🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ


انسان کی زندگی محض سانسوں کے چلنے کا نام نہیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور سچ کو پہچاننے کا سفر ہے۔ یہ سفر بظاہر آنکھوں سے شروع ہوتا ہے، مگر درحقیقت دل اور عقل کے اُن دریچوں سے گزرتا ہے جہاں سے حقیقت جھانک کر انسان کو آواز دیتی ہے۔

بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر لوگ انہی دریچوں کو بند رکھنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ حقیقت کا سامنا ہمت، دیانت اور خود احتسابی مانگتا ہے۔

سوچ کا دریچہ وہ کھڑکی ہے جہاں سے انسان اپنی ذات، اپنے اعمال اور اپنے انجام کو دیکھ سکتا ہے۔ جب یہ دریچہ بند ہو تو انسان خواہ کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو، وہ حقیقت سے کوسوں دور رہتا ہے۔

اور جب یہ دریچہ کھل جائے تو ایک عام سا انسان بھی دانائی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے سوال کرتا ہے:

میں کون ہوں؟ میں کیا کر رہی ہوں؟ اور میں کس سمت جا رہی ہوں؟


حقیقت ہمیشہ شور نہیں مچاتی، وہ اکثر خاموشی میں بولتی ہے۔ وہ ہمیں تنہائی کے لمحوں میں، رات کی خاموش فضا میں، نماز کے سجدوں میں، اور کبھی کسی نصیحت بھرے جملے میں جھلک دکھا دیتی ہے۔

مگر شرط یہ ہے کہ سوچ کا دریچہ کھلا ہو۔ جو دل خواہشات کے پردوں میں قید ہو، جو عقل تعصبات کی زنجیروں میں جکڑی ہو، وہ حقیقت کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتی ہے۔

آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا ہے، مگر بصیرت سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔

ہم جانتے بہت کچھ ہیں، مگر سمجھتے بہت کم ہیں۔

ہم دوسروں کی غلطیاں گننے میں ماہر ہیں، مگر اپنی کوتاہیوں پر نگاہ ڈالنے سے گھبراتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت سوچ کے دریچے سے جھانک کر ہمیں آئینہ دکھاتی ہے، اور ہم اس آئینے سے نظریں چرا لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کا آغاز باہر سے نہیں، اندر سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی سوچ کو پاکیزہ بناتا ہے، نیت کو درست کرتا ہے اور اپنے عمل کو میزانِ حق پر تولتا ہے، تو اس کی زندگی کا نقشہ بدلنے لگتا ہے۔

پھر وہ حالات کو الزام نہیں دیتا، بلکہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ ہجوم کا حصہ نہیں بنتا، بلکہ راہ دکھانے والا چراغ بن جاتا ہے۔

سوچ کے دریچے سے جھانکتی حقیقت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، اصل کامیابی رب کی رضا میں ہے۔

اصل خوبصورتی کردار میں ہے، اور اصل سکون اس دل میں ہے جو سچ کے سامنے جھک جائے۔

جو انسان اس حقیقت کو سمجھ لے، اس کے لیے زندگی بوجھ نہیں رہتی بلکہ مقصد بن جاتی ہے۔


آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم واقعی سنورنا چاہتے ہیں، اگر ہم اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سوچ کے دریچے کھولنے ہوں گے۔

کیونکہ جب یہ دریچے کھلتے ہیں، تو صرف حقیقت ہی نہیں جھانکتی، بلکہ ہدایت، شعور اور نجات کی روشنی بھی اندر اتر آتی ہے۔