*اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے*


انسان جب اس کائناتِ بسیط میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوتا ہے جس میں خواہشات کی گھاٹیاں، ضرورتوں کے پہاڑ، اور مشکلات کی وادیاں اس کا انتظار کرتی ہیں، ہر قدم پر اسے روشنی کی جستجو اور سچی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، انسان کے بنائے ہوئے نظام کبھی معاشی زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں، کبھی اخلاقی بگاڑ پیدا کرتے ہیں، اور کبھی سیاست کے نام پر ظلم و جبر کی راہیں ہموار کرتے ہیں، ایسے میں انسان کی روح ایک ایسے کامل اور آفاقی نظام کی تلاش میں بے چین رہتی ہے جو نہ صرف اس کے ایمان و عقیدے کو سنوارتا ہو بلکہ اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو بھی سکون اور توازن عطا کرے، اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر گوشے کو محیط ہے، چاہے وہ عقیدہ ہو یا عبادت، اخلاق ہو یا معیشت، سیاست ہو یا معاشرت، اسلام ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے اور مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کو محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کہا جاتا ہے...



یہی وہ خلاء ہے جسے اسلام اپنی آفاقی تعلیمات اور الٰہی حکمتوں سے پر کرتا ہے، اسلام ایک ایسا دین ہے جو محض مسجد و محراب تک محدود نہیں بلکہ بازار، عدالت، تعلیمی ادارے، گھریلو زندگی اور ریاستی نظام سب کو اپنے نور میں لپیٹ لیتا ہے، اسلام انسان کو جینے کا سلیقہ ہی نہیں دیتا بلکہ مرنے کے بعد کی کامیابی کا یقین بھی بخشتا ہے، اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرکے زندگی جینے کا سلیقہ بخشتا ہے...


اولا انسان کو ضرورت تھی کے خدا کی معرفت کیسے حاصل کی جائے کیسے پہچانا جائے تو اسلام نے اس کے لیے راہ ہموار کی انبیاء و رسل کو دنیا میں مبعوث فرمایا،

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا﴾

یقینا ہم نے ہر امت کے لیے راہنما بھیجا،

انبیاء نے انسان کو تعلیم و تربیت دی، اور اخلاقی اصول عطا کیے، خدا کی وحدانیت کو سمجھایا،


جب اسلام نے عقیدے کی بات کی اور کائنات کو خدا وحدہ لا شریک کی جانب گامزن کیا تو بڑے اچھوتے انداز میں خدا کے وجود اور وحدانیت پر مکمل اصول عطا کیے،جس کو قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں بیان کیا،

﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ٭ اللّٰهُ الصَّمَدُ ٭ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٭ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾

یہاں قرآن کریم نے نہایت جامع اور مانع انداز میں توحید کے اصول کو بیان کیا ہے، نہ اللہ کی کوئی مثل ہے، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کسی نے اسے پیدا کیا، گویا وحدانیتِ خداوندی کو منطقی اور عقلی دلائل کے ساتھ ایسے انداز میں پیش کیا گیا کہ ہر باطل نظریہ خود بخود باطل ہو جائے...


معرفت خدا کے بعد ابھی مشکل تھا کے اب اللہ کو مان لیا، جان لیا پھر آگے کونٹیکٹ کیسے ہو؟ کیا صرف مان لینا ہی کافی ہے تو اسلام نے رہنمائی کی اور اللہ سے جڑنے اور اسکی تخلیق کے سبب کو بیان کیا،

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ}ہم نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے،

عبادت انسان کو نفسیاتی سکون اور روحانی طاقت عطا کرتی ہے...


لیکن ابھی بھی کمی تھی اور سوال یہ تھا کہ فقط خدا مان لینا کافی ہے یا کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہے تو انبیاء کرام نے اسکو بھی بیان کیا،

نبی ﷺ نے ایمان کی بنیاد چھ چیزوں پر رکھی اللہ، فرشتے، کتابیں، رسول، آخرت، اور تقدیر, اس ایمان نے انسان کو مقصد اور یقین بخشا...


لیکن یہ تو فقط دینداری سے متعلق تھے ابھی تو دنیا میں بھی زندگی گزارنی تھی نا، اسکے لیے بھی اصول کی ضروت تھی، تو جب ہم نے دنیاوی سطح پر اتر کر دیکھا تو معلوم ہوا کے سب سے پہلے ہمیں اخلاق حسنی کی ضرورت ہے،اسلام نے اسکی بھی راہنمائی کی اور ایک بہترین نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے روبرو رکھا،جس نے معاشرتی تمام عنوان پر بحث کی اور ہر چیز کا ایک مکمل اصول عطا کیا،جب اخلاق کی بات آئی تو فرمایا، حسن اخلاق سب سے بہترین سرمایہ ہے،اس میں تمام انسان،جانور،پیڑ، پودے،اور کائنات کی ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا اصول عطا کیا اس محسن کائنات نے...


لیکن ابھی بھی کمی تھی زندگی تنہا گزارنے کی ،اسلیے کے اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی اتنی بڑی زمین میں تنہا زندگی گزارنا ممکن نہیں،ایک ذی شعور انسان کے لیے تو ضرورت تھی ایک شریک حیات کی اسلام نے اسکے مکمل اصول عطا کئے اور اسکی ابتداء سے لیکر انتہا تک کا ضامن ٹھہرایا،اور ازدواجی زندگی کو گزارنے کا بہترین اور منطم طریقہ فراہم کیا اور فرمایا،

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

اس سے خاندان مضبوط اور معاشرہ محفوظ ہوا....


