زندگی کے اس موڑ پر پہنچ گئی ہوں جہاں گناہ کرنے پر، ثواب کرنے پر اللہ یاد آتا ہے۔

نفس پر قابو پانے پر، کسی کی مدد کرنے پر، کسی کو خوش کرنے پر، کسی کو تسلی دینے پر، کسی کی مشکل کو آسان کر دینے پر اللہ یاد آتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے اللہ میرے ان ایکشن سے کتنا خوش ہوا ہوگا نا اور پھر اس خیال پر روح مطمئن ہو جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ بس اب اور کیا چاہئے بس اللہ راضی ہے نا۔
وہیں دوسری طرف کسی کو تکلیف دینے پر، کہیں جھوٹ بولنے پر، کسی کا مزاق بنانے پر، استاد کی نافرمانی کرنے پر، کہیں بچوں سے شفقت کے بجاۓ ڈانٹ دینے پر، بڑوں سے عزت کے بجاۓ زبان تراشی کرنے پر بھی اللہ یاد آتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ میرے ان ایکشن سے کتنا ناراض ہوا ہوگا نا اور پھر اس خیال پر روح بے چین ہو جاتی ہے، دل بھاری ہو جاتا ہے، آنکھ بھرنے لگتی ہے ایسا لگتا ہےاب تو اللہ کو ناراض کر دیا اب کیا ہی ہوگا ۔
پھر یاد آتا ہے کہ اللہ تو
غفورالرحیم ہے۔
توفیق ملنے پر اللہ کا شکر بھی ادا کرتی ہوں اور غلطی کرنے پر توبہ بھی ۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ میں بہت نیک ہوں یا میں اللہ کے بہت قریب ہوں ۔میں بس یہ کہہ رہی ہوں کہ مجھے اللہ یاد آتا ہے میرے اچھے اور برے پر ،مجھے اللہ تعالیٰ سے بات کرنی ہوتی ہے میرے اچھے اور برے پر ۔

دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھ سے یہ توفیق کبھی نہ چھینے اور میرے ایمان میں پختگی عطا فرماۓ۔ 
(آمین)