*مسلمانوں کے خون سے لہولہان بریلی شریف*
ہندوستان کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب مسلمان یہاں کے قائد اور رہنما بنے تو انہوں نے اس سر زمین کو عدل و انصاف، علم و تہذیب اور امن و سکون سے مزین کیا، دہلی سلطنت سے لے کر مغلیہ سلطنت تک، مسلمانوں کی قیادت نے ہر مذہب، ہر قوم کو ساتھ لے کر ایک منصفانہ نظام قائم کیا, لیکن آج افسوس صد افسوس ہمارے ہندوستان کی زمین کو ہمارے لیے تنگ کیا جا رہا ہے،اور بات بات پر ہمارے ساتھ مآب لنچنگ کی جا رہی ہے،اور ہمیں جگہ جگہ لہو لہان کیا جا رہا ہے،اور جو اپنے آپکو راہنما اور اور ہماری حفاظت ضامن ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں وہی جانوروں کی طرح لاٹھی چارج کرتے ہیں...
بی جے پی اور اس کے نظریاتی سرپرست آر ایس ایس نے ملک میں ایسا ماحول بنایا ہے جہاں مسلمان مسلسل خوف، ناانصافی اور ظلم کا شکار ہیں، گجرات کے فسادات سے لے کر سنبھل،مراداباد، رام پور، دہلی اور مظفر نگر تک، مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین کی گئی، کبھی لنچنگ کے نام پر نوجوانوں کو مار دیا جاتا ہے، کبھی مسجدوں کو شہید کر کے اُن کے دل زخمی کیے جاتے ہیں، کبھی حجاب پر پابندی لگا کر بچیوں کی تعلیم چھینی جاتی ہے، کبھی مدارس کو لیکر جھگڑا کیا جاتا ہے،اور کبھی شہریت ترمیمی قانون (CAA/NRC) کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے،ابھی چند دن پہلے ہی سنبھل سے کے مقتولین سے انکے ہاتھ صاف نہیں ہوئے تھے،کے اب بریلی شریف میں ناموس رسالت ﷺ کا بینر لیے ہوئے لوگوں پر ظلم و تشدد لاٹھیاں بجائی گئیں کیا یہی ہے آئین ہندوستان...
بریلی شریف میں ناموسِ رسالت ﷺ کے بینر لیے ہوئے پرامن لوگوں پر پولیس نے وحشیانہ ظلم ڈھایا،
چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا، سب کے سب خوف و دہشت میں ڈوب گئے،
لاٹھیوں کے وار سے بوڑھے، جوان، سب زمین پر گر پڑے،
خون سے رنگین ہوئے ہاتھ اور جسم، ہر طرف چیخ و پکار گونجی،
پولیس کی یہ حرکت کسی عدالت یا قانون سے پرے تھی،
حق اور انصاف مانگنے والوں پر ظلم کی انتہا تھی،
یہ وحشت اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقتور مظلوم پر کتنا بھی ظلم کر سکتے ہیں،
پر امن احتجاج، عشقِ رسول ﷺ کا اظہار، ان کے لیے جرم بن گیا...
*منصب عدالت پر بیٹھے لوگوں سے پوچھنا چاہوں گا*
کیا سیکولر ملک کا مطلب یہی ہے کے اسکی دھارمک چیزوں سے روکا جائے؟
اور حق مانگنے سے لاٹھی چارز کی جائے؟
کیا سیکولر ملک کا مطلب یہی ہے کہ مذہب کی آزادی پر قدغن لگائی جائے؟
کیا انصاف کے نام پر صرف طاقتوروں کی حمایت کی جائے اور کمزوروں کو دبایا جائے؟
کیا آئین کے دیے گئے بنیادی حقوق کاغذات تک ہی محدود ہیں؟
کیا امن مانگنے والوں کو ہی مجرم بنا کر پیش کیا جائے گا؟
کیا احتجاج کرنے والے شہریوں پر لاٹھی چلانا ہی انصاف ہے؟
کیا ملک میں انصاف کی کرسی مظلوم کی فریاد سننے کے بجائے ظالم کے حکم پر جھکنے کے لیے ہے؟
کیا سیکولرزم صرف اکثریت کے مذہب کی حفاظت کے لیے ہے، اقلیتوں کے لیے نہیں؟
کیا انصاف کا ترازو دولت اور طاقت کے مطابق جھکتا ہے؟
کیا حق اور سچ بولنے والوں کی زبان بند کرنا ہی عدالتی نظام کی کامیابی ہے؟
کیا عدالت میں مظلوم کا خون اور آہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی؟
کیا عدلیہ کا کام آئین کی حفاظت ہے یا ظالموں کی غلامی؟
کیا عدالتوں کے دروازے صرف امیروں اور سیاست دانوں کے لیے کھلتے ہیں اور خاص کر مسلمانوں کے لیے بند ہیں؟
کیا انصاف اندھا ہے یا صرف مسلمانوں کے حق میں اندھا کر دیا گیا ہے؟
کیا عدالت کا کام فیصلے دینا ہے یا حکومت کے اشاروں پر ناچنا؟
کیا یہ انصاف ہے کہ عبادت گاہوں کو توڑا جائے اور انصاف مانگنے والوں کو جیل میں ڈالا جائے؟
کیا I ❤️ Muhammad ﷺ کا بینر لگانا ظلم ہے؟
کیا اپنے مذہب کے پیشوا، اپنے نبی ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا جرم ہے؟
کیا اپنے حق کی آواز بلند کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ جنہیں تحفظ دینا چاہیے، وہی محافظ ظلم ڈھانے لگیں؟
کیا سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نبی ﷺ کے لیے محبت بھی چھین لی جائے؟
کیا یہ انصاف ہے کہ نعرہ لگانے والا جیل جائے اور ظلم کرنے والا آزادی سے گھومے؟
یاد رکھنا اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی،اور یقینا انصاف کا دن ہے،جس میں ہر ظالم کی خبر لی جائے گی،اور مظلوموں کو انصاف دیا جائے گا...
میں آج زد پے ہوں تو اتنا خوش گمان نا ہو
چراغ سب کے بجھے گے ہوا کسی کی نہیں.
✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️