جب کوئی قوم کسی ملک کو فتح کرتی ہے اور وہاں کے باشندوں پر سیاسی غلبہ و اقتدار حاصل کر لیتی ہے تو اس کا تسلط محض جسموں تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ان کے دل و دماغ پر بھی اپنی چھاپ چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجتاً مفتوح اقوام رفتہ۔ رفتہ اپنے قومی خصائص، روایات اور ملی شعائر سے غفلت برتنے لگتی ہیں۔ پھر یہ غفلت اگر دیرپا ہو جائے تو بالآخر اپنی تہذیبی اقدار سے بیزاری اور نفرت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ فاتح قوم کی نقالی اور اندھی تقلید ان (مفتوح قوم) کے لیے فخر اور امتیاز کا عنوان بن جاتی ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی نہایت تابندہ مثال پیش کرتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال اور 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمان نہ صرف سیاسی اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں شدید دباؤ اور ابتلاء سے دوچار ہو گئے۔ یعنی جو کل تک اس سرزمین کے فرماں روا اور صاحبِ اختیار تھے وہی آج محکوم و مجبور بنا دیے گئے۔ زمینوں کی ضبطی، جاگیروں کی تنسیخ اور تعلیمی اداروں کی بربادی نے ان کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ایک طویل عرصے تک زوال، پسماندگی اور احساسِ کمتری کی تاریکی میں ڈوبے رہے۔
پھر یہی کیفیت رفتہ۔ رفتہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں بھی سرایت کر گئی اور اس کے اثرات آج تک ایک بڑے طبقے میں نمایاں ہیں۔ شادی بیاہ کی بے جا رسومات، بچیوں کو میراث میں حصہ نہ دینا اور دیگر ایسی بے بنیاد روایات کہ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ مسلمانوں کی زندگی میں رچ بس گئی ہیں۔ چونکہ اکثریتی طبقے میں یہ باتیں قدیم دیوی دیوتاؤں کی کہانیوں اور غیر اسلامی روایتوں کی بنیاد پر رائج تھیں اس لیے اس کے اثرات مسلمانوں پر بھی پڑے۔ اور یوں غیر اسلامی رسوم و عادات نے اسلامی معاشرت کے خالص اور سادہ سانچے کو مسخ کر کے رکھ دیا۔