*خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے؟ ایک بگڑا ہوا رشتہ، اور معاشرتی المیہ*
یہ سوال صرف ایک گھر، ایک مرد یا ایک عورت کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر سے جڑا ہوا سوال ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو ایک جائز رشتے کو حرام جذبات کی نذر کر دیتی ہیں، وہ کون سی کوتاہیاں ہیں جو نکاح جیسے مقدس بندھن کو محض ایک کاغذی معاہدہ بنا دیتی ہیں، اور وہ کون سی غفلتیں ہیں جو انسان کو اس مقام تک لے آتی ہیں جہاں وہ اپنے کیے کا جواز بھی خود ہی تراشنے لگتا ہے، کیا واقعی ہر وہ عورت جو نکاح کے بعد کسی اور سے تعلق رکھے، مجبور ہوتی ہے؟ کیا ہر وہ مرد جو صبر کرتا ہے، کمزور ہوتا ہے؟ یا پھر اصل مسئلہ کہیں اور ہے،تربیت میں، نیت میں، سچ چھپانے میں، اور خواہشات کو دین و اخلاق پر ترجیح دینے میں؟
قرآنِ کریم ایک واضح اصول بیان کرتا ہے *الخبیثات للخبیثین والخبیثون للخبیثات والطیبات للطیبین والطیبون للطیبات*
مگر کیا اس اصول کا یہ مطلب ہے کہ ہر ناپاک عمل کے مقابل لازماً ناپاک انسان ہی ہو؟ یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاک لوگوں کو ناپاک حالات میں ڈال کر آزمایا جاتا ہے تاکہ حق اور باطل کے بیچ فرق واضح ہو جائے؟ یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ داستان جنم لیتی ہے۔
*اب ذرا دل کی آنکھوں اور بصیرت و بصارت دونوں کا حاضر رکھیں میرے عزیز*
شادی کی پہلی رات تھی، وہ رات جو عام طور پر خوشیوں، امیدوں اور نئے خوابوں کی شروعات سمجھی جاتی ہے، مگر اس شخص کے لیے وہ رات خوشی نہیں بلکہ ایک ایسا سوال بن کر اتری جس کا جواب اسے برسوں تک تلاش کرنا پڑا، دلہن بنی عورت نے نہ کسی جھجک کے ساتھ اور نہ کسی ندامت کے احساس کے ساتھ صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اسے ہاتھ نہ لگایا جائے، کیونکہ اس کا دل کسی اور کے پاس ہے، یہ شادی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی ہے اور وہ کبھی اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کر سکے گی، آنکھوں میں آنسو ضرور تھے، مگر وہ آنسو پچھتاوے کے نہیں بلکہ ایک ایسے فیصلے کے تھے جس کا بوجھ وہ خود نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔
وہ شخص ششدر رہ گیا، نہ غصہ اس پر غالب آیا اور نہ ہی زبان سے کوئی سخت لفظ نکلا، بلکہ وہ خاموشی جو بعض اوقات چیخ سے زیادہ شور مچاتی ہے، اس کے وجود پر چھا گئی۔ جب ذہن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو اس نے وضو کیا، نماز پڑھی اور اللہ کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ آخر یہ کیسا امتحان ہے جس میں نہ قصور واضح ہے اور نہ راستہ آسان۔
اسے سب سے زیادہ خوف اس عورت سے نہیں تھا بلکہ اس معاشرے سے تھا جو ہر معاملے میں سب سے پہلے مرد کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، اس خاندان سے تھا جہاں عزت چند باتوں کی محتاج ہوتی ہے، اور ان الزامات سے تھا جو بغیر تحقیق کے پوری زندگی پر مہر لگا دیتے ہیں۔ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص تھا جس نے شادی پر اپنی جمع پونجی خرچ کر دی تھی، اب اگر یہ رشتہ ٹوٹتا تو الزام کردار پر آتا، قربانی کا ذکر کوئی نہ کرتا۔