لیکن ابھی بھی کمی تھی ایا کیا والدین کو چھوڑ دیا جائے اور صرف شریک حیات پر توجہ دی جائے تو اسلام نے اسکی بھی راہنمائی کی اور والدین کے مرتبے کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا،

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾

والدین کی خدمت سے نسلوں میں محبت اور برکت آئی...


لیکن ابھی بھی ضرورت تھی اولاد کی پرورش کو لیکر اور مسئلہ تھا آخر ہم اب بچوں کے ساتھ کیا کریں اسلام نے منظم اصول عطا کیا اسکی پیدائش سے لیکر اسکو حد بلوغت اور موت تک کا،اور بڑے خوبصورت انداز میں مکمل سمجھایا،اور دنیا کا واحد مذہب،مذہب اسلام ہے جس نے اولاد کی پرورش کو عبادت کا درجہ عطا کیا اور فرمایا،

“تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے،(ترمذی)


لیکن ابھی بھی پڑوسیوں کے حقوق کی بات تھی کیا ہم جس طرح تنہا اچھے سے کھا رہے ہیں اسی طرح کرتے رہیں یا کچھ اور بھی ہے تو اسلام نے پڑوسی کے حق کو جوڑا اور بتایا کہ تم پڑوسی کا بھی حق ہے جو دنیا کے کسی مذہب میں، میں نے نہیں پڑھا اور نا اس اصول کو بیان کرتے ہوئے سنا،

نبی ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے پڑوسی کے حقوق کی اتنی تاکید کی کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ وارث بنائے جائیں گے(بخاری)

اس سے معاشرے میں اعتماد اور محبت پھیلی اور ایک دوسرے پر اعتماد بڑھا اور متزلزل دنیا کو ایک آئیڈیل ملا...


لیکن ابھی معیشت کا مسئلہ تھا اور بات تھی کیسے کمائیں کیسے کھائیں اور کیا بیچیں کس کو نا بیچیں تو اسلام نے مکمل اصول عطا کئے اور بتایا کیا بیچنا جائز اور کیا نہیں کیا کھانا جائز ہے اور کیا نہیں،

فرمایا گیا قرآن کریم میں،

﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾

سود کی ممانعت نے استحصال روکا اور حلال تجارت سے برکت آئی اور ہونے والے جھگڑے اور محنت سے کمائی ہوئی دولت کی دھجیاں بکھیر دیں جو پوری دنیا میں کسی مذہب میں نہیں ہے...


اب عدل و انصاف کا تقاضہ تھا مسلمان کے سامنے کیا ہم کسی پر بھی ظلم زیادتی کر سکتے ہیں جس کو چاہیں ماریں جسکو چاہیں آمان دیں اسلام نے مکمل اصول بیان کئے اور حقانیت اور انصاف کی بات کی اور فرمایا،

﴿إِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾

اس سے ہر فرد کو امن اور حقوق ملے...


پھر سوال ہوا کیا ہم اب دنیا میں رہتے ہوئے ظلم کو برداشت کر سکتے ہیں تو جو چاہے ہمیں مارے ہم صرف صبر کا دامن تھامے رہیں اسلام نے مکمل راہنمائی کی اور ایک بہترین نظام عطا کیا اور فرمایا گیا،

﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ﴾

اس سے کمزوروں کو تحفظ اور آزادی ملی کمزوروں پر ظلم کرنے کا تصور بھی ختم کر دیا گیا...


لیکن ابھی بھی تعلیم و تعلم کا مرحلہ ہمارے سامنے موجود تھا پھر اسلام نے ایک مکمل نظام عطا کیا اور بتایا کے جاہل رکھنا سب سے بڑی بےوقوفی ہے تو اسکے لیے فرمایا،

طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ،

اسلام نے بتایا علم انسان کو جہالت سے نکال کر اعلی معیار پر فائز کرتا ہے...

اسکے بعد ایک آخری مرحلہ تھا کیا ہم یہ سب کرنے کے بعد دنیا میں ہی ہے یا آخرت میں بھی کچھ عطا کیا جائے گا تو اسلام نے اسکے لیے مکمل قوانین عطا کئے اور حشر و قیامت کا تصور دیا اور اچھے برے اعمال کے نتیجے کے سرمایہ کا ذکر کیا اور فرمایا،

﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴾

یہ یقین انسان کو برائی سے بچاتا اور نیکی پر قائم رکھتا ہے،اور ایک ذرہ برابر بھی بد اخلاقی،اور مذہب اسلام کے قوانین کے خلاف کرنے پر اسکی مذمت کی...


گویا انسان کے وجود سے اختتام انسان تک اور پھر دوبارہ انسان کی قائمگی تک کو اسلام نے بیان کر دیا اور کوئی کمی نہیں چھوڑی،جو دنیا میں ہمیں ضرورت ہو اور اسلام میں موجود نا ہو، اور یہ بات یقینی ہے اتنا منظم اور متبرک طریقہ وہی ذات عطا کر سکتی ہے جو ہر ایک شیئ پر قادر اور ہر شیئ سے افصل و اعلٰی ہو اسی ذات کو باری تعالٰی کہتے ہیں جس نے فرمایا،


{ان الدین عند اللہ الاسلام}

اللہ کے نزدیک مزہب صرف اسلام ہے...



یہ مختصر تحریر ہے اسلام کی تمام خوبیوں کا تذکرہ میرے بس میں نہیں پھر بھی اللہ کریم نے جتنی توفیق عطا کی اسکو سمجھانے کی کوشش کی آپ حضرات میرے علم و عمل کے لیے دعا کریں...


یقینا یہ میرے رب کی شان ہے کے وہ کسی کو بھی منصب عطا کر سکتا ہے آپ حضرات اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اللہ کریم ہمیں آپکو اور تمام کائنات کو مذہب اسلام کو سمجھنے کی توفیق بخشے،آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ....


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️