الحمد لله الذي أحياالقلوب بنسمات الإيمان وأنار النهى بقبسات القرآن واختار لامة الشهادة العربية خير لسان وأرقى بيان واصطفى لرشد الثقلين خير بني آدم وصفوة ولد عدنان فكان خاتمة الأنبياء وزبدة الأصفياء واختص بالمعجزة الخالدة عليه أفضل الصلاة والتسليم وعلى الآل والصحب والاخوان أما بعد. فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم.

وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفْسِقُونَ(المائدة: (٤٩)

آج پوری دنیا میں ہر طرف جمہوریت کا ڈنکا بڑے زور وشور سے بج  رہا ہے۔ سرمایہ دار ہوں یا جاگیردار، حکمران ہوں یا حزب اختلاف کی جماعتیں ، مذہبی رہنما ہوں یا ریاست کے عام باشندے ۔۔ سب کے سب جمہوریت کی زلف گرہ گیر اور حسن سحر انگیز کی مکمل گرفت میں آچکے ہیں۔ جمہوریت کی بالا دستی اور تقدس کے ترانے بڑی شان سے گائے جار ہے ہیں اور جمہوریت کے اصل مغربی دلال اور سر پرست ان ممالک پر جمہوریت کے تریاق کا یہ نسخہ استعمال کرنے کیلئے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، جو بوجوہ اب تک اس کے " استفادہ" سے محروم ہیں۔

جمہوریت کے مداریوں کا دجالی قافلہ ہے جس نے ہر کس و ناکس کو حیرت انگیز طور پر اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ اندھے جذبات کا ایک بے قابو سمندر ہے جو بڑے بڑے " مفکروں " اور "مدبروں" کے ہوش و حواس خس و خاشاک کی طرح بہائے لئے جا رہا ہے۔ جمہوریت کے "دیوتا" سے وابستہ کی جانے والی روٹی کپڑے مکان اور روشن مستقبل کی امیدیں ہیں جو جمہوریت کے بت کے آستھان پر لاکھوں انسانی جانوں کی بھینٹ چڑھائے جانے کے باوجود بھی پوری نہیں ہور ہی ہیں۔

یہ فتنہ خوشنما اور سراب حقیقت نما جمہوریت آخر ہے کیا چیز ؟ شاید ہی کسی نے یہ جاننے کی زحمت گوارا کی ہو کہ تمام تر فلک شگاف دعوؤں کے برخلاف اس جمہوری نظام سے خیر کی بجائے ہمیشہ شر برآمد ہونے کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ جو نظام ہمارا مطلوب اور صحیح معنوں میں خیر و فلاح کا سرچشمہ ہے، یہ وہ نظام ہی نہ ہو۔ بس "لیڈر ان قوم " ہیں کہ برآمد شدہ نتائج سے قصدا چشم پوشی اختیار کر کے اور انجام سے بے خبر ہو کر جمہوریت کی پگڈنڈی پر اپنے اپنے عقیدت مندوں سمیت سرپٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ مذہبی رہنما ہیں کہ ووٹ کے ذریعے اسلام کے نفاذ کا نعرہ لگا کر اور انقلاب کا بگل بجا کر پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بھی روادار نہیں ۔۔۔ اور سادہ لوح عوام ، تو وہ اپنی جان و مال ، عزت و آبرو اور ایمان ویقین کی دولت کا خراج دینے کے باوجود بھی کیکر کے اس کانٹوں بھرے درخت سے پھولوں کی تمنا دل میں بسائے بیٹھے ہیں۔

اس مضمون میں جمہوریت کے اس بے نقاب بت کی  حقیقت کو آشکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کی تمام حشر سامانیاں اور فسوں کاریاں،  نہایت واضح اور برہنہ ہونے کی حد تک عیاں ہیں؛ تا کہ جمہوری نظام کے ذریعے اسلام نافذ کرنے والے لیڈروں کو جمہوریت کا اصل روپ دکھایا جا سکے۔۔۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے جمہوری طوائف کے دلالوں کو مسلمانوں کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالنے سے روکا جا سکے۔۔۔ اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کو کھوٹے اور کھرے اور حق اور باطل کا شعور دے کر ان کو حق اور باطل کے درمیان ازل سے جاری کشمکش کے ایک اور معر کے کیلئے تیار کیا جا سکے ۔

رب ذوالجلال والاکرام  ہماری اس محنت کو اپنے دربار عالی میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

إن أريد إلا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي إلا بالله

اسلام کے بعد اب کسی دین  جدید کی ضرورت نہیں

ہر مسلمان جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہے، اور ان کے فرموداتی جملوں کے حقیقی معانی سے آگاہ ہے ،تو  اسے مکمل طور پر اس بات کا ادراک ہو گا کہ دین اسلام فی ذاتہ ایک مکمل دین ہے، اس میں کوئی کمی یا نقص نہیں کہ جس کی تکمیل کی جائے اور یہ ایسادین سے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس کے دامن میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے تمام سامان موجود ہیں ؛لہٰذا اسے کسی دوسرے نظریے کے ساتھ خلط  ملط کرنے کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ضرورت۔

یہ دین عقائد کے اعتبار سے بھی کامل ہے اور احکامات کے لحاظ سے بھی،  اسی طرح عبادات، معاملات ، سیاسیات، عدل و انصاف، اخلاقیات اور اقدار؛ غرض ہر معاملے میں مکمل اور واضح ہے اور اپنے تمام ضابطوں اور ان کے حصول و تنفیذ کے لیے یہ کسی خارجی معاون کا محتاج نہیں ۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں :الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينا - (المائدة: (۳)

