ملحدانہ سوالات کے مومنانہ جوابات
19 جنوری، 2026
یہ نیلا آسمان، ستاروں کی کہکشائیں، سمندروں کا شور اور ہواؤں کا رقص؛ کیا یہ محض ایک حادثہ ہے یا کسی عظیم مصور کا شاہکار؟ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عقلِ سلیم نے کائنات کے دریچوں سے جھانکا، اسے ہر سو ایک ہی حقیقت رقصاں نظر آئی کہ اس کارخانہِ قدرت کا کوئی نہ کوئی نگران اور خالق ضرور ہے۔ مگر افسوس کہ دورِ حاضر میں مادہ پرستی کے غلبے نے انسانی ذہنوں پر الحاد (Atheism — اَیتھِسٹ) کی ایسی دھند پھیلا دی ہے کہ لوگ نشانیاں دیکھ کر بھی نشان دہی کرنے والے سے منکر ہو رہے ہیں۔
● دہلی کا معرکہ: فکر اور قلم کا ٹکراؤ
حال ہی میں دہلی کی سرزمین ایک ایسے تاریخی مناظرے کی گواہ بنی جس نے عالمی سطح پر فکری ارتعاش پیدا کیا۔ یہ مناظرہ کوئی سرسری گفتگو نہ تھی، بلکہ باقاعدہ ای میل (E-mail) کے ذریعے طے شدہ ضوابط پر مبنی ایک علمی معرکہ تھا۔ ویڈیو ایڈیٹنگ (Video Editing) پر مکمل پابندی اس لیے رکھی گئی تاکہ حقائق کی روح مسخ نہ ہو سکے۔
● فریقین کا تعارف
ایک طرف اردو ادب کا درخشندہ ستارہ، نامور شاعر اور قلمکار جناب جاوید اختر صاحب تھے، جو ایک معزز ادبی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود فکری طور پر "ملحد" ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کائنات کسی نقشہ ساز کے بغیر محض ایک "بگ بینگ" (Big Bang — بِگ بینگ) کا نتیجہ ہے۔ دوسری طرف مفتی محمد شمائل ندوی صاحب تھے، جو دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) کے تربیت یافتہ اور ایک ذہین بیدار مغز عالمِ دین ہیں۔ آپ الحاد کے بڑھتے ہوئے فتنوں کے خلاف ایک علمی حصار بنے ہوئے ہیں۔
● عقلی مکالمہ: اتفاق یا ڈیزائن؟
جاوید اختر صاحب کا مقدمہ یہ تھا کہ کائنات ایک اتفاقی دھماکے سے بنی۔ مفتی صاحب نے اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے فرمایا کہ کائنات محض مادہ نہیں بلکہ ایک "فائن ٹیونڈ سسٹم" (Fine Tuned System — فائن ٹیونڈ سسٹم) ہے۔ اگر دھماکہ نظام پیدا کر سکتا تو تباہی کا وجود نہ ہوتا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک "انٹیلیجنٹ ڈیزائنر" (Intelligent Designer — اِنٹیلیجِنٹ ڈِزائنر) موجود ہے۔
جاوید اختر صاحب نے جب سوال اٹھایا کہ "اگر خدا ہے تو فلسطین میں ظلم کیوں؟" تو مفتی صاحب نے اسے "دارِ امتحان" کے تصور سے واضح کیا۔ یہ دنیا "ایگزام ہال" (Exam Hall — ایگزام ہال) ہے، جہاں نگرانِ امتحان (خالق) کا خاموش رہنا اس کی عدم موجودگی کی دلیل نہیں بلکہ امتحان کی شرط ہے۔
● خدا، وقت اور ابتدا کا سوال
مناظرے کا سب سے نازک موڑ وہ تھا جب جاوید اختر صاحب نے پوچھا:
"اگر خدا ہے، تو وہ کائنات بنانے سے پہلے کیا کر رہا تھا؟ اور خدا کی ابتدا کہاں ہے؟"
مفتی شمائل صاحب نے نہایت گہرائی کے ساتھ جواب دیا کہ یہ سوال ہی ایک غلط مفروضے پر مبنی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ وقت (Time — ٹائم) خود اللہ کی مخلوق ہے۔
* مصنف کی مثال: جس طرح ایک مصنف اپنی لکھی ہوئی کہانی کے وقت (Time) کے اندر قید نہیں ہوتا، بلکہ وقت اس کی کہانی کے اندر چلتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ وقت کا خالق ہے، وہ وقت کا محتاج نہیں۔
* چراغ کی مثال: آپ نے فرمایا کہ یہ پوچھنا کہ "خدا دنیا بنانے سے پہلے کیا کر رہا تھا؟" ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ "چراغ جلنے سے پہلے روشنی کیا کر رہی تھی؟" جب چراغ ہی نہیں تھا تو روشنی کا سوال بے معنی ہے۔ جب وقت (Time) ہی پیدا نہیں ہوا تھا تو "پہلے" اور "بعد" کے الفاظ خدا پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔
