*یہ تحریر محرر کے دماغ کا ایک کیڑا ہے جو اسے اندر سے کریدتا رہتا ہے*


اس مختصر تحریر کو محرر کی بے وقوفی اور کم علمی و کم فہمی و کج فکری پر محمول کر سکتے ہیں،

باقی آپ کی مرضی، قبول و رد آپ کے دست میں ہے کیونکہ صرف سمجھانا میرا مقصد ہے اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں...


آج جب ایک جم غفیر کو دیکھا جو انڈیا پاکستان مقابلے میں ایک ایک بال اور کرکٹر و بولر کو بڑی خوشی سے دیکھتے ہوئے نظر آ رہے تھے اور گویا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کہ وہ نہیں بلکے یہ جم غفیر جیت گیا ہو، انڈیا کو جیت حاصل ہوئی تو لوگوں ایسا ماحول تھا کے بیان نہیں کر سکتا،اور یہی قوم کہتی ہے کہ ہم دنیا کو بدلے گے،افسوس صد افسوس ہے ہمیں اپنی نادانیوں پر،بلکہ رونے کا مقام ہے😢...


لیکن مجھے آج بھی وہ بات یاد آ رہی ہے جو ف_ل_س_ط_ی_ن_ کے شیخ نے کہی تھی جب انہوں نے جمعہ کی نماز کے دوران خطبہ دیا تھا، تو کچھ افسوسناک جملے اپنی زبان سے کچھ روتے ہوئے حال میں یوں بیان کئے تھے،

جس قوم کو بیٹیوں کا بیوہ ہونا، شوہروں کا بغیر بیوی کے ہونا، چھوٹی چھوٹی بچیوں کی چیخیں اور بچے، بوڑھے، مرد و زن سب کے خون کا دریا نہ جگا سکا، اس قوم کو میرا چند منٹ کا خطبہ کیسے جگا سکتا ہے؟ لیکن پھر بھی امید رکھتا ہوں کہ تم لوگ سمجھنے کی کوشش کرو گے...


اور افسوس کہ یہی بات ہماری قوم پر صادق آتی ہے، آج امت کی خوشی اور غم کا مرکز و محور کوئی دینی فلاح، کوئی جہادی کامیابی یا اسلامی بیداری نہیں بلکہ ایک کرکٹ میچ ہے، جب ایک گیند باؤنڈری کے پار جاتی ہے تو لوگ یوں خوشیاں مناتے ہیں جیسے بیت المقدس آزاد ہوگیا ہو، اور جب شکست ہوتی ہے تو ایسے ماتم کرتے ہیں جیسے کوئی مقدس مقام ہم سے چھن گیا ہو...


ایک فضول اور لا یعنی چیز کرکٹ میں وقت برباد کرکے خوشی منانے والی اور اسی پر رونے والی قوم انقلاب کی بات کرتی ہے،

یہ وہی قوم ہے جسے فلسطین میں بہتا ہوا خون، چیختی ہوئی بچیاں اور سسکتی ہوئی مائیں جھنجھوڑ نہیں سکیں، لیکن ایک میچ کے نتیجے پر اس کے دلوں میں طوفان برپا ہو گیا...


آج ہم اخلاق کے اس دہانے پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے فرح و سرور اور حزن و ملال کا ربط ایک لایعنی چیز کرکٹ سے وابستہ ہے، یہ ہمارے فکری زوال و ذہنی انحطاط کا منہ بولتا ثبوت ہے، آج ہم بدنی اعتبار سے تو اسلامیات و دینیات سے مربوط ہیں لیکن ذہنی اعتبار سے مغربی تہذیب کے ساتھ جکڑے ہوئے اور اپنی تہذیب سے عاری ہیں، یہی ذہنی غلامی ہے جس نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ امت کے بڑے بڑے زخم بھی ہمیں بیدار نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ آج قضیہ فلسطین ہمارے لئے کوئی زندہ حقیقت نہیں رہا، بلکہ ایک وقتی احساس اور وقتی نعرہ بن چکا ہے...


