ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے😓
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
__________________________________
آج یکم شعبان ہے الحمدللہ میرا سالانہ امتحان کا پہلا پرچہ مکمل ہوا اور اللہ کے فضل سے پرچہ بہت اچھا گیا اطمینان کے ساتھ لکھ کر آیا ہوں مگر اس اطمینان کے ساتھ دل میں ایک عجیب سی اداسی بھی اتر آئی ہے ایک طرف سالانہ تعطیلات کی خوشی ہے تو دوسری طرف اساتذہ رفقائے درس اور اپنے محبوب مدرسہ سے جدائی کا کرب و الم جوں جوں وقت گزرتا چلا جائے گا جدائی کا لمحہ قریب آتا جائے گا یہاں تک کہ وہ دن بھی آ پہنچے گا جب نم آنکھوں اور بوجھل دل کے ساتھ رخصت ہونا پڑے گا یہ احساس سمجھ میں نہیں آتا کہ خوشی غالب آئے یا غم دل خود کو سمجھاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے یہاں کوئی بھی رشتہ مستقل نہیں ایک دن سب کو جدا ہونا ہی پڑتا ہے مگر دل ہے کہ ماننے کو تیار نہیں خاص طور پر وہ لمحے جو استادِ محترم سبق کے دوران اچانک کوئی لطیفہ سنا دیتے تھے اور پوری جماعت مسکراہٹ میں ڈوب جاتی تھی یہ سب یادیں دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی ہیں اور وہ مختصر سے لمحات جب ذرا سا وقت ملتا تو دوستوں کے ساتھ چائے کی ایک چسکی لینے باہر نکل جانا وہ سادہ سی خوشیاں آج بہت قیمتی محسوس ہو رہی ہیں مدرسہ کی ان چار دیواریوں سے باہر قدم رکھنا بے حد دشوار لگ رہا ہے یہ جگہ صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ یہاں یادیں سانس لیتی ہیں دعائیں بسی ہوتی ہیں ہمیشہ قال اللہ و قال الرسول کی گونج سنائیی دیتی ہیں اور زندگی کے انمول لمحے محفوظ ہیں دل بالکل نہیں چاہتا کہ یہ رشتہ ٹوٹے یہ محفل بکھرے یہ سایہ سر سے اٹھے مگر جانتا ہوں کہ جانا تو پڑے گا یہ جدائی آسان نہیں مگر شاید یہی زندگی کا اصول ہے آج جو لمحے آنکھوں کو نم کر رہے ہیں وہی کل زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بنیں گے یہ یادیں یہ احساسات یہ درد سب میرے دل میں ہمیشہ کے لیے قید ہو چکے ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہمارے تمام اساتذہ کی محنتوں کو قبول فرما اور انہیں بہترین اجر عطا فرما یا رب جس جگہ سے ہمیں علم ملا اس سے ہمارا رشتہ کبھی منقطع نہ فرما اے اللہ ربّ العزت ہمیں حاصل شدہ علم پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین ۔
مدرسہ چھوٹ گیا لوگ بچھڑتے ہی گئے
دل کے آنگن میں مگر یادیں سدا آباد رہیں