والدین کا ادب و احترام ہماری اوّلین ذمہ داری ۔


🖊️از قلم: محمد عادل ارریاوی

____________________________________

محترم قارئین! آج بندہ جس موضوع پر لکھ رہا ہے یہ جتنا حساس ہے اس سے کہیں زیادہ حسین بھی ہے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ماں باپ کے حقوق ان کے ساتھ احسان ہمدردی رواداری عاجزی انکساری ادب و احترا ان کی دلجوئ ان کے سامنے جھکے رہنے اور ان کی مرضی کی رعایت کرنے اور ان کی دل شکنی حتی کہ ان کو اُف کہنے سے بھی گریز کرنے کے متعلق بارہ سورتوں کے تئیس مقامات پر بڑی اہمیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ اللہ جل شانہ نے والدین کے ادب واحترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا اور اللہ کے شکر کے ساتھ ماں باپ کے شکر کو ملا کر بیان فرمایا۔ جہاں اللہ کا شکر ادا کرنا لازم ہوتا ہے وہاں ماں باپ کا شکر بھی لازم ہوتا ہے۔ کہیں فرمایا کہ: ماں باپ کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرتے رہنا۔ کہیں فرمایا کہ ان کے لئے یوں دعا کرتے رہو اے میرے پروردگار

ان دونوں پر اپنی رحمت برسائیے جیسا کہ انہوں نے مجھ کو بچپن میں رحمت و شفقت سے پالا اور پرورش کیا ہے۔ کہیں فرمایا کہ ان کے سامنے عاجزی انکساری کے ساتھ جھکے رہنا۔ کہیں فرمایا کہ ان کے ساتھ نرمی اور لطافت سے اچھی گفتگو کرنا۔ کہیں فرمایا کہ اگر ماں باپ کفر و شرک میں مبتلا ہونے پر بھی مجبور کریں تب بھی ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا مگر کفر و شرک کا عمل نہیں کرنا۔

حضرت وہب بن منبہ رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ اپنے والدین کی عزت کرو بیشک جو اپنے والدین کی عزت کرتا ہے۔ میں اس کی عمر بڑھا دیتا ہوں۔ اور اس کو ایسا بیٹا عطا کرتا ہوں جو اس کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔

اور جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے میں اس کی عمر گھٹا دیتا ہوں اور اس کو ایسا بیٹا دیتا ہوں جو اس کی نافرمانی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اسی صورت میں ہے جبکہ ماں باپ کسی ایسے امر کے نہ کرنے سے ناراض ہوں جو خلاف شرع نہ ہو اگر خلاف شرع کسی کام کا حکم دیں تو ان کی فرماں برداری جائز نہیں ہے اگر اس پر وہ ناراض ہو جائیں تو ناراض ہونے کی پرواہ نہ کرے کیونکہ اُن کی ناراضگی سے اللہ جل شانہ ناراض نہ ہوں گے بلکہ راضی ہوں گے خوب سمجھ لیں۔ ہاں ان کی بے ادبی نہ کرے خود اپنے دین پر پکا رہے اُن کے ساتھ گناہوں میں شریک نہ ہوں اُن سے خود بحث مباحثہ کرنے کے بجائے والد صاحب کے دوستوں کے ذریعہ اور خالہ کے ذریعہ والدہ صاحبہ کو سمجھائیں۔

(حقوق والدین)