● برائی (Evil) کا اعتراض
پھر سوال اٹھایا گیا: اگر خدا ہے تو دنیا میں برائی کیوں ہے؟ Good (گُڈ) کے ساتھ Evil (ایوِل) کیوں؟
مفتی شمائل صاحب نے فرمایا: یہ دنیا اصل میں Test (ٹیسٹ) ہے، امتحان گاہ ہے۔ یہاں انسان کو Choice (چوائس) دی گئی ہے۔ انہوں نے مثال دی: چاقو بنانے والا قاتل نہیں ہوتا، بلکہ چاقو کا غلط استعمال کرنے والا مجرم ہوتا ہے۔
● قرآنِ مجید کی دعوتِ فکر
قرآنِ حکیم نے جا بجا انسان کو مشاہدہِ فطرت کی دعوت دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿آل عمران: ۱۹۰ (بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
ایک اور مقام پر انسانی وجود کی بے بسی اور خالق کی عظمت کو یوں بیان فرمایا:
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا ﴿الدھر: ۱﴾
(بیشک انسان پر زمانے کا ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا۔)
تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا، نیست سے ہست میں لایا؛ یہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے۔ ایک اور دوسری جگہ اللہ نے ارشاد فرمایا: أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ (کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟)۔ اور ایک جگہ فرمایا: وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (کیا تم اپنی ذات میں دیکھتے نہیں ہو؟)۔ اور ایک جگہ فرمایا: أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (کیا یہ نہیں دیکھتے اونٹ کی طرف کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا؟)، وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ (اور آسمان کی طرف وہ کیسے بلند کیا گیا؟)، وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ (اور پہاڑوں کی طرف وہ کیسے نصب کیے گئے؟)، وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ (اور زمین کی طرف کیسے وہ بچھائی گئی؟)۔
اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (بے شک آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کی آمد و رفت میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے)۔ اسی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا گیا: الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ * ثُمَّ ارْجعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (اللہ وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں کو طبق در طبق پیدا کیا۔ کیا تمہیں اس میں کوئی کمی نظر آتی ہے؟ تو اپنی نگاہوں کو بار بار اٹھاؤ، کیا تمہیں اس میں کوئی فتور نظر آتا ہے؟ تمہاری نگاہ تھک ہار کر واپس آ جائے گی)۔
اور ایک آیت میں فرمایا گیا: أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کو کیسے پیدا کیا) اور چاند کو نور بنایا اور سورج کو روشنی دی اور زمین سے اناج اور غلہ اگایا، پھر وہی تمہیں اس میں لوٹائے گا پھر اس سے دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کا خالق اللہ ہے اور اس کا وجود ہے۔
● غیب کی حقیقت: نظر نہ آنا عدمِ وجود کی دلیل نہیں
ملحدین کا مقدمہ یہ ہے کہ "خدا نظر کیوں نہیں آتا؟" مگر عقل کہتی ہے کہ بہت سی حقائق نظر نہ آنے کے باوجود تسلیم کیے جاتے ہیں۔
* مثال: بجلی (کرنٹ) ہمیں نظر نہیں آتی۔ اگر گھر کے تمام بلب اور پنکھے بند کر دیے جائیں، تو ہم کرنٹ کا ادراک نہیں کر سکتے۔ لیکن جب بلب روشن ہوتا ہے اور پنکھا حرکت کرتا ہے، تو ان "اثرات" کو دیکھ کر ہم کرنٹ کے "وجود" کا یقین کر لیتے ہیں۔
