آئے دن لڑکیوں کے استحصال اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی خبریں منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں۔ کہیں جلوس نکلتے ہیں، کہیں احتجاج ہوتا ہے، اور کبھی دیر سے ہی سہی، عدالتوں میں مقدمات بھی چلتے ہیں۔
لیکن
ان واقعات کا کیا، جو کبھی منظرِ عام پر آتے ہی نہیں؟

جہاں مظلوم ایک بیٹی ہوتی ہے، اور ہوس کا درندہ اسے جنم دینے والا اس کا اپنا باپ ہی نکلتا ہے۔
جہاں عزت چچا کے ہاتھوں بھتیجی کی لوٹی جاتی ہے،
جہاں ماموں کے ہاتھوں بھانجی کی عصمت تار تار ہوتی ہے،
اور جہاں معصوم کلی کو کھلنے سے پہلے ہی کزنز کے نام پر موجود نام نہاد بھائی نوچ لیتے ہیں۔

یہ وہ سانحات ہیں جنہیں سامنے لایا ہی نہیں جاتا۔ قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اکثر مائیں خود اپنے ہاتھوں سے بیٹی کے منہ پر تالا لگا دیتی ہیں
کبھی معاشرتی رسوائی کے خوف سے،
کبھی چھت چھن جانے کے ڈر سے،
اور کبھی باقی اولاد کی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر۔

ایسے حالات میں وہ لڑکی، جس کی عزت پر داغ لگ چکا ہوتا ہے، خود کو ایک ایسے کنویں میں قید محسوس کرتی ہے جہاں ہر روز اسے گرا کر مارا جاتا ہے، پھر زندہ کر دیا جاتا ہے صرف دوبارہ مارنے کے لیے۔
کبھی وہ ظالم کے مرنے کی بددعا کرتی ہے، تو کبھی خود کے مر جانے کی دعا۔
وقت پر ماں کا ساتھ نہ ملنے کے باعث کبھی وہ اپنے بے اولاد رہنے کی دعائیں کرتی ہے، اور کبھی اسے اپنے ہی بہن بھائی زہر لگنے لگتے ہیں۔

اسی ذہنی اذیت اور کرب میں چند سال گزر جاتے ہیں، اور پھر جانتے بوجھتے والدین اس کی شادی کر دیتے ہیں۔
باپ محض اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے، یا اپنی کھوکھلی عزت بچانے کے لیے یہ فرض ادا کرتا ہے،
اور ماں یہ سمجھتی ہے کہ بیٹی کو شادی کے بعد محفوظ ہاتھوں میں سونپ دیا جائے گا کم از کم اب کوئی اس کی عزت پامال نہیں کرے گا۔

لیکن کیا یہ سچ ہے؟

کیا وہ لڑکی، جس نے برسوں اپنوں کے ہاتھوں بربادی جھیلی ہو، ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار سکتی ہے؟
جسے ہر لمحہ اپنے ماضی کے کھل جانے کا خوف لاحق ہو،
کبھی شوہر کو سچ نہ بتانے کا بوجھ ہو،
اور کبھی ماں کی خاموشی بھی ظلم محسوس ہو۔

ایسی لڑکی یہ سوچنے لگتی ہے کہ اگر مائیں اپنی بیٹیوں کی حفاظت میں ناکام رہیں، تو انہیں بے اولاد ہی رہنا چاہیے۔
پھر وہ خود ماں بننے سے خوف کھانے لگتی ہے۔

جہاں اسے ہر مرد مشکوک نظر آتا ہو،
جہاں شوہر بھی شک کے دائرے میں آ جاتا ہو،
جہاں شادی محض گھر سے فرار کے بعد ایک پناہ گاہ محسوس ہو،
اور جہاں رشتوں کے تقدس پر سے یقین اٹھ چکا ہو۔

وہ لڑکی نہ مکمل طور پر زندہ رہ پاتی ہے، نہ مر پاتی ہے۔
انصاف تو دور، وہ ایک محفوظ پناہ گاہ تک نہیں ڈھونڈ پاتی۔
گھر سے بھاگنے کا سوچ سکتی ہے، مگر بھاگ نہیں پاتی
کیونکہ جب جنم دینے والا باپ ہی درندہ ہو، تو باہر کی دنیا تو پہلے ہی درندوں سے بھری ہوئی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ
گھروں کے اندر بیٹھے ان بھیڑیوں سے ان معصوم بچیوں کو کون بچائے؟

یہ وہ مظالم ہیں جو کبھی منظرِ عام پر آتے ہی نہیں۔
تو ان کا انصاف کون مانگے؟

ان سب میں اصل قصوروار کون ہے؟
وہ بیٹی، جس کی عزت اس کے باپ نے پامال کی؟
وہ باپ، جو اپنی ہوس سے اپنی اولاد کی حفاظت نہ کر سکا؟
وہ ماں، جو جرم جاننے کے باوجود معاشرتی خوف کے تحت خاموش رہی؟
یا وہ معاشرہ، جو سب سے پہلے لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھاتا ہے؟

وہ عزت دار سوسائٹی، جو ایسی مظلوم لڑکی کو بہو بنانے سے نفرت کرتی ہے؟
وہ رشتے دار، جو حقیقت سامنے آتے ہی رشتے توڑ لیتے ہیں؟
یا وہ پڑوسی، جو ایسے حالات میں ماں بیٹی کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں؟

آخر کون ذمہ دار ہے ان مظالم کو چھپانے کا؟
کون جواب دہ ہے ان درندوں کا، جو اپنے ہی گھروں میں بیٹیوں کی عزت پامال کرتے ہیں؟
اور کون انصاف کرے گا ان مظلوموں کا، جن کے زخم کبھی دکھائے ہی نہیں جاتے؟


---