قرآن, دل کا سکون

پہلے مجھے لگتا تھا کہ قرآن محض حروف کو زبان سے ادا کر دینے کا نام ہے، رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن کو مکمل کرنے کا نام ہے، کسی کی میت پر ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے کا نام ہے۔
نہیں بلکل نہیں۔
یہ تو اللہ کا آپ سے کلام کرنے کا نام ہے، اسکی آیتوں کو دل میں اتار دینے کا نام ہے۔
انکی آیتوں کو سمجھ کر پڑھنے پر معلوم ہوا یہ تو زندگی کے گھور اندھیروں کو جگنو کی طرح روشن کر دینے کا نام ہے، گمراہ کو ہدایت کے راستے پر لانے کا نام ہے، یہ تو علاج ہے اُداس روحوں کا اور تب سمجھ میں آیا کی مجھے قرآن پڑھ کر کبھی رونا کیوں نہیں آیا، کیوں کبھی مجھ پر اثر انداز ثابت نہیں ہوا کیوں کہ میں نے اس نور کو کبھی اپنی زندگی کے لیے پڑھا ہی نہیں، جس کا لفظ لفظ حیات دیتا ہے اسے بھی میں نے صرف موت کے لیے بچا کر رکھا تھا۔
کبھی کبھی تو اسکی آیتیں اتنے خوبصورت انداز میں آپ کے اُلجھنوں کا جواب دیتی ہیں کی آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ جو قرآن چودہ سو سال پہلے نازل کیا گیا وہ آج چودہ سو سال بعد بھی آپ کی کیفیت کے مطابق ہے۔
اللہ اکبر
ہر لفظ ایک پیغام، ہر سطر ایک اشارہ اور ہر آیت ایک اُمید دلاتی ہے، انہی آیتوں کو تو پہلے بھی میری آنکھوں نے دیکھا تھا لیکن کبھی ناسمجھ سکی کہ جن اُلجھنوں کا حل میں خود میں ڈھونڈھتی رہی وہ تو قرآن کے صفحوں میں موجود ہے۔
جس کتاب کو میں بہت ہی پیچیدہ سمجھتی تھی دراصل وہ تو ایک واضح کتاب ہے ؛ 
ہر سوال کا جواب، ہر تکلیف کا مداوا، ہر شکوہ کی تسلّی مجھے ان آیتوں سے ملی اور تب سمجھ آیا کہ قرآن کو زندہ کتاب کیوں کہاگیا ہے۔ہاں....! تب ملی روح کو تسکین تب لگا کہ اللہ مجھ سے بات کر رہا ہے اور تب ہوا میرے دل کا بوجھ ہلکا، تب ہوا ایک تحفظ کااحساس ایک ایسا احساس جسے صرف آپ محسوس کر سکتے ہیں، ایک اُمید اندر جاگنے لگی کی ہاں اب جتنی بھی بکھر جاؤں اللہ سمیٹ لے گا❤️‍🩹
"کوئی بھی چیز دلوں کو ایسے زندہ نہیں رکھتی جیسے قرآن رکھتا ہے"