*اے اسلام کی مقدس شہزادیو! تم نے کیوں اپنے وجود کو مجروح بنا لیا*
اے وہ عورت جسے اسلام نے کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنایا، جسے معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ اس کی بنیاد قرار دیا، جسے مرد کی خواہش کا کھلونا نہیں بلکہ نسلوں کی معمار بنایا، جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، جس کی حیا کو ایمان کا حصہ اور جس کی غیرت کو خاندان کی ڈھال کہا گیا،یہ تحریر تمہیں ذلیل کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیدار کرنے کے لیے ہے، اسلام نے عورت کو آزادی دی، مگر ایسی آزادی نہیں جو اسے خود اپنی عزت کا قاتل بنا دے؛ اسلام نے اسے وقار دیا، مگر ایسا وقار نہیں جو ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور بند کمروں میں پامال ہو، آج سوال یہ ہے کہ جب اسلام نے تمہیں شہزادی بنایا تھا تو تم نے خود کو خواہشات کی غلامی میں کیوں دے دیا؟ آخر وہ کون تھا جس نے تمہیں یہ غلط قدم اٹھانے کی اجازت دی؟ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا؟ قرآن عورت کو سب سے پہلے ایمان کے درجے پر کھڑا کرتا ہے، پھر کردار، پھر وقار اور پھر غیرت کی بات کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
*إِنَّ الْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنَاتِ… أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا* یعنی ایمان والی عورتوں کے لیے مغفرت اور عظیم اجر ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ *دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے* اور یہ بھی فرمایا کہ *عورت سراپا پردہ ہے* اسلام نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ تم اپنی توجہ، اپنا وقت، اپنی تنہائی اور اپنے جذبات نامحرموں کے سامنے بکھیر دو؛ اسلام نے تو تمہیں یہ شعور دیا تھا کہ تمہارا وجود امانت ہے، تماشا نہیں۔
*پھر یہ سب کہاں سے آیا؟*
اے اسلام کی شہزادی! ذرا اپنے دل سے پوچھو:تمہیں یہ اجازت کس نے دی کہ تم گھنٹوں گھنٹوں نامحرموں سے باتیں کرو؟کس آیت میں لکھا ہے کہ چیٹنگ، ویڈیو کالز اور خفیہ ملاقاتیں پاکیزگی ہیں؟کس حدیث میں آیا ہے کہ ہوٹل، ریسٹورنٹ اور OYO جیسے کمروں میں جانا عزت اور ترقی کی علامت ہے؟کس نے کہا تھا کہ مرد کے ساتھ تنہائی اختیار کر کے عورت آزاد اور باوقار ہو جاتی ہے؟
تمہیں تو اسلام نے غیرت مند کہا تھا،آخر کہاں ہے وہ غیرت جو تمہیں روک لیتی، جو تمہیں آئینہ دکھاتی، جو تمہیں کہتی کہ یہ راستہ تمہارا نہیں؟جب تم بند دروازوں کے پیچھے قدم رکھتی ہو تو کیا تمہیں ماں کے وہ خون کے قطرے یاد آتے ہیں جن سے تم نے زندگی پائی؟ کیا تمہیں باپ کی پیشانی پر لکھی عزت دکھائی دیتی ہے؟ کیا تمہیں بھائی کی غیرت، خاندان کی آبرو اور آنے والی نسلوں کی رسوائی کا خیال آتا ہے؟ یا نفس کی ایک سرگوشی سب آوازوں کو دبا دیتی ہے؟
یہ اسلام نے ہرگز نہیں سکھایا
اسلام نے یہ نہیں سکھایا کہ محبت کا ثبوت جسم پیش کرنا ہے،اسلام نے یہ نہیں کہا کہ پہلے سب کچھ کر لو، بعد میں شادی دیکھ لیں گے، اسلام نے یہ نہیں کہا کہ آزادی کا مطلب حدودِ اللہ کو توڑنا ہے، اسلام نے تو صاف راستہ دیا، جب نفس غالب ہونے لگے تو نکاح کرو، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *اے نوجوانو جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے*