اور نبی صلی اللہ کا فرمان ہے :  إني قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبداً ، كتاب الله وسنة نبيه (الحديث رواه الحاكم )

لہٰذا شریعت اسلامی سے ہٹ کر جس چیز کی بھی اتباع کی جائے وہ خواہشات نفس کی اتباع ہی کہلائے گی ، خواہ اسے کوئی خوب صورت نام دے کر اس میں کیسی ہی خوبیاں کیوں نہ گنوائی جائیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :ثم جعلناك على شريعة من الأمر فاسعُها ولا تشبع أهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ( الجاثية (۱۸)

اور فرمایا:" فلذلك فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمين ولا تشبع أَهْوَاءَهُمْ " (الشورى : ١٥)

اور فرمایا:وأن هذا صراطي مستقيما فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا الشكل فتفرق بكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَضَاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تتقون " (الانعام: ١٥٣)

ان ارشادات کو پڑھ کر مومنین کو چاہیے  کہ اس صراط مستقیم کو اپنے لیے صد افتخار سمجھے ، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے ، اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دے اور اس کے نشر کے لیے ہر قسم کی تکلیف و صعوبت برداشت کرے۔ اس کے ماسوا کی طرف ادنی سے التفات سے بھی بچے۔ خواہ اس کے ثبوت کے لیے کیسی ہی ملمع ساز دلیلیں کیوں نہ ہوں۔

اب باقی رہ جاتا ہے یہ سوال کہ جمہوریت  آخر ہے کیا چیز جسے مغربی سیاست دان ہمارے معاشروں پر نافذ کرنے کے خواہاں ہیں۔ تو آئندہ صفحات میں ہم اسی  کو مرکزِ بحث بناتے ہوئے جمہوریت کے مفہوم، اس کے فکری پس منظر اور اس کے عملی نتائج کا نہایت سادہ، سلیس اور واضح انداز میں جائزہ لیں گے۔

جمہوریت کا مختصر تعارف

قبل اس کے کہ جمہوریت کے بارے میں ہم کوئی تفصیلی گفتگو کریں،اولاً مختصر طور پر چند حوالوں سے جمہوریت کا ایک تعارف پیش کرنا چاہتے ہیں، تا کہ قارئین کے لئے سمجھنا آسان ہو۔

(1) شیخ الاسلام  مفتی تقی عثمانی صاحب حفظ اللہ تحریر فرماتے ہیں : کہ عام طور سے جمہوریت کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں صرف اتنی بات ہے کہ مطلق العنان بادشاہت کے مقابلے میں یہ نظام عوام کو آزادی اظہار رائے عطا کرتا ہے اور حکمرانوں پر ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جن کے ذریعے وہ بے مُہار نہ ہو سکے ۔ اور چونکہ اسلام نے ” مشاورت“ کا حکم دیا ہے ، اس لئے ”جمہوریت “ کو ”مشاورت “ کے ہم معنی سمجھ کر لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”جمہوریت“ عین اسلام ہے۔ حالانکہ بات اتنی سادہ نہیں، در حقیقت جمہوری نظام حکومت“ کے پیچھے ایک مستقل فلسفہ ہے جو دین کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتا، اور جس کے لئے سیکولرزم پر ایمان لانا تقریب لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔

جمہوریت کی حقیقت واضح کرنے کے لئے یہ جملہ مشہور ہے :

IT IS A GOVERNMENT OF THE PEOPLE BY THE PEOPLE FOR THE PEOPLE

(جمہوریت عوام کی حکومت کا نام ہے جو عوام کے ذریعے اور عوام کے فائدے کے لئے قائم ہوتی ہے)

لہذا جمہوریت“ کا سب سے بڑا رکن اعظم یہ ہے کہ اس میں عوام کو حاکم اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے اور عوام کا ہر فیصلہ جو کثرتِ رائے کی بنیاد پر ہوا ہو وہ واجب اورناقابل تنسیخ سمجھا جاتا ہے ۔ کثرتِ رائے کے اس فیصلے پر کوئی قدغن اور کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ اگر دستورِ حکومت عوامی نمائندوں کے اختیار قانون سازی پر کوئی پابندی بھی عائد کر دے (مثلاً یہ کہ وہ کوئی قانون قرآن و سنت کے یا بنیادی حقوق کے خلاف نہیں بنائے گی ) تو یہ پابندی اس لئے واجب التعمیل نہیں ہوتی کہ یہ عوام سے بالا تر کسی اتھارٹی نے عائد کی ہے ۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جسے ہر حال میں ماننا ضروری ہے ، بلکہ صرف اس لئے واجب التعمیل سمجھی جاتی ہے کہ یہ پابندی خود کثرت رائے نے عائد کی ہے۔ لہذا اگر کثرتِ رائے کسی وقت چاہے تو اسے منسوخ بھی کر سکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ جمہوریت نے کثرتِ رائے کو ( معاذ اللہ ) خدائی کا مقام دیا ہوا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ رد نہیں کیا جا سکتا۔ چناچہ اسی بنیاد پر مغربی ممالک میں بد سے بدتر قوانین کثرتِ رائے کے زور پر مسلسل نافذ کئے جاتے رہے ہیں ، اور آج تک نافذ کئے جارہے ہیں۔ زنا جیسی بدکاری سے لے کر ہم جنسی جیسے گھناؤنے عمل تک کو اسی بنیاد پر سند جو از عطاء کی گئی ہے ، اور اس طرزِ فکر نے دُنیا کو اخلاقی تباہی کے آخری سرے تک پہنچا دیا ہے۔

[ احسن الفتاوی : ص ۹۵ - ۹۴، ج ۶، ط: ایچ ایم سعید  کمپنی]