مغربی تہذیب کے سائے میں ہمارا معاشرہ


ابن اسلم الہ آبادی✒️

اس وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے اسلامی تہذیب و تمدن اور تعلیماتِ نبوی سوہانِ روح بنی ہوئی ہےاور مغربی تہذیب تسکینِ روح بنتی جارہی ہے
جسکے نتیجے میں نیو ائیر نائٹ، سالگرۂ ازدواج، اپریل فول، ہیپی برتھڈے اور ویلیںٹائن ڈے جیسے غیر شرعی وغیر ضروری رسوم و تہوار مسلم معاشرے کو رفتہ رفتہ الحاد و دین بیزاری کی طرف کھینچ کر لے جارہے ہیں حالانکہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اسلامی تہذیب وتمدن کو اپنانے سے اس امت میں حضرت ابوذر و سلمان فارسی خبیب وخباب، ابن تیمیہ وامام غزالی عبد القادرجیلانی،خواجہ معین الدین چشتی اور مجدد الف ثانی جیسی عظیم،انقلابی، اتالیق وقت،صاحبِ عزیمت شخصیات پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے قلوب کو اپنے رب کی تجلی گاہ بنالیا تھا اور اپنی فطری وکسبی صلاحیتوں سے دنیائے انسانیت کو محو حیرت میں ڈالتے ہوئے تاریخ کے اوراق پر اپنی علمی فکری وروحانی مہارت و کمالات کے لازوال نقوش چھوڑ کر جشم جہاں سے اوجھل ہوگئے، اسی اسلامی تہذیب کو اپنانے کی وجہ سے جنکا باطن ظاہر سے زیادہ روشن اور تابناک ہوگیا تھا، یہی وہ لوگ ہیں جو اسلامی تعلیمات و روایات کے گردآہنی دیوار بن کر ظاہر ہوئے اور اسلامی تہذیب کو ہر طرح کی بدعات و خرافات آلائشوں سے پاک و صاف کیا۔