اور عورت کو بھی یہ حق دیا کہ وہ اپنے ولی سے نکاح کا مطالبہ کرے، یہ حق تمہیں اسلام نے دیا ہے، نہ کہ موبائل اسکرینوں نے، نہ ہوٹلوں نے، نہ عیاشی کے اڈوں نے۔
*بہانے، اور ان کا پردہ فاش انجام*
اگر تم کہو کہ ہم گھر والوں سے کیسے کہیں ہمیں شادی کو دل کرتا ہے، تو ذرا سچ سے سوال کرو کیا زنا کرتے وقت تم نے اپنے باپ سے کہا؟
کیا ہوٹل جاتے وقت ماں کو بتایا؟
کیا OYO میں کمرہ لیتے وقت بھائی کو فون کیا؟جب گناہ چھپ کر کیا جا سکتا ہے تو حق مانگنے میں شرم کیوں؟ جب نفس کی بات مان لی جاتی ہے تو شریعت کی بات کہنے میں جھجک کیوں؟
*گھر والوں پر ذمہ دارانہ مگر سخت سوال*
اور اب خطاب ان باپوں، ماؤں اور بھائیوں سے ہے جن کے سائے میں ایک گھر بنتا یا بگڑتا ہے، کیا واقعی تمہیں کچھ نظر نہیں آتا؟ یا پھر تم نے خاموشی کو روشن خیالی، اور بےغیرتی کو ترقی کا نیا نام دے دیا ہے؟ ذرا خود سے پوچھو، جب تم اپنی بیٹی یا بہن کو بےقابو آزادی دیتے ہو، اس کے ہاتھ سے حدود کی لگام کھول دیتے ہو، تو کیا تم اسے تحفظ دے رہے ہوتے ہو یا خطرے کے حوالے کر رہے ہوتے ہو؟ یہ محبت نہیں، یہ غفلت ہے، یہ اعتماد نہیں، یہ تربیت کی ناکامی ہے،اسلام نے تمہیں محافظ بنایا تھا، تماشائی نہیں، تمہیں نگہبان بنایا تھا، دربان نہیں کہ دروازہ کھول کر سب کو اندر آنے دو، تم پر ذمہ داری رکھی گئی تھی کہ تم حدودِ الٰہی کی باڑ بنو، نہ کہ خواہشات کے سامنے دیواریں گرا دو، باپ تمہاری خاموشی بیٹی کے لیے اجازت نامہ بن جاتی ہے، ماں تمہاری لاپرواہ نرمی اس کے قدموں میں کانٹے بو دیتی ہے،بھائی تمہاری بےحسی اس کی غیرت کے لیے خنجر ثابت ہوتی ہے،کیا تم نے کبھی سوچا کہ جس آزادی کو تم فخر سمجھ رہے ہو، وہ دراصل اس کی کمزوریوں کو بازار میں لے جانے کا راستہ بن رہی ہے؟ کیا تم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کن لوگوں سے، کن اوقات میں، کن باتوں پر جڑی رہتی ہے؟ یا تم نے موبائل کی اسکرین کو ترقی کا نشان سمجھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں؟ یاد رکھو، نگرانی شک نہیں ہوتی،بلکہ یہ اس بچی کا حق ہے جو آپکے گھر میں پروان چڑھ رہی ہوتی ہے،یہ اس شخص کی امانت کی حفاظت ہے،جس کے لیے اللہ اسکو پیدا کیا ہے،اور تم اس کے امین ہو بروز محشر تم سے سوال ہوگا اور براہ راست پوچھا جائے گا کسی کی امانت کو تم نے کیوں آزاد رہنے دیا تھا،اور عزت نفس سے کھیلنے اجازت تھی،اس دن ہر ایک انسان کی زبان جوابات سے قاصر ہوگی،کوئی حیلہ کوئی بہانہ کوئی ڈرامہ کوئی غیرت کام نہیں آئے گی۔
*تلخ مگر ضروری حقیقت*
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ زنا دونوں کے لیے حرام ہے،لڑکا بھی خطاکار ہے اور وہ بھی اسی اسلامی حکم کے دائرے میں آتا ہے جس میں لڑکی آتی ہے، مگر سماجی حقیقت یہ ہے کہ گناہ کے بعد لڑکا بظاہر محفوظ رہتا ہے، اس کی شناخت اور مستقبل پر وہ زخم نہیں پڑتے جو عموماً عورت کی زندگی پر پڑتے ہیں، یہ کسی کی حمایت نہیں بلکہ معاشرتی حقیقت کی نشاندہی ہے،خدارا یاد رکھو، عیاشی کے اڈوں سے گزری ہوئی عورت کو بہت سے مرد نکاح کے تحفظ میں رکھنے سے ہچکچاتے ہیں، چاہے دعوے کتنے ہی کیوں نہ ہوں،
اسی لیے اکثر وہی گھر بگڑے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں لڑکی شادی سے پہلے خود جنسی بےراہ روی یا استحصال کا شکار ہو چکی ہوتی ہے، کیونکہ جب حدودِ اللہ کو پامال کیا جاتا ہے تو وقت بدلہ لیتا ہے، اور پھر عزت، سکون اور رشتے بکھر جاتے ہیں۔
*حل اسلامی انداز میں*
