حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اہتمام!!
19 جنوری، 2026
خیر القرون کا پاکیزہ اور مقدس ترین دور جن نفوس قدسیہ کے طفیل مثالی اور انمول بنا ہے ان میں سر فہرست حضرات صحابہ کرام ہیں، جو اپنے محبوب صلی علیم کے سچے جانثار و فداکار ہیں، منشاء نبوی کی تکمیل اور مزاج پیغمبر کی رعایت ان کی زندگی کا مشن اور محبوب سالی سکیم کے اشارہ پر مر مٹنا ان کی پہچان ہے، وہ ہمہ وقت تعمیل حکم کے لئے تیار اور کوشاں رہنے والے پیغمبر کی زبانی فضائلِ مسواک سننے کے بعد کیسے خاموش رہ سکتے تھے؟ چناں چہ حضرت زید بن خالد جہنی ( مسواک کی مذکورہ فضیلتوں کی بنا پر ہر وقت اپنی مسواک ساتھ رکھا کرتے تھے ) یہاں تک کہ جب نماز میں شریک ہوتے تو ان کی مسواک کانوں پر رکھی ہوتی جس طرح حساب لکھنے والے ( کا تب ) اپنا قلم کان کے اوپر رکھ لیتے ہیں، اور وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے اور پھر اسے اس کی جگہ (کان) پر رکھ دیتے ۔ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ
الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ
اور اماں جان سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ” میرے محبوب صلی پیام مسواک کر کے دھونے کے لیے مسواک مجھے دے دیتے تو میں دھونے سے پہلے خود مسواک کرتی ، پھر اسے دھو کر آپ کو لوٹا دیتی كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِاغْسِلَهُ فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ
حضرت صالح بن کیسان کا بیان ہے کہ حضرات صحابہ کرام میں سے ہر ایک کے کان پر مسواک لگی ہوتی تھی عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ وَالسِّوَاكُ عَلَى أُذُنِهِ
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ مسواک میں مشغول رہنا مجھے دو خادم غلاموں سے زیادہ محبوب ہے، حضرت عبداللہ بن دینا ر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب بھی کھانا کھاتے تو
مسواک کیا کرتے تھے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لأن أَكُونَ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ ، يَعْنِي فِي السَّوَاكِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَصِيفَيْنِ, قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَأْكُلُ الطَّعَامَ إِلَّا اسْتَنَّ يَعْنِي: اسْتَاكَ
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث کی مسواک پانی میں ڈوبی رہتی تھی، جب وہ نماز یا کسی اور کام میں مشغولیت سے فارغ ہوتی تو مسواک کرتی تھیں، كَانَ سِوَاكُ مَيْمُونَةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَعًا فِي مَاءٍ فَإِنْ شَغَلَهَا عَنْهُ عَمَلٌ أَوْ صَلَاةٌ وَإِلَّا فَأَخَذَتْهُ وَاسْتَاكَتْ"
حضرت ابو عبیدہ وتروں کے بعد دو رکعتوں سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے
كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَسْتَاكُ بَعْدَ الْوِتْرِ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ
حضرت عروہ فجر سے پہلے اور ظہر سے پہلے دو مرتبہ مسواک کیا کرتے تھے حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: " كَانَ يَسْتَاك مَرَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَقَبْلَ الظُّهْرِ
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت جریر مسواک کرتے اور اپنے متعلقین کو مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضو کا حکم دیتے“
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں حضرت مجاہد کے پاس مہمان بن کر ٹھہرا، وہ سب سے زیادہ پابندی مسواک کی کیا کرتے تھے، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: نزل عَلَى مُجَاهِدٌ فَكَانَ أَشَدَّ شَيْءٍ مُوَاظَبَةً عَلَى السِّوَاكَ
دو حضرت عبداللہ ابن عمر روزہ کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، آپ فرماتے تھے: روزہ دار کے لیے خشک اور تر ( دونوں طرح کی ) مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہمیں مسواک کا حکم اس تسلسل اور اہتمام سے دیا جاتا تھا کہ ہمیں خیال ہوا کہ مسواک کے بارے میں کوئی حکم نازل ہو جائے گا‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَقَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَنْزِلُ فِيهِ
المختصر ذکر کردہ جملہ روایات سے یہ بات آشکارا ہو جاتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام پورے ذوق اور اہتمام کے ساتھ مسواک کی پابندی کرتے تھے، اور وہ اتباع سنت اور حکم پیغمبر کی تکمیل میں کسی لَوْمَةَ لائِم کی پرواہ نہیں کرتے تھے، دنیا کی سپر پاور طاقت اور ہفت اقلیم کی بادشاہت سے بڑھ کر نبی علی سلیم کی غلامی اور اطاعت و فرمانبرداری انہیں زیادہ محبوب تھی، انہوں نے اپنی عملی زندگی سے ثبوت پیش کر کے عشق و محبت اور اتباع واطاعت کی عدیم النظیر مثالیں قائم کر دی ۔
کیا لوگ تھے کہ راہِ وفا سے گزر گئے
جی چاہتا ہے نقشِ قدم چومتے چلیں
مدلل مصنف ابن شیبہ
مفتی صادق امین قاسمی