صرف اللہ کی یاد سے ملتا ہے قرآن کی تلاوت دل کو وہ کیفیت عطا کرتی ہے جسے سائنس ذہنی سکون یعنی ریلیکشن رسپانس کا نام دیتی ہے ۔ تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ قرآن کی تلاوت دماغ میں مثبت لہریں پیدا کرتی ہیں جو انزائٹی اور ڈپریشن کو کم کرتی ہے اللہ تعالی قرآن کو شفا بھی قرار دیتے ہیں " وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين (:۸۲سورة الإسراء) 
یہ شفا روح دل اور کردار اور باطن کی بیماریوں کا علاج کرتی ہے حسد ، تکبر، لالچ ، غم ، خوف، مایوسی، غصہ کینہ قرآن دل کو پاکیزگی اور نورانیت بخشتا ہے۔، 
اخلاق فرد اور معاشرے دونوں کی بنیاد ہے جس قوم کے اخلاق مضبوط ہوں وہ ترقی کرتی ہے اور جس قوم کے اخلاق تباہ ہو جائیں وہ طاقتور ہونے کے باوجود زوال کا شکار ہوتی ہے ۔ قرآن اخلاق حسنہ کو انسانیت کی کامیابی کا راز قرار دیتا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے  "أن الله يأمر بالعدل والإحسان"(سورة النخل:۹۰) 
عفوو درگزر اور خیر خواہی کی تعلیم دی گئی ہے، قرآن انسان کو خودغرضی سے نکال کر ایثار و قربانی کی طرف لے جاتا ہے یہ اخلاقی نظام انسان کو اچھا فرد اچھا شہری ، اچھا خاندان کا رکن اور اچھا مسلمان بناتا،
ہے۔ آحادیث میں بھی فرمایا گیا ہے   "خيركم من تعلم القرآن وعلمه "(بخارى) 
یعنی بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے کیونکہ قرآن کے سیکھنے والے کے اخلاق خود بخود درست ہو جاتے ہیں۔ 
قرآن زندگی کا مقصد واضح کرتا ہے اکثر لوگ زندگی میں بے مقصدیت کا شکار رہتے ہیں قرآن انسان کو اس کی تخلیق کا مقصد سمجھاتا ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں قرآن میں  "وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون " (سورة الذاريات ٥٦ )عبادت صرف نماز کا نام نہیں بلکہ زندگی کا ہر وہ عمل جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو وہ عبادت میں شامل ہے قرآن انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ وہ  اعلی مقصد کے لیے پیدا ہوا ہے اور اسی مقصد کی تکمیل میں اس کی حقیقی کامیابی ہے یہ شعور انسان کو گمراہی ، بےراہ روی اور خواہشات کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ مزید قرآن عقل و فکر کی تشکیل کرتا ہے قرآن دنیا کی وہ واحد مذہبی کتاب ہے جو انسان کو بار بار غور و فکر، تحقیق و فہم و تدبر اور عقل کے استعمال کی دعوت دیتی ہے۔" أفلا يتدبرون القرآن؟ "اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اندھی تقلید کے بجائے شعوری ادراک چاہتا ہے قرآن میں بار بار " (أفلاتعقلون؟) (أفلاتنظرون؟) (أفلايتفكرون؟) "جیسی آیتیں ملتی ہیں۔ قرآن نے انسان کی عقل کو جومود سے نکال کر تحقیق علم کی شہرا پر لگایا یہی وجہ ہے کہ قرآن کی بدولت مسلمانوں نے صدیوں تک علم، فلسفہ ، سائنس، طب،۔ریاضی اور ہندسوں میں نمایاں مقام حاصل کیا مسلمانوں کی علمی ترقی کی اصل بنیاد قرآن کی پہلی وحی "إقراءبسم ربك الذي خلق"( سورۃ العلق:۱)میں موجود لفظ إقراء ہے۔ 
قرآن معاشرتی ، معیشت، عدل اور انسانی حقوق کا ضامن ہے۔ قرآن نے انسانیت کو عدل مساوات اور انصاف کے ایسے اصول دیے جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی قرآن نے غلام ، یتیم، مسکین، بیوہ، ہمسایہ ، مسافر وغیرہ مسلم حتی کہ دشمن کے بھی حقوق واضح کیے۔ ولا يجرمنكم شنان قوم على إلا تعدلوا "(سورة المائدة ٨") 
یعنی دشمنی کے باوجود انصاف سے نہ ہٹیں قرآن کے ان اصولوں نے اسلامی معاشرے کو دنیا کا سب سے مہذب اور امن پسند معاشرہ بنایا ، خلفائے راشدین کا دور اسی کا عملی نمونہ ہے۔ قرآن کا اثر کاروبار معاشیات اور سماجی عدل پر بھی ہے، قرآن نے ربوی نظام کو انسانیت کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔" وأحل الله البيع وحرم الربا "(سورة البقرة ٢٧٥) 

قرآن کا معاشی اصول ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔ "كي لا يكون دولة من الاغنياءمنكم " (سورة الحشر ٧) قرآن کے معاشی تعلیمات دنیا میں اقتصادی تتوازن، غربت کا خاتمہ اور معاشرت میں خوشحالی پیدا کرتی ہے، قرآن گھروں میں برکت ، رحمت اور نور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'جس گھر میں قرآن ،۔پڑھا جاتا ہے وہاں فرشتے آتے ہیں ، رحمت نازل ہوتی ہے اور شیطان بھال جاتے ہیں'  قرآن گھر میں محبت، اتحاد سکون ، خیر و برکت اور روحانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ قرآن صرف دنیا کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی ضامن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "اقرؤوالقرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعاًلاصحابه " (مسلم )جو شخص قرآن سے جڑا رہتا ہے وہ قیامت کے دن بلند درجات پائے گا۔         

، خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن دنیا و آخرت کا راستہ ہے انسانی سوچ کو بدل دیتا ہے ، قرآن صرف مذہب نہیں سکھاتا پورا نظام زندگی دیتا ہے ، یہ عبادت بھی سکھاتا ہے تجارت بھی، یہ نماز بھی سکھاتا ہے اخلاق بھی، یہ محبت بھی سکھاتا ہے عدل بھی، اگر کوئی شخص قرآن کو پڑھے تو دنیا میں عزت پاتا ہے اور آخرت میں سرخرو ہوتا ہے۔
  • تو آئیے آج یہ عہد کریں کہ قرآن کو صرف پڑھیں گے نہیں بلکہ سمجھیں گے ، صرف سنیں گے نہیں بلکہ عمل بھی کریں گے اور اپنی زندگی کے ہر فیصلے کو قرآن کے مطابق بنا کر اللہ کے اس عظیم نعمت کو اپنا رہنما بنائیں گے۔ 
ان شآء اللہ

اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ہمیں قرآن کو پڑھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