*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ*
*ماہِ شعبان کے احکام و فضائل*
*شعبان کی وجہ تسمیہ اور لفظِ شعبان کی حقیقت:*
شعبان المعظم ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے، شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب ’’ماثبت بالسنۃ‘‘ میں حضرت انس بن مالکؓ کے حوالہ سے یہ بیان فرمایا ہے کہ روزہ دار کی نیکیوں (کے ثواب) میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ شعبان کے مہینے میں بہت سی نیکیاں تقسیم کی جاتی ہیں، جیسے رمضان کے مہینے میں گناہ جلا دیئے جاتے ہیں، اس وجہ سے اس کو شعبان کہتے ہیں ۔
شعبان کا لفظ عربی گرائمر کے اعتبار سے ’’شعب‘‘ سے بنا ہے، جس کے لفظی معنی شاخ در شاخ کے ہیں، اس مہینے میں چونکہ خیرو برکت کی شاخیں پھوٹتی ہیں، اور روزہ دار کی نیکیوں میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کو شعبان کہا جاتا ہے۔
ماہِ شعبان کی فضیلت واہمیت:
پہلی اُمتوں کی عمریں لمبی اور جسمانی قوتیں مضبوط ہوتی تھیں، اس کے مقابلے میں اُمتِ محمدیہ کی عمریں بھی کم ہیں، اور صحت کے اعتبار سے بھی کمزور ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپکی امت کو خاص انعامات اور اعزازات سے نوازا ہے کہ محنت تھوڑی اور بدلہ لا محدود، بے انتہا اجروثواب کی سعادت اس امت کو حاصل ہے۔ چونکہ شعبان کا مہینہ رمضان کا مقدمہ ہے، اسی وجہ سے اس مہینے کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ کسی ماہ (کے چاند) کا اتنا خیال نہ فرماتے تھے۔‘‘ (سننِ ابوداؤد)
اس روایت سے اس ماہ کے چاند کا اہتمام ثابت ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ:’’ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو پھر ناگہاں وہ بقیع میں پائے گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے عائشہ! کیا تمہیں اس بات کا ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خیال کیا کہ شاید آپ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب کو آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتے ہیں۔‘‘
مؤرخین نے لکھا ہے کہ قبیلہ کلب کے پاس تقریباً بیس ہزار بکریاں تھیں۔
واللّٰہ اعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