خاموش اکثریت کا نوحہ اور بیداری کی پکار

از  ✒️ابن محمد اسلم الہ آبادی 

ہندوستان کی فضاؤں میں آج نفرت کا زہر گھلا ہوا ہے۔ ہر طرف اسلام کو مشکوک بنانے کی مہم چل رہی ہے۔ کبھی بی جے پی کی سیاست یہ باور کراتی ہے کہ مسلمان اس ملک کے لیے بوجھ ہیں، کبھی آر ایس ایس کی فکری تربیت یہ سبق دیتی ہے کہ یہ ملک صرف ہندوؤں کا ہے، کبھی وشو ہندو پریشد اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں کھلے عام مسلمانوں کو ختم کرنے کے نعرے لگاتی ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ قانون ان کے خلاف خاموش رہتا ہے۔ میڈیا کے اسکرینوں پر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے نت نئے افسانے گھڑے جاتے ہیں۔ ’’لَو جہاد‘‘ کا جھوٹ، ’’مدرسہ دہشت گردی‘‘ کا الزام، ’’گھر واپسی‘‘ کی تحریک، ’’بلڈوزر انصاف‘‘ کی گھناؤنی پالیسی—یہ سب اسی ایک مقصد کے تحت ہو رہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کو اس کے اپنے وطن میں اجنبی بنا دیا جائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
اس لیے کہ ہم نے خود کو اتنا کمزور بنا لیا کہ دشمن کے لیے ہم پر وار کرنا آسان ہو گیا۔
ہماری اپنی کمزوریاں—سب سے بڑی حقیقت
ہم نے اپنی طاقت کو خود کھو دیا۔
ہم تعلیم میں پیچھے رہ گئے، علم کو زینتِ الماری بنا کر رکھ دیا۔ ہمارے نوجوانوں کو آج بھی روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں کیونکہ ہم نے ان کی تعلیم، ان کا ہنر، ان کا مستقبل محفوظ نہ کیا۔
ہم سیاست میں بے اثر ہیں کیونکہ ہم نے اپنی آواز اٹھانا ہی نہیں سیکھی۔ ووٹ ڈالنا بھی بہتوں کو بوجھ لگتا ہے۔ ہم نے اپنی قیادت اہل اور دیانتدار لوگوں کے بجائے موقع پرستوں کے ہاتھ میں دی، جو قوم کا درد بھول کر صرف اپنی جیب بھرتے ہیں۔
ہم معاشی طور پر کمزور ہیں کیونکہ ہم نے منصوبہ بندی نہیں کی۔ چھوٹے کاروبار کرتے ہیں مگر آپس میں سرمایہ جوڑنے کا حوصلہ نہیں۔ خیرات بہت دیتے ہیں مگر ادارے نہیں بناتے۔
ہماری مساجد نمازیوں سے بھرپور ہیں مگر ہمارے تعلیمی ادارے خالی ہیں۔
ہم نے عورتوں کو ان کی اصل طاقت دینے کے بجائے حاشیے پر رکھا۔ وہ جو آدھی امت کی نمائندہ ہیں، ان کے بغیر ہم ترقی کا سفر کیسے طے کرتے؟
اور سب سے بڑھ کر، ہم نے اتحاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ مسلک، برادری، چھوٹے چھوٹے اختلافات نے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔
باطل کی کامیابی ہماری ناکامی سے جڑی ہے
بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر نفرت پرست تنظیمیں اسی حقیقت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر مسلمان متحد، تعلیم یافتہ اور مضبوط ہو گیا تو ان کا ایجنڈا ختم ہو جائے گا۔ اس لیے وہ ہمارے ہر دینی، معاشرتی اور معاشی پہلو کو نشانہ بناتی ہیں۔ ہماری بچیوں کے حجاب کو متنازع بناتی ہیں تاکہ غیرت مند ماں باپ کا دل زخمی ہو۔ ہمارے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالتی ہیں تاکہ ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں۔ ہمارے گھروں کو مسمار کرتی ہیں تاکہ ہمیں بے گھر اور بے وقعت بنا دے۔ اور یہ سب وہ اس لیے کر پاتی ہیں کیونکہ ہم نے اپنے دفاع کی دیواریں خود کمزور کی ہیں۔
اسلاموفوبیا—ایک پروپیگنڈا، ایک فریب
اسلاموفوبیا کو اس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ ایک عام ہندو کو مسلمان کا نام سنتے ہی خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ خوف حقیقت پر مبنی نہیں، یہ خوف پھیلایا گیا ہے۔ اسلام جس نے انسانیت کو عزت دی، عورت کو مقام دیا، غلاموں کو آزاد کیا، علم کو فرض قرار دیا—اسی اسلام کو دہشت گردی اور ظلم کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ فریب کب تک کامیاب رہے گا؟ جب تک ہم خاموش رہیں گے۔ جب تک ہم اپنی اصلاح نہ کریں گے۔ جب تک ہم دنیا کو اپنے عمل سے اسلام کا اصل چہرہ نہ دکھائیں گے۔
ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
اب وقت شکوہ کرنے کا نہیں، خود کو بدلنے کا ہے۔
ہمیں علم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنانا ہوگا۔ ہر بچے کو تعلیم دینی ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
ہمیں معیشت میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، کاروبار میں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔
ہمیں سیاست میں باشعور بننا ہوگا، ووٹ سے لے کر پالیسی تک اپنی شمولیت یقینی بنانی ہوگی۔
ہمیں میڈیا اور ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا ہوگا تاکہ جھوٹ کا جواب سچائی سے دیا جا سکے۔
ہمیں عورتوں کو ان کا مقام دینا ہوگا، تاکہ وہ بھی امت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنے ہوں گے۔ جب تک ہم ایک جسم کی مانند نہیں ہوں گے، دشمن ہم پر غالب آتا رہے گا۔
یہ وقت نعرے لگانے کا نہیں، عمل کرنے کا ہے۔ یہ وقت جذباتی ہونے کا نہیں، منظم ہونے کا ہے۔ اور یہ وقت مایوس ہونے کا نہیں، بیدار ہونے کا ہے۔
اسلام کی روشنی کبھی نہیں بجھے گی، لیکن اگر ہم اپنی غفلت میں سوئے رہے تو ہمارا وجود مٹ جائے گا۔ یہ فیصلہ آج ہمیں کرنا ہے
کیا ہم تاریخ میں مظلوم اور مجبور قوم کے طور پر یاد ہوں گے؟ یا ہم وہ نسل بنیں گے جس نے اپنی کمزوریوں کو پہچانا، انہیں بدلا اور اسلام کا اصل پیغام دنیا تک پہنچایا؟