دینی جلسوں کا اصل مقصد کہاں کھو گیا؟
✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
_____________________________
محترم قارئین دینی اجتماعات اور اصلاحی جلسوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہو اعمال کی درستگی ہو اور معاشرے میں خیر و اصلاح کی فضا قائم ہو یہ محافل دراصل امت کی فکری و اخلاقی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہیں بشرطیکہ ان کا انعقاد اخلاص حکمت اور ضرورت کے مطابق کیا جائے مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اجتماعات کی روح کمزور ہوتی جا رہی ہے اور ان کی شکل و صورت میں ایسے رجحانات شامل ہو گئے ہیں جو مقصد کے حصول کے بجائے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی بیماری ہے مقررین کی کثرت جلسہ ہوتا ہے تین گھنٹے کا جلسہ ہوتا ہے ڈھائی گھنٹے کا کئی مقررین کو دعوت دی جاتی ہے نوجوان پرانے مناسب وغیرہ مناسب مقرروں کی بھر مار پھر اس کے ساتھ ساتھ وقت بھی متعین نہیں عنوان بھی متعین نہیں اس میں بہت سارے نقصانات ہیں وقت خواہ مخواہ زیادہ خرچ ہوتا ہے ایسی صورت میں آپ جلسہ جلدی ختم کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے دوسرے یہ کہ ہر مقرر دوسرے کے دباؤ میں مضمون کو جلدی سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے تیسرے یہ کہ عوام کے فائدے کی باتیں کم آتی ہیں اور مقررین اپنی زور خطابت اور دوسرے پر برتری حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں الا ما شاء اللہ چوتھے یہ کہ ایسے جلسوں کے ختم پر شرکاء میں سے کسی کو یاد نہیں رہتا کہ کیا نصیحت کی بات کہی گئی کہ اس پر عمل کیا جائے بلکہ ہر ایک صرف مقررین کے مابین تبصرہ کرتا نظر آتا ہے کہ کس کی تقریر اچھی رہی اور کس کی خراب اس کے بجائے ایک مقرر ہو یا زیادہ سے زیادہ دو مقرر ہوں لگا بندھا عنوان ہو اور عنوان سے متعلق بات ہو مجمع کوئی پیغام لے کر جائے کوئی دینی چھاپ قبول کر کے جائے صرف لطائف نہ ہوں حقائق بھی ہوں جوک نہ ہو پیغام ہو زبان بازاری نہ ہوں بلکہ قابل فہم ہوں علاقے کی ضرورت کی بات سامعین کی خدمت میں رکھی جائے۔
میں اکثر یہ مشاہدہ کرتا ہوں کہ جلسوں کے لیے جو اشتہارات تیار کیے جاتے ہیں ان میں کم از کم چالیس پینتالیس بلکہ بعض اوقات پچاس افراد کے نام درج ہوتے ہیں اور ہر نام کے ساتھ بے شمار القاب لگا دیے جاتے ہیں جن کی نہ علمی ضرورت ہوتی ہے اور نہ عملی افادیت مزید یہ کہ اکثر ایسے مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے جو دینی رہنمائی اور اصلاحی گفتگو کے بجائے قصے کہانیوں ظرافت اور لطائف پر زیادہ انحصار کرتے ہیں یہاں تک کہ جلسہ ایک سنجیدہ اصلاحی اجتماع کے بجائے ہنسی مذاق کی محفل کا منظر پیش کرنے لگتا ہے بعض مقررین ایسے بھی ہوتے ہیں جو آمد سے قبل ہی کہہ دیتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہے میرا فیس کتنا ہے اور ایک دو گھنٹہ کا بیس تیس ہزار وصول کر کے چلے جاتے ہیں دوسری طرف جلسے کے منتظمین بچوں کے ہاتھوں میں تھیلے جھولے اور رسیدیں تھما کر چندہ جمع کرواتے ہیں جو کہ بہت شرمناک بات ہے اس طرح امت کا جمع شدہ مال بے دردی سے خرچ کیا جاتا ہے جبکہ مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ جو خاموشی سے دینی خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں ان کو مہینہ کا تنخواہ دس سے بارہ ہزار یا زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار دیتے ہیں اور مقررین پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہیں۔
یہ طریقہ کار نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشرے کی اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا ہو رہا ہے مزید یہ کہ ایسے جلسے ایک دن کے بجائے دو دو تین تین دن تک جاری رہتے ہیں جس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ اصل مقصد یعنی دینی تربیت اور اصلاح معاشرہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور میں اصلاح اور ہدایت عطا فرماۓ آمین یارب العالمین ۔