سکون کی تلاش میں ایک بے خواب انسان
✍️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
رات کی تاریکی انسان کے دل و دماغ کو یکسر جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے،
اس لیے کہ دن کا اجالا تو کسی نہ کسی طرح انسان کو مصروف رکھنے کا سامان مہیا کر دیتا ہے،
ہجومِ مصروفیات، شورِ زندگی، اور ظاہری مشاغل ذہن کو وقتی طور پر بہلا دیتے ہیں،
مگر رات… رات تو انسان کے لیے اُس نا مٹنے والے غم کی طرح ہوتی ہے
جس سے فرار ممکن نہیں،
جو خاموشی سے آ کر دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے
اور انسان کو اُس کی اصل حقیقت سے آمنے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔
یہی انسان کی اصل حالتِ زار ہے۔
دن میں وہ خود کو مضبوط سمجھتا ہے،
مگر رات میں اسے اپنی کمزوریوں کا پورا شعور ہو جاتا ہے۔
دل کے اندر چھپے ہوئے خوف، وسوسے، محرومیاں اور ادھورے خواب
سب اندھیرے میں زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔
ان لمحوں میں انسان بے اختیار
ربِ ذوالجلال کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرتا ہے،
مگر شیطان لعین اُس کے عزم و حوصلے پر حملہ آور ہو جاتا ہے،
کبھی ناامیدی کے پردے ڈال دیتا ہے،
کبھی ماضی کے زخم تازہ کر دیتا ہے،
اور کبھی مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کر کے
انسان کو پس و پیش اور اضطراب کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔
ایسے میں کوئی سہارا باقی نہیں رہتا
سوائے ربِ رحمن کے۔
کیونکہ حقیقی سکون نہ نیند دیتی ہے،
نہ مال، نہ لوگ، نہ شہرت، نہ طاقت۔
دلوں کو سکون صرف اللہ ہی دیتا ہے۔
(ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب)
اسی لیے بندۂ مومن کی زبان پر ہر حال میں یہی دعا رہنی چاہیے:
اللهم اجعل في قلبي نورًا،
وفي صدري سكينة،
وفي أمري يسرًا،
واصرف عني الهم والحزن.
اے اللہ! میرے دل میں نور بھر دے،
میرے سینے میں سکون اتار دے،
میرے معاملات آسان فرما دے،
اور مجھ سے ہر غم اور ہر پریشانی دور کر دے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان باہر سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے،
اندر سے وہ ہمیشہ محتاج ہے…
رب کا، رحمت کا، اور سکون کا۔
اور یہی انسان کی وہ حقیقت ہے
جو عقل سے نہیں، صرف رب کی معرفت سے سمجھی جا سکتی ہے۔