🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
تہذیب کسی قوم کی صرف پہچان ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی فکری ساخت، اخلاقی روح اور اجتماعی کردار کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔
تہذیب وہ خاموش زبان ہے جو انسان کے رویّوں، گفتار، لباس، معاملات اور طرزِ فکر سے خود بخود بولتی ہے۔
جب تہذیب مضبوط بنیادوں پر قائم ہو تو معاشرہ اعتدال، وقار اور حسنِ توازن کا نمونہ بن جاتا ہے، اور جب یہی تہذیب غفلت، مادّہ پرستی اور اخلاقی زوال کی زد میں آ جائے تو اس کے وجود پر ایسے گہرے زخم لگتے ہیں جو نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔
آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہ بظاہر ترقی، سہولت اور آزادی کا دور کہلاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ تہذیبی اضطراب اور فکری انتشار کا زمانہ ہے۔
انسان نے عقل کو تو وسعت دی، مگر دل کو تنگ کر لیا۔
علم کو تو بڑھایا، مگر حلم کو بھلا دیا۔
اظہار کو تو آزادی دی مگر اخلاق کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی۔
نتیجتاً تہذیب کے بدن پر بے شمار زخم نمودار ہو گئے
حیا کا زخم،
احترام کا زخم،
سچائی کا زخم،
اور سب سے بڑھ کر انسانیت کا زخم۔
تہذیب کا پہلا
اور سب سے گہرا زخم اس وقت لگتا ہے جب رشتے مقصد کے بجائے مفاد سے جڑ جائیں۔
والدین اور اولاد کے درمیان وقت کی کمی، استاد اور شاگرد کے رشتے میں تقدس کی کمی، ہمسائے کے حقوق سے بے خبری یہ سب اسی زخمی تہذیب کی علامات ہیں۔
زبان سے نکلنے والے الفاظ شائستگی سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، اختلاف برداشت کے بجائے نفرت میں بدل رہا ہے، اور آزادی کا مفہوم حدود سے بے نیاز ہو چکا ہے۔
دوسرا بڑا زخم فکری غلامی کا ہے
ہم نے سوچنا چھوڑ دیا اور نقل کرنا سیکھ لیا۔
غیر اقوام کے انداز، اقدار اور نظریات کو اپناتے اپناتے ہم اپنی شناخت سے دور ہوتے چلے گئے۔
ہمیں یہ احساس ہی نہ رہا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اور ہر نئی فکر ترقی کی ضامن نہیں ہوتی۔
اپنی تہذیبی جڑوں کو کمزوری اور پسماندگی سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔
تیسرا زخم روحانی خلا کا ہے۔
دل عبادت، شکرگزاری، صبر اور قناعت جیسی صفات سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
ظاہری کامیابی کے باوجود اندر ایک عجیب بے چینی، اضطراب اور عدمِ اطمینان پنپ رہا ہے۔
یہی وہ خلا ہے جو انسان کو بے سمت، بے چین اور بے مقصد بنا دیتا ہے، اور تہذیب کو محض ایک کھوکھلا ڈھانچا بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی زخم لاعلاج نہیں ہوتا، اگر شفا کی تلاش سچی ہو۔
تہذیب کی شفا کسی ایک دن میں، کسی ایک تقریر سے یا کسی ایک قانون کے نفاذ سے ممکن نہیں۔
یہ ایک تدریجی، مسلسل اور شعوری جدوجہد کا نام ہے۔
شفا کا آغاز خود احتسابی سے ہوتا ہے جب انسان اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمت کرے، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرے اور اصلاح کی نیت باندھے۔
اس شفا کے لیے ضروری ہے کہ ہم اخلاق کو دوبارہ زندگی کا مرکز بنائیں، علم کے ساتھ حکمت کو جوڑیں، آزادی کو ذمہ داری کے تابع کریں، اور ترقی کو کردار کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
گھروں میں تربیت کا چراغ روشن کیا جائے، درسگاہوں میں علم کے ساتھ اقدار سکھائی جائیں، اور معاشرے میں ایسے کردار سامنے آئیں جو قول و فعل کی ہم آہنگی کا عملی نمونہ ہوں۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ تہذیب تقریروں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہے۔ یہ قانون کی سختی سے نہیں بلکہ دلوں کی نرمی سے سنورتی ہے۔
جب انسان اپنے رویّے درست کر لیتا ہے، اپنی زبان سنبھال لیتا ہے، اور دوسروں کے حقوق کو اپنا فرض سمجھ لیتا ہے، تو تہذیب کے زخم بھرنے لگتے ہیں، اور معاشرہ شفا کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب کے زخم اگرچہ گہرے ہیں، مگر امید ابھی زندہ ہے۔
شفا اب بھی ممکن ہے، بشرطیکہ ہم سنجیدگی، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی اصلاح کا آغاز کریں۔ کیونکہ جب فرد سنورتا ہے تو معاشرہ سنورتا ہے، اور جب معاشرہ سنورتا ہے تو تہذیب ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عظمت کے ساتھ زندہ ہو جاتی ہے۔