ایک لمحے کو اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ شرعاً نکاح میں ہونے کے باعث وہ زبردستی کا حق رکھتا ہے، مگر اس کے دل اور ضمیر نے اس کی اجازت نہ دی، کیونکہ وہ مرد ضرور تھا مگر ظالم نہیں تھا، صبح وہ عورت خاموشی سے اپنے میکے چلی گئی، تین دن تک کوئی رابطہ نہ ہوا، پھر اس کی ماں کا فون آیا اور وہ بغیر کسی شکایت کے اسے واپس لے آیا، شاید اس امید پر کہ وقت سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔
مگر وقت نے زخم بھرنے کے بجائے انہیں گہرا کر دیا، راتوں کو وہ عورت چھت پر یا گھر سے باہر فون پر باتیں کرتی، اس کی مسکراہٹیں کسی اور کے لیے ہوتیں اور شوہر کا وجود محض ایک رسمی ذمہ داری بن کر رہ گیا، اس شخص نے سوال کرنا چھوڑ دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کچھ سوالوں کے جواب انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں، بس ایک بات پوچھی گئی کہ کیا طلاق چاہیے، جواب صاف تھا نہیں۔
پانچ مہینے اسی کیفیت میں گزر گئے، یہاں تک کہ ایک رات حقیقت نے خود چل کر دروازہ کھٹکھٹایا، دوست نے اطلاع دی کہ اس کی بیوی کسی غیر مرد کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھی ہے، پہلے تو یقین نہ آیا، مگر جب گھر خالی ملا تو سچ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، وہاں جا کر منظر دیکھا تو وہ ٹوٹ گیا، مگر اس نے نہ شور مچایا اور نہ تماشا بنایا، بس اتنا کہا کہ گھر چلو، یہی وہ لمحہ تھا جہاں اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا، ایک تھپڑ پڑا، مگر اسی لمحے ضمیر نے بھی اسے جھنجھوڑ دیا، عورت خاموش رہی، آنسو بہے، مگر سچ زبان تک نہ آیا، اس نے ایک بار پھر عزت بچانے کے لیے سب کچھ چھپا لیا، دوستوں سے بھی اور معاشرے سے بھی، مگر چند دن بعد جب وہ عورت ماں کے گھر جانے کے بہانے پھر اسی مرد کے ساتھ دیکھی گئی تو اس شخص کو یہ احساس ہو گیا کہ اب خاموشی صبر نہیں بلکہ خود فریبی ہے۔
*اصل حقیقت کیا ہے؟*
آخر ایسی نوبت کیوں آئی؟ اس لیے کہ سچ کو وقت پر نہیں بولا گیا،
آخر یہ سب کیوں ہوا؟ اس لیے کہ نکاح سے پہلے دل کہیں اور لگا ہوا تھا مگر جرأت نہیں تھی انکار کی،
آخر ایک مرد ٹوٹ کیوں گیا؟ اس لیے کہ اس نے گناہ کے جواب میں گناہ کا راستہ اختیار نہیں کیا،اور آخر قرآن کا اصول کہاں کھڑا ہے؟ وہاں، جہاں نیت اور عمل انسان کو خبیث یا طیب بناتے ہیں، نہ کہ صرف حالات۔
یہ تحریر کسی عورت کو ہدف بنانے کے لیے نہیں اور نہ ہی کسی تشدد کا جواز ہے، بلکہ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ حرام محبت کبھی کسی کو سکون نہیں دیتی، اور جائز رشتوں کی بےقدری آخرکار بربادی پر منتج ہوتی ہے، قرآن کا اصول اپنی جگہ اٹل ہے، مگر اللہ کی حکمت یہ بھی ہے کہ کبھی پاک لوگوں کو ناپاک رشتوں کے ذریعے آزمایا جاتا ہے تاکہ سچ، صبر اور کردار کا فرق واضح ہو جائے، یہ کہانی اسی فرق کی گواہی ہے۔

                    *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*