*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ*
*ماہِ شعبان کی فضیلت واہمیت* :
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تقریباً) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور فرماتے: نیک عمل اتنا ہی کیا کرو، جتنی تمہاری طاقت ہے، کیونکہ اللہ ثواب دینے سے تھکے گا نہیں، تم ہی تھک جاؤگے۔‘‘ (بخاری، ج:۲)
شبِ براءت اسلام میں ایک مبارک رات ہے، جس کی فضیلت بہت سی احادیث سے ثابت ہے، بعض لوگ سرے سے اس مبارک رات کے کسی قسم کی فضیلت کے ہی قائل نہیں۔
جبکہ بعض لوگ اس کو شبِ قدر کے برابر سمجھتے ہیں، یہ دونوں موقف درست نہیں۔
حدیث کے اعتبار سے اس رات میں بے شمار گناہ گاروں کی مغفرت اور مجرموں کی بخشش کی جاتی ہے، اور جہنم کے عذاب سے چھٹکارا ملتا ہے، اس لیے عرف میں اس کا نام شبِ براءت مشہور ہو گیا۔
احادیث میں اس رات کا کوئی مخصوص نام نہیں، بلکہ ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ کہہ کراس کی فضیلت بیان کی گئی۔
(ایک سال کی) زندگی، موت، رزق کے فیصلے اسی رات میں ہو تے ہیں۔
حضرت عائشہ صدّیقہ ؓروایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات (پندرہویں شعبان) میں کیا ہے؟ عائشہ صدّیقہ ؓنے عرض کی کہ : اے اللہ کے رسول! اس رات میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس بچے نے اس سال میں پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ اس رات میں لکھا جاتا ہے، اور اس سال میں جو بنی آدم ہلاک ہونے والا ہوتا ہے، اس کا نام لکھا جاتا ہے، اور اس رات میں ان کے اعمال اُٹھالیے جاتے ہیں، اور اسی رات میں ان کے رزق نازل ہوتے ہیں، پھر عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو اللّہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں جا سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، تو میں نے کہا کہ آپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکیں گے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سر پر رکھ کر فرمایا: اور میں بھی نہیں جا سکوں گا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین دفعہ ارشاد فرمایا۔ (رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر)
واللّٰہ اعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