عنوان: وہ جو درد میں بھری دین کی طلب گار تھیں۔ 

چند روز پہلے ایک غیر معمولی مکالمہ میرے دل پر نقش چھوڑ گیا، جس کی سادگی، سچائی اور دینی جذبے نے مجھے بے ساختہ تحریر کی جانب مائل کیا۔ یہ واقعہ " محبین دار العلوم دیوبند "  گروپ سے وابستہ ایک بہن کی ہے۔ جنہوں نے نجی پیغام میں  رابطہ فرمایا اور کہا :

مجھے حفظِ قرآن کا اشتیاق ہے ، لیکن کوئی معلمہ میسر نہیں۔ آپ خدارا  مدد فرما دیجئے میں بہت پریشان ہوں۔ 
یہ جملہ ایک دہکتی چنگاری کے مانند جا لگا ایک ایسے دور میں، جہاں دین کی محنت کو اکثر مؤخر کر دیا جاتا ہے، وہاں ایک باحجاب، صاحبِ حیا بہن قرآن کو سینے سے لگانے کی طلب لیے خاموشی سے راستے تلاش کر رہی تھی۔ 
عرض کیا : پیاری آپ کے قریب کوئی مدرسہ؟ 
کہنے لگیں: ہے، مگر جانا ممکن نہیں۔ 
آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ چاہتی ہیں تڑپتی ہیں مگر حالات دیوار بنے کھڑے ہیں۔ 
"میں نے تسلی بخش انداز میں کہا:"
اللہ تعالی آپ کی نیت تڑپ اور بے بسی کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ضرور راستہ پیدا فرماۓ گا۔ سچی طلب کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ 
کچھ لمحے بعد ان بہن نے ایک مخلصانہ گزارش کی۔ 
بہن! میری خواہش ہے کہ میں بہتر لکھ سکوں، اگر آپ میری روز مرہ تحریر دیکھ لیا کریں تو یقیناً مجھے سیکھنے میں آسانی ہوگی۔ 
میں حیرت زدہ ہو گئ اور پلکیں اشکبار ہو گئی کہ قرآن کی محبت، لکھنے کا ذوق اور دین کی طلب سب کچھ ایک ہی دل میں جمع تھا۔ 
الحمدللہ اللہ تعالی نے۔ ان کے لیے راستہ ہموار فرما دیا۔ ان کا حفظِ قرآن کا باقاعدہ داخلہ ہو چکا ہے۔ اب وہ لگن سے، آنکھوں میں نمی لیے ہوۓ اور دل میں دعا لیے اپنے خواب کو حقیقت کی طرف بدلنے میں گامزن ہیں۔ 
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان کی شادی چار ماہ بعد ہے۔ مگر اس کے باوجود دین کی لگن، قرآن سے وابستگی اور سیکھنے کی چاہ میں ذرہ برابر کمی نہیں۔ 
یہ واقعہ ہم سب کے لیے آئنہ ہے۔ 
وہ طالبات جنہیں مدارسِ دینیہ کی فضا میسر ہے وہ قدر کریں کہ یہ موقع ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔ 

اور وہ بہنیں جو وقت یا حالات کا رونا روتی ہیں ان کے لیے اس بہن کی استقامت  حجت ہے۔ 

اللہ تعالی سچی نیت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ 
اس تحریر کا مقصد فقط جذباتی تاثیر پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ آج بھی ایسے دل موجود ہیں جو علمِ دین کے لیے تڑپتے ہیں۔ 
اللہ تعالی ہمیں بھی خلوصِ نیت طلبِ صادق اور فہمِ دین کے ساتھ جڑنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
آمین یا رب العالمین

از قلم : طالبۂ  صالحات