اگر واقعی تمہارے دل میں شادی کی خواہش ہے تو اسے چھپاؤ نہیں،صاف اور باوقار انداز میں کہو، اپنے باپ سے کہو، اپنی ماں سے کہو،اسلام نے تمہیں یہ حق دیا ہے کہ تم اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں رائے رکھو، مشورہ دو، اور درست راستہ اختیار کرو، مگر خدا کے لیے اپنی فطری خواہش کو عیاشی کے اڈوں، بے سمتی کی محفلوں اور وقتی لذتوں کی نذر کر کے اسلام کو بدنام نہ کرو، اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا بوجھ دین پر مت ڈالو، اور آزادی کے نام پر اپنی عزتِ نفس کے ساتھ سودا مت کرو، *اسلام نے تمہیں قید نہیں کیا* اسلام نے تمہیں وقار دیا، غیرت دی، تحفظ دیا اور ایک پہچان عطا کی، اس نے تمہیں یہ سکھایا کہ خواہش کو اصول کے تابع رکھا جائے، جذبات کو اخلاق کے دائرے میں سنبھالا جائے، اور محبت کو نکاح جیسے پاکیزہ بندھن سے عزت دی جائے، یہی وہ راستہ ہے جس میں دل بھی محفوظ رہتا ہے اور سماج بھی،اصل مسئلہ خواہش نہیں، سمت ہے،خواہش انسان کی فطرت ہے، مگر سمت دین دیتا ہے، جب سمت کھو جاتی ہے تو خواہش بوجھ بن جاتی ہے، اور جب سمت مل جائے تو یہی خواہش عبادت بن جاتی ہے، اسلام تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم دل مار لو، وہ یہ کہتا ہے کہ دل کو درست جگہ دو۔
*خوبصورت حل کیا ہے؟*
جرأتِ اظہار:اپنی بات اپنے گھر میں رکھو، والدین سے گفتگو کرو، بزرگوں سے مشورہ لو، خاموشی میں جلنے کے بجائے وقار کے ساتھ بولنا سیکھو،یہی تمہارا حق ہے، اگر کوئی کچھ کہتا ہے اس سے کہیں ہمیں یہ اجازت اسلام دیتا ہے آپ کون ہو اس سے روکنے والے۔
*نکاح کو ترجیح*
محبت ہو یا خواہش، اس کا باوقار حل نکاح ہے، نکاح تعلق کو عزت دیتا ہے، ذمہ داری سکھاتا ہے، اور عورت کو تحفظ عطا کرتا ہے، اور یاد رکھو آزادی کا مطلب بے لگامی نہیں، خودداری یہ ہے کہ تم اپنی حد خود مقرر کرو، اپنی قدر پہچانو، اور کسی کو اپنی قیمت طے نہ کرنے دو، وقتی داد اور لمحاتی توجہ تمہیں اونچا نہیں کرتی، تمہارا کردار کرتا ہے،جو آج تمہیں استعمال کرے، وہ کل تمہاری عزت کا محافظ نہیں بنے گا،بلکہ آج بھی اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں وہ بچیاں جو جنسی تعلقات کا نشانہ بنی اور پھر اس نے مزے لوٹے،پھر کسی نئی لڑکی سے شادی کرکے مستی کرتا ہے،اور نہ جانے کتنی لڑکیاں جنسی تعلقات کا نشانہ بن کے اپنی زندگی کو خیر آباد کہ چکی ہیں،اور نہ کتنی اپنے گھروں میں بےعزتی بندھن میں بندھ کر ہر دن اپنی موت کی منتظر ہیں،خدا کے لیے اپنا خیال کریں اللہ نے آپکو زندگی عطا کی ہے،کسی ظالم کے نفس کا ٹھکانہ نہ بنائیں۔
سب سے اہم بات دین کو موردِ الزام نہ بناؤ خدا کے لیے😭
اگر کہیں کمزوری ہے تو اسے مان لو، مگر دین کو ڈھال نہ بناؤ، اسلام روشنی ہے، بہانہ نہیں،آخر میں فیصلہ واقعی تمہارے ہاتھ میں ہے،کیا تم اس وقار کو تھامو گی جو اسلام نے تمہیں دیا، یا آزادی کے شور میں اپنے وجود کو خود ہی زخمی کرو گی؟یاد رکھو عزت مانگنے سے نہیں، اپنانے سے ملتی ہے،اور اسلام نے تمہیں عزت اپنانے کا راستہ دکھا دیا ہے۔
😭اس پوری تحریر کے پیچھے ایک اتنی بڑی داستان ہے جس کو بیان کرنے سے میرے لفظ خاموش ہیں، خود قاتلی کے متقاضی ہیں،جب بھی سوچتا ہوں آنکھوں سے آنسو آنے لگتے ہیں، اس ظالم ہوا نے نہ جانے کتنی معصوم بچیوں کی زندگی کو زمین کے لیے بوجھ بنا دیا،وہ لمحہ لمحہ مرنے کی منتظر ہیں😭
اللہ کریم ہماری بہنوں کو سمجھنے کی توفیق بخشے،انہیں عزت و وقار عطا فرمائے،اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*