آج قضیہ فل_س__طی_ن واٹس ایپ اسٹیٹس، ڈی پی اور چائے کی ایک پیالی تک ہی محدود ہو چکا ہے، جب تک پیالی میں چائے ہے تب تک قلوب میں دردِ فلس_طین ہے، جونہی چائے حلق سے نیچے اتری دردِ فلس_ط_ین بھی سر سے سرک کر نیچے گر جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے دینی بھائی کس اذیت کے روبرو ہیں، اور کس طرح وہ اپنی زندگیوں کی سانسیں گن رہے ہیں، اور کس اذیت کا شکار ہیں، بس ہمیں نظر آ رہا کرکٹ ٹیم میں کھیلتا ہوا کرکٹر اور کچھ نہیں...


اور ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ ہم نے اسکو فقط انفرادی مسئلہ سمجھا ہوا ہے، جبکہ یہ انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے یعنی قضیہ فل_س_ط_ی_ن صرف مسلمانان ف_لس_ط_ین کا مسئلہ نہیں بلکہ جمیع المسلمین کا مسئلہ ہے،اور بڑی آسانی سے کہ دیتے ہیں ہم کر بھی کیا سکتے ہیں انکے لیے،بھائی کرنے کے لیے بارگاہ الٰہی میں جھکنا ہوتا ہے اور جھکوگے تو تب، جب آپکو فرصت ہو اور جب جو فرصت ہے وہ میچ کی نظر ہو جاتی ہے تو آپ کر بھی کیا سکتے ہیں، یہ ڈرامہ بازی بند کریے اور ذرا امت کے لیے سوچیے،جو وقت کرکٹ دیکھنے میں گذارا تھا کاش وہی ٹائم دعائے فلسطین کے لیے گذارا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا...


ایک بات اور عام طور پر کہی جاتی ہے کہ ہم میں کوئی ایوبی نہیں جس کی قیادت میں معرکہ لڑا جائے، جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم میں ایوبی بہت ہیں لیکن کوئی زنگی نہیں جو صلاح الدین کو سلطان صلاح الدین ایوبی بنائے، قیادت نہیں ہمارا کوئی سربراہ اعلٰی نہیں، وجہ صرف ہم خود ہیں، کیونکہ ہمیں سوچنے سمجھنے کا وقت جو ہے وہ کرکٹ دیکھنے میں گزر جاتا ہے، ورنہ بتائیں نا جب 02% لوگوں نے سوچا اپنی قیادت بنا لی اور 04% لوگوں نے سوچا سمجھا اپنی قیادت بنا لی، جب دو اور چار پرسینٹ لوگوں کی قیادت ہے تو 18% کی کیوں نہیں؟


کیونکہ یہودی جنرل نے جو بات کہی تھی نا سلطان صلاح الدین ایوبی سے، وہ ظاہر ہے،جب وہ اسکو پکڑ کر لائے تھے تو اس نے کہا تھا صلاح الدین! اب ہم کسی ماں کو اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ وہ دوسرا سلطان صلاح الدین ایوبی پیدا کرسکے، یہی بات ہے کے آج ہم کرکٹ کے اور ایکٹرز کے شوقین ہو چکے ہیں، اور یہودیوں کا منصوبہ کامیاب ہو گیا ہے...


آئے دن کی بربریت اور وہ اسلام کی شہزادیاں جن کی عزتوں کی گواہی قرآن پاک دیتا ہے، جن کی گودوں میں مجا_ہد_ین پروان چڑھنے تھے، وہ آج نفس پرستی کے اس حد تک شکار ہو چکی ہیں کہ صرف چند لمحوں کی لذت کے لیے بے راہ رو اور بے دین لوگوں کے ساتھ خوشی خوشی جاتی ہوئی نظر آتی ہیں،


🙏 please control your society 🙏


اللہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما، خصوصا فل_س_ط_ی_ن کی غیبی مدد فرما اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما...


😭خدایا رحم فرما، خدایا رحم فرما، خدایا رحم فرما 😭 یا اللہ عقل سلیم عطا فرما...آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم....


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️