جو شخص بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے اور ان کی ہر آرزو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے آرام میں اس کا آرام ہے۔ ان کے دُکھ درد میں اس کا دُکھ درد ہے ان کی خوشی میں اُس کی خوشی ہے۔ ایسے آدمی کے لئے جنت لازم ہے اور اس کا سارا گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جو شخص بوڑھے ماں باپ کی زندگی پانے کے باوجود ان کی خدمت کر کے ان کو خوش کر کے جنت حاصل نہ کر سکے اس کی بڑی بد قسمتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص بوڑھے والدین کی زندگی پالے پھر ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر سکے اس پر ہلاکت و بر بادی ہے۔ اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے ممبر کی ہر سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے آمین کہا۔ صحابہ کرام کے وجہ معلوم کرنے پر فرمایا کہ جب پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل امین نے فرمایا کہ اس شخص پر ہلاکت و بر بادی ہے جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو سکی اس پر ہلاکت و بر بادی ہے اور جب دوسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو جبرئیل امین نے فرمایا اس پر ہلاکت و بر بادی ہے جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کا ذکر ہو اور آپ پر درود نہ بھیجے اور جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل امین نے فرمایا کہ اس پر بھی ہلاکت و بر بادی ہے کہ جس نے بوڑھے والدین کو پاکر جنت حاصل نہ کیا تو میں نے جبرئیل کی تینوں بد دعاؤں پر آمین کہا۔ اب ناظرین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماں باپ کے حقوق ہمارے اوپر کیا ہیں اور ہم ان کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں اور کہاں تک ہم ان کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ (مسلم شریف۲/۳۱۴)


ماں باپ کا احترام و اکرام دل سے بھی کریں اور زبان سے بھی عمل سے بھی اور برتاؤ سے بھی اس میں اکرام و احترام کی چند جزئیات ہیں

اول تو یہ کہ باپ کے آگے مت چلنا۔

دوسرے یہ کہ جب کسی جگہ بیٹھنا ہو تو باپ سے پہلے مت بیٹھنا۔ تیسرے یہ کہ باپ کو نام لے کر مت پکارنا۔

چوتھے یہ کہ باپ کی وجہ سے کسی کو گالی مت دینا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے باپ کو کوئی ناگوار بات کہہ دے تو اس کو یا اُس کے باپ کو گالی مت دینا کیونکہ اُس کے جواب میں وہ پھر تمہارے باپ کو گالی دے گا اور اس طرح سے تم اپنے باپ کو گالی دلانے کا سبب بن جاؤ گے۔

واضح رہے کہ یہ نصیحتیں باپ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں والدہ کے حق میں بھی ان کا خیال رکھنا لازم ہے۔

اور یہ کہ باپ کے آگے مت چلنا اس سے وہ صورت مستثنی ہے جس میں باپ کی خدمت کی وجہ سے آگے چلنا پڑے مثلاً راستہ دکھانا ہو یا اور کوئی ضرورت در پیش ہو۔


دوستو ! ماں باپ کو ایذاء دینا ان کو ستانا ایک ایسا زہریلا سلسلہ ہے جو نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی باپ کی رضا مندی پر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی پر ہے۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین آدمی کی دعائیں بہت جلدی قبول ہو جاتی ہیں اور ان کی دعائیں قبول ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے۔ (1) مظلوم کی بددعا ظالم کے حق میں۔ (۲) مسافر کی دعاء حالت سفر میں۔ (۳) والدین کی بددعاء اولاد کے حق میں۔ اس لئے ماں باپ کی بد دعا سے بچو۔ ان کا دل نہ دُکھاؤ۔( بحوالہ معارف القرآن۲/۵۹)

ماں باپ پر بھی اولاد کے کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ ان کی ادائیگی ماں باپ پر لازم ہوتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کا ایک اچھا نام رکھا جائے۔ اور پیدائش کے ساتویں دن یا چودہویں یا اکیسویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کردیں اور اس کے بعد سر منڈوادیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کر دیں اور اس کو اچھی تعلیم اور اچھی تربیت دیں۔ یہ تمام ذمہ داریاں بچہ کے بالغ ہونے سے قبل ماں باپ کے ذمہ عائد ہوتی ہیں اور جب بچہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی میں تاخیر نہ کریں۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ اگر بچہ بالغ ہو جانے کے بعد ماں باپ اس کی شادی میں لا پرواہی کریں اور تاخیر کرتے رہیں جس کے نتیجہ میں بچہ معصیت میں مبتلا ہو جائے تو اس معصیت کا و بال ماں باپ کے سر پر ہو گا۔ (معارف الحدیث صفحہ ۶/۴۲)۔ اللہ ربّ العزت ہم سب کو پیغمبر علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور جن کے والدین باحیات ہے ان کی عمر میں خوب برکت عطافرمائے اور جن کے والدین وفات پاچکے ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین یارب العالمین۔