مقدمہ - شیخ سعدی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾
کی تفسیر کی ذیل میں فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر مگر نہایت جامع آیت بیان فرمائی ہے جو نبی کریم ﷺ کی صداقت اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی حقانیت پر دلالت کرنے والی تمام آیات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ فرمایا:
﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾
یہ آیت ان تمام دلائل کو شامل ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ آئے اور یہ تین پہلوؤں پر مشتمل ہیں:
1۔ آپ ﷺ کی بعثت اور رسالت
2۔ آپ ﷺ کی سیرت، ہدایت اور آپ ﷺ کے اوصاف
3۔ قرآن و سنت کی وہ تعلیمات جو آپ ﷺ لے کر آئے
پہلا اور دوسرا شامل ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ﴾ میں۔
اور تیسرا شامل ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿بِالْحَقِّ﴾ میں۔
چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر نظر فرمائی تو انہیں بُرا پایا، چاہے وہ عرب ہوں یا عجم، سب کفر، شرک اور فساد میں ڈوبے ہوئے تھے، سوائے چند باقی ماندہ اہلِ کتاب کے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے کار پیدا نہیں کیا اور نہ ہی یوں ہی چھوڑ دیا، کیونکہ وہ حکیم و علیم اور قادر و رحیم ہے۔ پس اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے سے اس نے اپنے سب سے عظیم رسول کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دے، جسکا کوئی شریک نہیں۔
نبی اکرم ﷺ کی محض رسالت ہی سمجھدار آدمی کے لیے آپ ﷺ کی سچائی کی دلیل بن جاتی ہے اور یہ اس بات کی عظیم نشانی ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
جو شخص نبی اکرم ﷺ کو اچھی طرح جان لے، آپ ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کے اخلاق کو بعثت سے پہلے دیکھے اور یہ دیکھے کہ آپ ﷺ کس اعلیٰ اوصاف پر پروان چڑھے، تو وہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ کامل صفات صرف انبیاء ہی میں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اوصاف ہی کو ان کی پہچان اور ان کی سچائی یا جھوٹ کی سب سے بڑی دلیل بنایا ہے۔
لہٰذا ہم اس سلسلے میں ان شاء اللہ نبی اکرم ﷺ کی سیرت کے مطالعے کا آغاز کریں گے الله المستعان.
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