الحمدللہ ناچیز کو کتابوں کا ذوق وشوق بچپن سے ہی خوب رہا ہے ،بہت زیادہ مطالعہ کا دعوی نہ سہی لیکن کتابوں کی خرید ،کتابوں کو اچھی سے اچھی ترتیب سے رکھنے کا خیال اور انہیں حتی الامکان مزین کرنے کی کوشش میری سیر وتفریح کا اعلیٰ درجہ ہے، ابتدائی مدرسے میں داخلے کے بعد سے ہی گھر رہنے کا موقع بہت ہی کم ملا ہے ، ہر مرتبہ گھر حاضری کے وقت کم از کم ایک دن تو پورا بل کہ اس سے بھی زیادہ گھر کے کتاب خانہ کی صاف صفائی اور کتابوں کو حسنِ ترتیب سے رکھنے میں گزرتا ہے ،الحمدللہ راقم کو بہ فضلِ خداوندی کتابوں سے عشق بل کہ جنون ہے ،کوئی اچھی کتاب دیکھنے کو ملی تو بس پہلی تمنا فوراً اسے خریدنے کی ہوتی ہے ،بجا طور پر مجھے کہنے کا حق ہے کہ یہ کتابوں سے محبت مجھے والدِ محترم حفظه اللّٰه تعالیٰ کے ورثہ سے ملی ہے ،والدِ گرامی کسی مدرسے کے پڑھے ہوۓ نہیں ہیں ،صرف گاؤں کی مسجد میں ناظرہ قرآن شریف اور بقدرِ ضرورت اردو کی تعلیم حاصل کی ہے اور پھر عصری اسکولوں سے ماسٹر کا لقب پایا ہے ،لیکن اللہ تعالی جزائے خیر دے بانئ تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کو کہ ان کی قائم کردہ عظیم تحریک "تبلیغی جماعت" کی برکت اور طفیل میں والد صاحب پر اسلامیت اور مزاجِ شریعت کا وہ رنگ چڑھا ہے کہ واقعی مجھے اپنے والدِ محترم پر رشک آتا ہے، امانت ودیانت سادگی و عاجزی ان کے نمایاں اوصاف ہیں ،والدِ گرامی کو کتابوں سے انسیت ومحبت کمال کی ہے، خصوصاً اکابر اور علماۓ دیوبند کی سوانح سے بلا کا عشق ہے ،بارہا مجھے کہتے ہیں ،شیخ زکریا رح کی آپ بیتی کہاں ہے ؟ حضرت سہارنپوری کی سوانح کہاں ہے ؟ کیا یہاں حضرت تھانوی رح کی سوانح حیات نہیں ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ، ہمیشہ دو تین کتابیں والدِ محترم کے سرہانے رکھی ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والدِ محترم اور برادرِ اکبر مولوی محمد اظہار یوسف کی کتابی محبت کے طفیل میں نے اپنے آپ کو کتابوں سے گھرا ہوا پایا ، اکابر علماء سے عشق ومحبت اور ان کی سوانح عمری سے انسیت ولگاؤ کی بنیاد تو یہیں پڑ گئ تھی ، اللہ تعالٰی کا خاص کرم یہ ہوا کہ مجھے عربی کے ابتدائی مدرسہ جامعہ معدن العلوم جھمراوٹ (میوات) میں اساتذہ بھی ایسے ملے جنہوں نے علماۓ دیوبند کو صرف پڑھا نہیں بل کہ گھول کر پی لیا تھا اور ان کے مزاج ومذاق کو اپنے اندر اس طرح انڈیل رکھا تھا جیسے کہ چینی پانی یا دودھ میں گھل جاتی ہے ، واقعی وہ علم و عمل کے حسین سنگم تھے ،تحمل وبردباری اور وسعت ظرفی و کشادہ دلی جیسے عظیم اوصاف سے قدرت نے انہیں نوازا تھا ، اسی کے ساتھ ساتھ رب العزت والجلال نے مردم سازی کا ملکہ بھی انہیں بدرجۂ اتم ودیعت کیا تھا، میرے کتابوں سے تعلق اور لگاؤ میں ان محترم المقام اساتذۂ کرام کا جو کردار ہے اسے میں ہرگز نہیں بھلا سکتا ، حقیقت یہ ہے کہ مطالعتی ذہن کو جلا انہیں کے زیرِ سایہ رہ کر نصیب ہوئی ، فکر کی صحت وسلامتی میں انہیں ممدوح اساتذۂ کرام کا خاص عمل ودخل ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب بھی میں سوچتا ہوں تو زبان سے بے اختیارانہ تشکر وامتنان کے جملے نکلتے چلے جاتے ہیں کہ الحمدللّٰه اللہ تعالی نے مجھے ایسے مخلص اور مردم ساز ، اساتذہ کی شاگردی نصیب فرمائی، اللہ رب العزت والجلال میرے والدین اور اساتذۂ کرام کو ان کی شایانِ شان اجرِ جزیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔
تحریر : عبد اللہ یوسف
١١/ربیع الأول ١٤٤٧ھ۔
بہ روز جمعرات