امام دارقطنی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ مسواک میں دس فائدے ہیں:
(۱) پیٹ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔
(۲) شیطان کی ناک رگڑتا ہے۔
(۳) ملائکہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔
(۴) مسوڑھوں کے لیے نافع ہے۔
(۵) بلغم کو کم کرتی ہے۔
(۶) نظر کو تیز کرتی ہے۔
(۷) منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے۔
(۸) ہاضمہ درست کرتی ہے۔
(۹) پیشاب کو روکتی ہے۔
(۱۰) اور رزق میں اضافہ کرتی ہے۔ (۱)
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مسواک میں ستر فائدے ہیں، سب سے ادنیٰ فائدہ یہ ہے کہ موت کے وقت کلمہ نصیب ہو جاتا ہے۔ (۲)
ایک حدیث میں ہے کہ: “مسواک موت کے علاوہ ساری بیماریوں کے لیے شفا ہے۔” (۳)


(۱) سنن قرطبی، باب السواک، حدیث: ۱۲۰
(۲) تاریخ، باب السواک، ۱ / ۳۹۵
(۳) فیض القدیر شرح جامع صغیر، ج ۲، ص ۴۵۸
احیاء العلوم، حدیث: ۱۳۰۳
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری زندگی — ۱۹


ابو سعود میں ہےکہ مسواک بصارت کو تیز اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے، اس کی وجہ سے بڑا فائدہ پیدا ہوتا ہے، نگاہ تیز ہوتی ہے، بلغم سراسر بدن کے ذریعے نکلتا ہے، منہ صاف ہوتا ہے، بو زائل ہوتی ہے، دانتوں کو چمک دار بناتی ہے، کھانا ہضم کرتی ہے، منہ کی صحت میں اضافہ کرتی ہے، معدہ کو قوت بخشتی ہے، پیشاب اعتدال پر رکھتی ہے، دانت کے درد کے لیے مفید ہے، روح منہ میں آسانی کا ذریعہ ہے، اندرونی آفات سے بچاتی ہے، سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ اس سے بدبو زائل ہوتی ہے، اور باقی یہ ہے کہ مرتے وقت کلمہ شہادت نصیب ہوتا ہے۔ (۱)
اس کے علاوہ مزید فائدے علامہ طحطاوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بیان کیے ہیں، ان میں سے چند اور فہرست کے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے: مسواک دانتوں کی طاقت دیتی ہے، بدن کو تقویت بخشتی ہے، یادداشت اور عقل میں اضافہ کرتی ہے، ذہن کو چمک بخشتی ہے، نماز کے لیے جاتے وقت فرشتے اس کی وجہ سے مشابہت کرتے ہیں، اس کے لیے حاملین عرش اور انبیاء و رسل استغفار کرتے ہیں، اس کی وجہ سے اعمال نامہ اپنے ہاتھ میں دیا جائے گا، عبادت پر پاس سقوت ملتی ہے، جسم کے درد اور اس کی حرارت کو کم کرتی ہے، پیشاب کو قوت کرتی ہے، اخلاقی درستگی کا سبب ہے، زبان کو صاف کرتی ہے، رطوبت کو قطع کرتی ہے، مال و اولاد میں اضافہ کا
باعث ہے، دنیوی ضرورت کے پورا ہونے میں معین ہے، قبر میں کشادگی اور انس میں اس کا ذریعہ ہے، مسواک نہ کرنے والا اس دن حتیٰ کہ عبادت کرنے سے اس کا ثواب مسواک کرنے والوں کے لیے بھی لکھا جاتا ہے، ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور

(۱) شعب الایمان، بیہقی، ۱ / ۱۲۶
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری زندگی — ۲۰


فرشتے اس سے متعلق کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کی سنت پر عمل کرنے والے ہیں، ان کے نقش قدم پر چلنے والے اور روزانہ حضرات کے مسواک سے مشابہت رکھنے والے ہیں، اس پر ہم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، وہ دنیا سے گناہوں کی گندگی سے بالکل پاک صاف ہو کر رخصت ہوتا ہے، ملک الموت اس کی روح نکالنے کے لیے نہایت اچھی صورت میں آتے ہیں، اور موت سے پہلے پہلے وہ دنیا ہی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن دید سے سیراب ہو جاتا ہے، ان فضائل کو نقل کرنے کے بعد علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: قال بعضہم
هٰذِهِ الْفَضَائِلُ كُلُّهَا مَرْوِيَّةٌ بَعْضُهَا مَرْفُوعٌ وَبَعْضُهَا مَوْقُوفٌ وَإِنْ كَانَ فِي أَسَانِيدِهَا مَقَالٌ فَيَنْبَغِي الْعَمَلُ بِهَا (۱)

“بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ سارے فضائل مرفوع، موقوف روایات سے مروی ہیں، اور اس کی سند میں اگرچہ کچھ کلام ہے، لیکن فضائل کے باب میں ہونے کی وجہ سے اس پر عمل کرنا مناسب ہے”۔ (کیونکہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاتا ہے)
اور ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی امر میں کسی شخص کو اللہ یا اس کے رسول کے حوالے سے فضیلت اور غیر معمولی ثواب ملنے کا علم ہو جائے اور وہ ایمانی جذبہ سے سرشار ہو کر اور ثواب کے حصول میں عمل شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ کی فیضان ذات اسے وہ ثواب ضرور عطا کرے گی، اگرچہ حقیقت کچھ اور ہی ہو، حضرت انسؓ سے مروی ایک ضعیف حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
مَنْ بَلَغَهُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَضِيلَةٌ فَأَخَذَ بِهَا إِيمَانًا وَرَجَاءَ ثَوَابِهَا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ (۲)


(۲) شرح أصحاب السنن لابن ماجہ، باب الترغیب فی ثواب الاعمال، حدیث: ۲۸

جس شخص کو اللہ کے حوالے سے کسی عمل کی فضیلت کا علم ہوا ہو، اور اس نے ایمانی جذبہ کے ساتھ بہ امید ثواب عمل کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے وہ ثواب عطا کریں گے، اگرچہ حقیقت واقعہ ویسانہ ہو۔
مولانا عبدالحی رحمہ اللہ نے مسواک کے گیارہ فوائد تحریر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے اور بھی فوائد ہیں لیکن ان میں سے اکثر کا تعلق طب اور دنیوی منفعت سے ہے؛ اس لیے ہم نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو پابندی کے ساتھ مسواک کرنے کی توفیق عطا فرماے آمین 

مفتی صادق امین قاسمی