اے غزہ! تقریباً دو سال سے تیرا حال دیکھ رہے ہیں، حال کہنا گستاخی ہے، تیری بد حالی کا عکسی مشاہدہ کر رہے ہیں، تیرے شہزادوں کی شہادت کی خبروں سے دل بھر چکا ہے، تیری جاں باز عورتوں کے حوصلے قابلِ دید ہیں، تیرے پھول جیسے معصوم بچے نوالۂ دشمن بنے ہیں، بے گناہ بچے گفت و شنید سے پہلے ہی وحشیانہ سزاؤں سے دوچار ہیں، زخمی مائیں اپنے شہید بچوں کو بوسہ دے کر جنت کے سفر پر روانہ کر رہی ہیں، سینکڑوں گھروں کی تباہی تو روز مرہ کا معمول ہے، مساجد کو بھی کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے، طبی دواخانوں تک کو تباہ کر کے اسرائیل اپنے ظلم و جبر کے واضح ثبوت رقم کر رہا ہے، ان یہودیوں کے یہاں جنگی اصول کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، سفاکیت و خوں ریزی ان کا وراثتی عطیہ ہے، قتلِ انبیاء جیسا گناہ ان کی پیشانی پر ثبت ہے، ان کی ذلت و درماندگی پر قرآنی پھٹکار ہے۔
اے غزہ!! تو بہادروں کی سر زمیں ہے، تو نے باہمت نوجوانوں کو پیدا کیا ہے، تیری کوخ سے وہ اسلامی جاں باز مولود ہوۓ ہیں جنھوں نے سر جھکانے پر کبھی دشمن سے سمجھوتہ نہیں کیا، تو نے کتنے ہی شہداء کے خون کو مس کیا ہے، کتنے ہی اسلامی مجاہد تیرے اندر پناہ گزیں ہیں، تو کس قدر خوش بخت اور نصیبے والی ہے، تجھ ہی سے متصل وہ القدس (یروشلم) بھی ہے جس میں واقع مسجدِ اقصیٰ کے ذکرِ پور نور سے وسطِ قرآن چمک رہا ہے جو اسلام کے نام لیواؤں کا قبلۂ اول ہے، جہاں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیه وسلم کو عملی طور پر امام الانبیاء نامزد کیا گیا، پھر وہیں سے معراج کی سیر کرائی گئ، فقہی مذاہب کے بانیان میں نمایا نام حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کو بھی تجھ سے سکونت کی نسبت ہے، صاحبِ درِ مختار بھی تجھ سے منسوب ہو کر غزوی کہلاتے ہیں، تو شیخ احمد یاسین کی تمناؤں کا مرکز، امیدوں کا مسکن اور آرزؤں کی آماج گاہ ہے، شیخ اسمعیل ہانیہ کے خاندان کی خود سمیت کئ درجن شہادتیں تیرے افق پر زندہ دلی کا ثبوت ہیں، شیخ یحییٰ السنوار کو تو تیرے جیالے تا قیامت نہیں بھول سکتے، ان کی آخری دفاعی چھڑی بھی غزہ کے در و دیوار پر ہمیشہ نقش رہے گی۔
یہ ہیں سب ورق تیری یاد کے
یا الہٰی! اب غزہ پر رحمت کی بارشیں نازل فرما دے، غزہ کے لوگوں کا سواۓ تیرے اب کوئی آسرا نہیں ہے، تمام عالمِ اسلام بہت ہی سنجیدگی و متانت کے ساتھ غزہ پر برپا قیامت کا مشاہدہ کر رہا ہے، اقوامِ عالم غزہ میں بسی امتِ محمدیہ سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہیں، انتہا یہ ہے کہ اسلام کے کٹر دشمن کی کئ کھرب ڈالر دے کر حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، طوائف نما پیشہ وروں سے ظالم و جابر، ملعون ٹرمپ کا والہانہ استقبال کیا جا رہا ہے، کروڑوں کی لاگت سے بنے جہاز تحفے میں دے کر دشمنِ رسول کی خوشی کو خریدا جا رہا ہے،
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یا الہٰی غزہ کے معصوم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ "ہم پر یکبارگی قیامت کیوں نہیں آ جاتی" یا الہٰی یہ تیرے پراسرار بندے قیامت سے پہلے قیامت نما مناظر کا عملی مشاہدہ کر رہے ہیں، ربِ ذو الجلال والاکرام! اب فقط تیری غیبی مدد کا انتظار ہے، یا الہٰی یہ اسرائیلی انسان ہی ہیں یا درندے، انہیں انسانی جان کی قیمت کا ذرا بھی پاس و لحاظ نہیں، غزہ کی ویڈیوز دیکھ کر دل تھرا جاتا ہے۔ یا الہٰی اب تیرے سوا ان معصوموں کی آہ سننے والا کوئی نہیں ہے، یا الہٰی اپنے ان کمزور اور نہتے بندوں کو جلد از جلد سرخ رو فرما دے آمین۔
يا رب! انتقم، مددك یا رب ! اللهم انصر إخواننا وأخواتنا وأطفالنا وخذ ثأرهم ممن ظلمهم يا الله يا الله يا الله !
نوحہ خواں: عبد اللہ یوسف
٥/ربیع الثانی ١٤٤٧ھ۔
بہ روز یک شنبہ