اسی طرح سورج کی تپش، چاند کی چاندنی، اور فضاؤں میں اڑتے پرندے اس پوشیدہ ہستی کے وجود کے اثرات ہیں جسے ہم "خدا" کہتے ہیں۔
● مشاہدہِ فطرت اور سلفِ صالحین
امام شافعیؒ سے کسی نے خدا کی پہچان پوچھی تو آپ نے ایک پتے کی مثال دے کر عقل کو حیران کر دیا۔ آپ نے فرمایا: "میں نے شہتوت کے پتے سے خدا کو پہچانا۔ اسے بکری کھاتی ہے تو مینگنی بنتی ہے، ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو ریشم پیدا ہوتا ہے اور ہرن کھاتی ہے تو مشک بن جاتا ہے۔ پتہ ایک ہے مگر نتائج مختلف۔ یہ اس صانعِ حکیم کی قدرت نہیں تو اور کیا ہے؟"
اسی طرح ایک دیہاتی (اعرابی) سے پوچھا گیا تو اس نے نہایت سادہ مگر گہری بات کہی: "اونٹنی کی مینگنی اونٹ کے وجود پر، گدھے کا گوبر گدھے پر اور قدموں کے نشان مسافر پر دلالت کرتے ہیں۔ تو کیا برجوں والا آسمان، راستوں والی زمین اور موجوں والے دریا اس حکیم و خبیر ذات کے وجود پر دلالت نہیں کرتے؟"
● تاریخی مناظرہ: امام اعظمؒ اور دہریہ
تاریخ کے اوراق میں امام اعظم ابو حنیفہؒ کا ایک دہریے سے مناظرہ سنہری حرفوں سے لکھا ہے۔ جب امام صاحب جان بوجھ کر تاخیر سے پہنچے اور وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: "راستے میں دریا تھا، کوئی کشتی نہ تھی۔ اچانک ایک درخت خود بخود کٹا، تختے بنے، آپس میں جڑے اور ایک کشتی بن کر میرے سامنے آ گئی، جس پر سوار ہو کر میں یہاں پہنچا۔"
ملحد ہنس کر بولا: "یہ کیسے ممکن ہے کہ کشتی خود بخود بن جائے؟"
امام صاحب نے برجستہ فرمایا: "جب ایک چھوٹی سی کشتی خود بخود نہیں بن سکتی، تو یہ عظیم کائنات خود بخود کیسے بن گئی؟" وہ ملحد وہیں لاجواب ہو گیا۔
● حدودِ فکر اور نبویؐ تعلیمات
شریعتِ مطہرہ نے ہمیں خالق کی ذات میں الجھنے کے بجائے اس کی صفات اور مخلوقات میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ طبرانی کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تَفَكَّرُوا فِي خَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَتَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ" (اللہ کی مخلوقات میں غور کرو، مگر اللہ کی ذات کی ماہیت میں غور نہ کرو)۔
انسانی عقل محدود ہے اور خدا کی ذات لامحدود۔ محدود کبھی لامحدود کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ احادیث میں آتا ہے کہ شیطان انسان کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ "سب کو اللہ نے پیدا کیا، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟" ایسے موقع پر آپ ﷺ نے "تعوذ" (اعوذ باللہ) اور "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کب سے ہے، یہ سوال ہی غلط ہے؛ اللہ تعالیٰ کب تک رہیں گے، یہ سوال ہی غلط ہے؛ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا۔ وہ بے نظیر ہے، بے مثال ہے، لاجواب ہے، لازوال ہے۔ بیوی بچوں سے پاک ہے؛ بدن سے، اونگھ سے، نیند سے، تھکاوٹ سے، تھکان سے پاک ہے؛ زمانہ، جگہ، حد اور قیود سے وہ پاک ہے؛ اس کا کوئی وزیر نہیں، اس کا کوئی مشیر نہیں۔
کائنات کی ہر چیز "حادث" (بعد میں پیدا ہونے والی) اور "فانی" ہے، جبکہ اللہ کی ذات "قدیم" اور "قائم بالذات" ہے۔ وہ وقت کا خالق ہے، اس لیے وقت کی قید سے آزاد ہے۔ وہ مکان کا خالق ہے، اس لیے مکان کی وسعتوں سے بالا ہے۔ ایمان کی حلاوت وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں عقل اپنی حدیں ختم کر کے خالق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتی ہے۔